کشمیر کی’مدر ٹریسا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زير انتظام کشمیر کی رہنے والی پینتالیس سالہ سعیدہ نجم شکور انسانی ترقی کے لیے اس قدر سرگرم ہیں کہ اپنے وطن میں وہ’مدر ٹریسا‘ کہلاتی ہیں۔ انہوں نے تیرہ سال قبل پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پونچھ کی بیس خواتین کے ساتھ مل کر امداد باہمی کا جو چھوٹا سا ادارہ قائم کیا تھا وہ آج پچاس ہزار خواتین کا ایک ہمہ گیر نیٹ ورک بن چکا ہے جس کے ساتھ چھ سو غیرسرکاری انجمنیں جُڑ چُکی ہیں۔ گزشتہ دنوں سعیدہ شکور نے سرینگر میں منعقدہ آر پار کشمری خواتین کی کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں ان کے ہمراہ ایک اور خاتون مندوب مِیرا نے بتایا ’سعیدہ کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مدر ٹریسا کہا جاتا ہے کیونکہ وہ غریبی کے خلاف جہاد کی علم بردار بن چکی ہیں اور عملی طور پر انہوں نے دکھا دیا کہ خواتین اپنے بل پر معاشی انقلاب لا سکتی ہیں‘۔ کانفرنس کے دوران بی بی سی کے ساتھ ایک مختصر گفتگو میں بیگم شکور نے بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں بھارت کے کشمیر میں بھی کام کرنے کا موقع ملے، کیونکہ ان کا آبائی ضلع پونچھ، کنٹرول لائن کی وجہ سے ہندوستان اورپاکستان کے درمیان منقسم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’پرابلم تو دونوں طرف ہے۔ پسماندہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے تو تنازعات کو حل کرنے میں مدد ملے گی، کیونکہ تنازعات میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں‘۔ بیگم شکور کا تعلق انڈین کشمیر کے سری نگر ضلع سے تھا اور تقسیم کے وقت ان کے والدین ہجرت کر کے مظفرآباد چلے گئے اور پھر پونچھ میں سکونت اختیار کر لی۔ ’وومنز ویلفیئر آرگنائزیشن‘ پونچھ سے تعلق رکھنے والی سعیدہ شکور کہتی ہیں کہ اس سال دسمبر تک تنظیم میں شامل ہونے والی انجمنوں کی تعداد نو سو تک پہنچ جائے گی۔ غریب اور نارسا خواتین میں خودانحصاری اور خوداختیاری پیدا کرنے کے لیے بیگم شکور کا ادارہ کم پڑھی لِکھی خواتین کی فنی تربیت کرتا ہے اور انہیں آسان قرضے فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ پسماندہ خواتین کے پاس دستیاب مویشی یا زمین جیسے وسائل کا پیدواری استعمال کرکے ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش کرتاہے۔ بیگم شکور کے مطابق’خواتین میں محرومی کا احساس ہے۔ ہم وہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔میری شادی تیس سال قبل ضلع راولا کوٹ میں ہوئی۔میں نے دیکھا کہ وہاں تو لڑکیوں کا کوئی سکول ہی نہیں۔ میں کم پڑھی لکھی تھی، لیکن میں نے وہاں لڑکیوں اور بڑی عورتوں کو پڑھانا شروع کیا۔ بعد میں حکومت نے وہاں سرکاری سکول قائم کرلیا۔ حکومت کو کام کرنے پر مجبور کرنا ہے، یہی ہماری پالیسی ہے‘۔ اقوام متحدہ اور انسانی ترقی کے للیے سرگرم عالمی تنظیم ایکشن ایڈ بیگم شکور کے کام سے متاثر ہوکر ان کے ادارے کی مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔ سماجی بہبود سے متعلق سرکاری سکیموں پر عمل آوری کا بیگم شکور نے ایک نیا فارمولہ متعارف کروایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت کوئی سکیم متعارف کرتی ہے تو ہم پہلے علاقے کا سروے کرتے ہیں۔ ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر کیا سہولیت چاہیے۔ اگر وہ بجلی یا پانی کے لیے ترس رہے ہوں اور حکومت سڑک بنانا شروع کر دے تو انسداد غربت کا سفر لمبا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کی رائے لے کر ہی سرکاری سکیموں کو لاگو کرواتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’ خواتین کی ایمپاورمنٹ تقریروں اور سیمیناروں سے نہیں ہوگی۔ خواتین کے مسائل پر بات کرنے والی اہل ثروت خواتین کے خلوص پر مجھے شک نہیں ہے، لیکن ضرورت ہے گراس روٹس میں کام کرنے کی۔ ہم عام خواتین کی زندگیوں میں جھانک کردیکھتے ہیں کہ ان کے مسائل کیا ہیں اور پھر ان مسائل کا حل ان کے پاس ہی دستیاب وسائل میں ڈھونڈتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں کشمیر:خواتین کی مشترکہ کانفرنس 16 November, 2007 | انڈیا فوج کو عمارتیں چھوڑنے کا حکم29 October, 2007 | انڈیا کشمیر: جنگ بندی اعلان اور ممکنہ ردعمل09 October, 2007 | انڈیا دشمن کون؟ تنہائی، پہاڑ یا سردی23 May, 2006 | انڈیا سرینگر-مظفر آباد: مشکلوں کی بس07 April, 2006 | انڈیا خودمختاری آئین کے اندر ہی: منموہن 25 February, 2006 | انڈیا کشمیر:7سالوں میں 58 ہزارذہنی مریض 09 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||