BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 November, 2007, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:خواتین کی مشترکہ کانفرنس

کانفرنس
کانفرنس کا افتتاحی سیشن جذباتی یاداشتوں کے ساتھ شروع ہوا
ہندوستان کی تقسیم کے ساٹھ سال بعد پہلی بار ہندو پاک کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تین روزہ کانفرنس سرینگر میں منعقد ہو رہی ہے۔

کانفرنس کا اہتمام نئی دلّی میں مقیم سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ری کانسیلیشن اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی دو یونیورسٹیوں نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

کانفرنس کا افتتاحی سیشن جذباتی یاداشتوں کے ساتھ شروع ہوا ۔ پاکستان کے زير انتظام کشمیر سےجو خواتین اس کانفرنس میں شرکت کر رہی ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے۔

ان مندوبین نے اپنی تقریروں میں اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان ٹیلیفون رابطہ نہیں ہے۔

کانفرنس کے حاشیہ پر بی بی سی کے ساتھ مختصر گفتگو کے دوران میر پور (پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر زاہدہ قاسم نے بتایا کہ’میں حیران ہوں ہم یہاں سے آزاد کشمیر یا پاکستان فون نہیں کرسکتے۔ گھروالوں کو یہ کہنے کے لیے کہ میں صحیح سلامت پہنچ چکی ہوں، مجھے پہلے سعودی عرب اپنے بھائی کو فون کرنا پڑا جس نے گھر والوں کو میرا پیغام دیا۔ ہم وہاں سے یہاں فون کرتے رہتے ہیں، لیکن یہاں سے بات کرنے پر پابندی ہے‘۔

انہوں نے’اس موقعہ پر پھر فصل بہاراں آئے گی‘ عنوان سے ایک نظم پڑھ کر محفل پر رقت طاری کردی ۔ڈاکڑ زاہدہ کا تعلق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ ضلع میں چنڈک قصبہ سے ہے جہاں سے ان کے اہل خانہ اُنیس سو پینسٹھ میں ہجرت کرکے میر پور چلے گئے تھے۔

سرینگر کے پائین شہر سے تعلق رکھنے والی، پاکستان کے زير انتظام کشمیر سے آئی ایک اور مندوب ڈاکٹر نسیمہ جوگزئی کہتی ہیں کہ’ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کا مرکز بچھڑے کنبوں کا ملن ہونا چاہیے تھا۔ میری والدہ نے چار سال تک کوشش کی کہ انہیں مظفرآباد بس یا پھر واگہ سرحد کے ذریعہ یہاں آنے کی اجازت دی جائے، لیکن اجازت نہیں ملی۔ پھر جب ہمیں یہ اطلاع دی گئی کہ حکومت ہند انہیں ویزا دے رہی ہے تو اُس وقت وہ انتقال کرچکی تھیں‘۔

ڈاکٹر جوگزئی نے اپنی تقریر میں انڈین کشمیر سے فوجی انخلا کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہاں کے لوگوں کے دل ودماغ پر خوف طاری ہے۔

ذاکٹر
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر زاہدہ قاسم

ایک سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ’پاکستان کے زير انتظام کشمیرمیں عام لوگ خوف زدہ نہیں ہیں اور وہاں عام زندگی میں فوج یا فوجی سرگرمیوں کا کوئی نام و نشاں نہیں ہے‘۔

برطانیہ کے مانچسٹر شہر میں ایک ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ وابستہ سمینہ خان کا کہنا تھا کہ وہ انڈین کشمیر میں پاکستانی کشمیر اور پاکستان کے ساتھ ٹیلیفون رابطوں پر لگی پابندیوں سے نہایت پریشان ہیں۔ سمینہ کی خاندانی جڑیں بھی انڈین کشمیر کے ہی شمالی قصبہ اوڑی کے وانی گام علاقہ میں ہیں جہاں سے ان کے اجداد نے اُنیس سو سینتالیس کی تقسیم کے وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہجرت کرلی تھی۔ لیکن سمینہ اپنے مادروطن سے متعلق جذباتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ’کشمیر کے دونوں حصوں کے لوگوں کے درمیان کوئی دیوار نہ رہے‘۔

حکومت ہند کے منصوبہ بندی کمیشن کی رُکن ڈاکٹر سیدہ حمید نے اپنے صدارتی خطبہ میں اس کانفرنس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ہند و پاک کے درمیان امن عمل اور مفاہمت کی جو مشقیں ہو رہی ہیں ان میں خواتین کا کوئی نمایاں رول نہیں ہے۔ لیکن یہاں سرینگر میں اس کانفرنس کا انعقاد ثابت کرتا ہے کہ خواتین کو اب نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے آئیں مندوبین کے تاثرات کے ردعمل میں ڈاکٹر سیدہ نے کہا کہ ’حکومت ہند جموں کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے سے متعلق سنجیدہ غوروخوض کررہی ہے‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہلاک کیے گئے جنگجوؤں کے بچوں اور ان کے پسماندگان کی امداد اور بحالیات کی ایک تجویز بھارتی پلاننگ کمیشن کے زیرغور ہے جس پر’عنقریب عمل کیا جائے گا‘۔

کانفرنس میں سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ری کانسیلیشن کی سربراہ سوشوبھا بھاروے نے کہا کہ ان کا ادارہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نفرت انگیز فضا کو ختم کرنے اور مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد