کشمیر: بھارتی فوج کی تعداد کا معمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندنواز سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے ریاست میں ہندوستانی افواج کی موجودگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سخت گیر مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ اس سوال پر حکمران اتحاد کی دو اہم اکائیوں، کانگریس اور پی ڈی پی، کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیئے قائم آئینی ادارہ ’سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن‘ کے سربراہ ریٹائرڑ جسٹس علی محمد میر کے احتجاجاً مستعفیٰ ہو جانے سے ایوان میں جاری بحث میں مزید شدّت پیدا ہو گئی ہے۔ مسٹر میر نے الزام عائد کیا ہے کہ کمیشن کی سفارشات کو ’ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا تھا‘۔ گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کے بانی راہنما مظفر حسین بیگ نے انسانی حقوق پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’جموں کشمیر میں چھ لاکھ سے زائد فوج ہے اور اس میں سب کے سب فرشتے تو نہیں ہونگے۔ کچھ غلط عناصر بھی ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘۔ دوسرے روز وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس خیال کی یوں تردید کی: ’افواج کی تعداد کے بارے میں مبالغے سے کام لیا جارہا ہے۔ ریاست میں صرف چار ڈویژن فوج ہے، تین ڈویژن جموں صوبے میں اور ایک کشمیر میں ہے۔ فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ہے جبکہ پولیس اور نیم فوجی عملے کی مجموعی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار ہے۔ اس طرح کل ملا کر دو لاکھ پانچ ہزار فوج ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’افسوس ہے کہ مبالغہ آمیز اعداد و شمار اسمبلی سے جاری ہوتے ہیں‘۔
جموں کشمیر میں تعینات افواج کی تعداد سالہاسال سے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا تخمینہ پانچ اور چھ لاکھ کے درمیان ہے جبکہ علیٰحدگی پسندوں کی سوچ اس سے مختلف ہے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان نعیم احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ کشمیر میں فوج، نیم فوجی دستوں، فوج کی سرپرستی میں سرگرم مسلح دیہی دفاعی کمیٹیوں اور دیگر مسلح افراد سمیت کل دس لاکھ سے زائد ہتھیاربند سپاہی میں موجود ہیں‘۔ عالمی شہرت یافتہ خاتون ارون دھتی رائے اور حقوق انسانی کے رضاکار گوتم نولکھا جیسے ہندوستانی دانشوروں نے اپنی تحریروں میں کشمیر میں تعینات انڈین افواج کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد بتائی ہے۔
پچھلے سال مقبول ہندوستانی جریدے ’آوٹ لُک‘ میں ارون دھتی نے سوال اُٹھایا تھا کہ ’عراق میں جہاں دنیا کی خطرناک ترین انسرجنسی کا سامنا ہے، صرف ڈیڑھ لاکھ امریکی افواج لڑ رہے ہیں۔ فوج اور سرکاری سطح پر یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ کشمیر میں ایک مخصوص مدت کے دوران دیڑھ سے دو ہزار کے درمیان ملیٹنٹ سرگرم ہوتے ہیں۔ پھر یہاں پر پانچ لاکھ انڈین افواج کیا کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ فوج ملی ٹنٹوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیئے بھی ہے‘۔ اگر نئی دلّی نے کبھی کشمیر میں فوجی تعیناتی کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں تو پھر ان اندازاوں کی بنیاد کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہندوستانی صحافی اور رضاکار گوتم نو لکھا نے بی بی سی کو نئی دلی سے فون پر بتایا، ’ کئی سال تک میں اخباروں میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے سربراہوں کے بیانات ریکارڑ کرتا رہا ہوں۔ ان معلومات کی بنا پر میں کہتا ہوں کہ مظفر بیگ سچ کے زیادہ قریب ہیں اور وزیر اعلی کے بیان کی صحت مشکوک ہے۔ کشمیر میں تو ہر پانچ قدم پر مورچہ ہے۔ وہاں تو صرف راشٹریہ رائفلز کی تعداد ستّر سے اسّی ہزار کے بیچ ہوگی اور یہ فورس فوج کا حصہ ہے نہ نیم فوج کا‘۔
حقوق انسانی کے لیئے کام کرنے والی کشمیر کی مقامی تنظیم کولیشن آف سول سوسائٹیز کے سکریٹری خُرم پرویز نے بتایا کہ انڈین ہوم منسٹری سے جو سالانہ رپورٹ جاری ہوتی ہے اس کے مطابق کشمیر میں خالص فوج کی تعداد چار لاکھ اکیاسی ہزار ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’انڈیا کے دفاعی بجٹ کی تفصیلات بھی اس سلسلے میں رہنمائی کرتی ہیں۔ اس میں جب وہ عام اخراجات اور مراعات کی بات کرتے ہیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ کشمیر میں کتنی کنسنٹریشن (فوجی جماؤ) ہے‘۔ پچھلے چند ماہ سے فوجی انخلا ہندنواز اور ہندمخالف دونوں سیاسی کیمپوں کا مشترکہ نعرہ رہا ہے۔ ریاست کی سب سے بڑی اور پرانی ہندنواز جماعت نیشنل کانفرنس یا این سی کے صدر نے پاکستانی دورے سے واپسی کے بعد کئی مرتبہ یہ مطالبہ دوہرایا ہے کہ آبادی والے علاقوں سے فوج کو نکالا جائے۔
این سی تو خیر اپوزیشن میں ہے لیکن کانگریس کے ساتھ اقتدار میں شریک پی ڈی پی نے بھی اس حوالے سے ’پرو پیپل‘ مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔ پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا استدلال ہے کہ ملی ٹنسی کا مقابلہ کرنے کے لیئے مقامی پولیس کو مضبوط کیا جائے۔ پی ڈی پی کے اس سٹینڈ سے مخلوط سرکا ر کے اندر اکثر کشیدگی رہی ہے اور اکائیوں کے تعلقات میں آج بھی خاصا تناؤ پایا جاتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اسمبلی ہال میں پی ڈی پی کے بانی رہنما اور نائب وزیر اعلی مظفرحسین بیگ کے بیان کو وزیراعلٰی کی طرف سے ’مبالغہ‘ قرار دینا اس تناؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||