BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 December, 2006, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ تحریک آزادی کا زور ٹوٹ گیا ہے‘

جے کے ایل ایف کے رہنما امان اللہ خان
امان اللہ خان جماعت کی سربراہی چھوڑنے کے بعد اب ایک بزرگ رہنما کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے۔
علیحدگی پسند جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کے حالیہ بیانات سے کشمیر کی حقِ خود ارادیت کی تحریک کا زور ٹوٹ گیا ہے اور کشمیر پر موقف کمزور ہوگیا ہے۔

منگل کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ پاکستان حکومت نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے بارے میں اپنے مؤقف سے اب ’یو ٹرن‘ لے لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مسئلہ کشمیر پر برف پڑ چکی ہے جِسے پگھلانے کے لیے نو جنوری سے پاکستان اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر سمیت مختلف ممالک میں ان کی جماعت ایک مہم شروع کرئے گی۔

امان اللہ خان کے مطابق وہ سفارتی اور سیاسی سطح پر کشمیری عوام اور عالمی اداروں کو مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے متوجہ اور سرگرم کریں گے۔

امان اللہ خان نے کہا ہے کہ جمہوریت اور اسلام کے ٹھیکیدار کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں ہونے والی بات چیت سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کشمیر میں شدت پسندی کی حمایت کی اور کہا کہ اُسے دہشت گردی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ علیحدگی یعنی ان کے بقول ’ آزادی‘ کی تحریک ہے اور مسلح کارروائیوں کی وجہ سے ہی مسئلہ کشمیر زندہ ہے۔

امان اللہ خان نے کہا کہ کارگل جنگ کی وجہ سے کشمیر کی مسلح جدوجہد کو دہشت گردی کا ٹھپہ لگا ہے۔

انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ انیس سو ساٹھ تک بھارت میں کئی ایسے افراد تھے جو اپنی حکومتوں پر کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ لیکن ان کے بقول مختلف اوقات میں کی گئی پاکستان کی حماقتوں کی وجہ سے وہ حمایت بھی ختم ہوگئی۔

انہوں نے پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے اس بیان کو درست قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئین کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں اور پاکستان نے اُسے کبھی اپنا اٹوٹ انگ نہیں کہا۔

امان اللہ نے مطابق چیف سیکریٹری کشمیر کا اپنا نہیں ہوتا بلکہ پاکستان سے آتا ہے۔

لیکن علیحدگی پسند کشمیری رہنما نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے خودمختار ہونے کے بارے میں دفتر خارجہ کی ترجمان کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں صدر، وزیراعظم، اسمبلی اور الیکشن کمیشن سمیت کئی ادارے ہیں لیکن چیف سیکریٹری ان کا نہیں ہوتا بلکہ پاکستان سے آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہو یا شمالی علاقہ جات انہیں خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ علاقے پاکستان کی کالونی ہیں اور انہیں کسی قسم کی خود مختاری حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کشمیر کے حکمرانوں اور منتخب نمائندوں کی نکیل مری اور راولپنڈی میں بیٹھے جرنیلوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان حکومت ایسے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

ان کی نیوز کانفرنس کا مقصد ’جے کے ایل ایف‘ کے مرکزی اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں آگاہی دینا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو ہونے والے پارٹی اجلاسوں میں انہوں نے جماعت کی سربراہی چھوڑ دی ہے اور اب وہ ایک بزرگ رہنما کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے۔

ان کے مطابق تنظیم نے اپنا نیا چیئرمین ایڈووکیٹ ایس ایم صغیر کو منتخب کیا ہے جبکہ ایس ایم شعیب کو سیکریٹری جنرل اور راجہ مظہر اقبال کو سیکریٹری اطلاعات منتخب کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد