’یاسین ملک کے ساتھ اتحاد نہیں ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک علیحدگی پسند تنظیم’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ‘ کے سربراہ امان اللہ خان نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں یاسین ملک کی زیر قیادت علیحدگی پسند تنظیم ’لبریشن فرنٹ‘ کے ساتھ اتحاد کی کوششیں ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کے روز اپنی تنظیم کے مرکزی ساتھیوں کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امان اللہ خان نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ برس قبل جب یاسین ملک پاکستان آئے تھے تو اس وقت کشمیر کی دونوں علیحدگی پسند تنظیموں نے اتحاد کے بارے میں بات چیت شروع کی تھی۔ ان کے مطابق جب دونوں جماعتوں کے نمائندوں نے اتحاد کے لیے طریقہ کار وضح کرلیا اور دس نکاتی فارمولے پر اتفاق ہوگیا تو بعد میں گزشتہ برس تیرہ نومبر کے اجلاس میں یاسین ملک گروپ کے نمائندوں نے پچھلے چار اجلاسوں میں اتحاد کی بنیاد کے بارے میں متفقہ نکات سے انحراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک گروپ کے ایسے رویے کے بعد ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ‘ کی مرکزی کمیٹی نے اپنے تئیس اپریل کے اجلاس میں تفصیلی غور کے بعد اتحاد کی کوششوں کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے انہیں ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امان اللہ خان اور ان کی جماعت سے سیکریٹری جنرل سردار محمد صغیر نے نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ ان کی جماعت پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں آئندہ انتخابات میں اپنے نظریہ خودمختار کشمیر کے تحت حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں انہوں نے انتخابات میں بھر پور حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم ان کشمیری رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے الحاق پاکستان کا حلف اٹھانے کی شرط ختم کی جائے۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے انتخابات میں یہ جماعت حصہ لیتی رہی ہے لیکن پاکستان سے الحاق کا حلف نہ اٹھانے کی وجہ سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’کشمیر: جرات اور نرمی کا متقاضی‘18 January, 2006 | انڈیا ’کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیں‘12 March, 2006 | پاکستان ’کشمیر کو وفاقی جمہوریہ بنایا جائے‘01 April, 2006 | پاکستان ’مظفر آباد کی جگہ نیا شہر بسایا جائے‘26 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||