’گھر جانے کو دل کرتا ہے۔۔۔‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اکہتر سالہ صدر راجہ ذوالقرنین نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے آر پار سفر کرنے کے لئے طریقۂ کار کو آسان بنایا جائے۔ راجہ ذوالقرنین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے ہمراہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے آباء و اجداد کی وہاں جائیداد ہے اور سرینگر میں گھر ہے، میں نے بچپن وہاں گزارا ہے، تعلیم وہیں سےحا صل کی ہے، میرے دوست یار ہیں اور کئی تعلق دار ہیں۔‘ صدر راجہ ذوالقرنین کا تعلق کشمیر کے ضلع بھمبھر سے ہے اور ان کے والد راجہ خان بہادر افضل سن انیس سو سینتالیس سے قبل ڈوگرہ حمکران مہاراجہ ہری سنگھ کے دورۂ حکومت میں صوبہ جموں کے گورنر رہ چکے ہیں۔ راجہ ذوالقرنین نے برصغیر کی تقسیم سے قبل اپنی ابتدائی تعلیم سرینگر کانوینٹ سکول اور دلی میں ماڈرن ہائی سکول سے حاصل کی لیکن وہ برصغییر کی تقسیم کے بعد آج تک دوبارہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر نہیں جاسکے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا: ’میرا بڑا دل کرتا ہے کہ عمر کے اس آ خری حصے میں مرنے سے پہلے ادھر جاؤں اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کر جاؤں اور ان کو وہاں اپنی جگہ دکھاؤں جہاں ہم رہتے تھے ان کی واقفیت کرواؤں اور جو ہمارے تعلق والے وہاں رہ گئے ہیں ان سے ملوں۔‘ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کے نتیجے میں منقسم کشمیری خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لئے مظفرآباد اور سرینگر کے علاوہ راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس شروع کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ پیدل آر پار جانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر چند ایک کراسنگ پوائنٹ بھی کھولے گئے۔
لیکن راجہ ذوالقرنین نے کہا کہ لائن آف کنڑول کے دونوں جانب آنے جانے کی سہولت منقسم خاندانوں تک ہی محدود نہ رکھی جائے بلکہ اور لوگوں کو بھی اس سفر کی سہولت ہونی چاہیے اور ان میں سیاست دان بھی شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا منصب اس کے آڑے نہیں آنا چاہیے اور اس کی وجہ سے مجھے ریاست کے دوسری طرف سفر کے حق سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے اور یہ کہ مجھے موقع دیا جائے کہ میں وہاں جاؤں۔‘ انہوں نے کہا کہ’میرے جذبات دوسرے شہریوں سے مختلف نہیں ہیں اور سیاست دان دنیا کی الگ مخلوق نہیں، وہ بھی پہلے عام شہری ہوتا ہے اور پھر سیاست دان۔‘ انہوں نے کہا کہ’سیاست دان ہونے کی بنیاد پر ہمیں لائن آف کنڑول کے آر پار سفر کرنے سے محروم نہیں رکھا جائے بلکہ سب کو سفر کی اجازت ہونی چاہیے۔‘ راجہ ذوالقرنین نے کہا کہ’یہ ہم سب کا حق ہے ہم سرینگر جائیں اور وہاں کے لوگ کشمیر کے اس حصے میں آئیں۔‘ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے آپس میں تعلاقات اور ملاقاتوں سے مسئلہ کشمیر کے حل میں بھی مدد ملے گی۔ کشمیر کے دونوں طرف منقسم خاندانوں کو محدود پیمانے پر لائن آف کنڑول کے آر پار سفر کی اجازت تو ہے لیکن بٹے ہوئے خاندانوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ ان کو سفر کی خاطر اجازت نامہ کے حصول کے لئے ایک طویل مشکل اور پچیدہ طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے۔ کشمیر کے اس علاقے کے صدر راجہ ذوالقرنین لوگوں کی اس شکایت سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’میں کئی ایسےلوگوں کو جانتا ہوں جو دو دوسال سے سرینگر جانے کے لئے اجازت کے انتظار میں ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ’میرے عزیز کی اہلیہ کے ماموں اور دوسرے رشتہ دار سرینگر میں ہیں اور انہوں نے کوئی دو سال قبل بس پر سفر کی خاطر اجازت نامے کے لئے درخواست دی تھی لیکن وہ ابھی تک اجازت کے لئے انتظار کر رہے ہیں۔‘ راجہ ذوالقرنین نے ہندوستان اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ لائن آف کنڑول کے آر پار سفر کرنے کے لئے طریقۂ کار کو بھی آسان بنایا جانا چاہیے اور اجازت نامے کے بجائے صرف ریاستی باشندے کے سرٹیفکیٹ کو ہی سفری دستاویز تصور کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||