فوج کو عمارتیں چھوڑنے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں اور کمشیر میں افواج سے کہا گيا ہے کہ وہ ان سکولوں اور ہسپتالوں کو خالی کردیں جہان انہوں نے برسوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔ افواج کے انخلا سے متعلق یہ فیصلہ مرکزي وزیر برائے دفاع اے کے انٹونی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گيا ہے اور فوج کو تیس نومبر سے قبل سکولوں اور ہسپتالوں سے نکل جانے کے لیے کہا گيا ہے۔ افواج کو جن مقاموں سے ہٹنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں جنوبی کشمیر کے کوکیرناگ میں واقع ایک سیاحوں کے لیے مخصوص عمارت اور سری نگر میں واقع ایک کلب بھی شامل ہے۔ تاہم وزیر دفاع نے ذاتی زمینوں اور باغات سے افواج کے انخلا سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسی زمینوں کے لیے کرایہ پر نظر ثانی کرے گی۔ اسّی کے عشرے میں جب وادی میں شدت پسندی کا دور شروع ہوا تو افواج نے کئی سکولوں اور ہسپتالوں کو اپنے قبضے میں لے لیاتھا۔ ریاست کے حکمراں اتحاد میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا مطالبہ ہے کہ داخلی سیکورٹی کی ذمہ داری فوج سے ریاستی پولیس فورسیز کو منتقل کردی جائے۔ تاہم مرکزی حکومت نے ریاست میں تعینات فوج کے انخلا سے انکار کیا ہے۔ دو ہزار تین سے جموں اور کشمیرکی سرحد پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان فائر بندی چل رہی ہے۔ اور دونوں ممالک مستقل طور پر باہمی امن مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں بھارتی کشمیر عالمی حدت کی زد میں 25 October, 2007 | انڈیا کشمیر:’بارودی سرنگوں پر پابندی‘23 October, 2007 | انڈیا ’کشمیر: سکولوں سے فوجی نکالیں‘21 October, 2007 | انڈیا کشمیر: جنگ بندی اعلان اور ممکنہ ردعمل09 October, 2007 | انڈیا کشمیر: دو میجرز سمیت 12 ہلاک03 October, 2007 | انڈیا انخلاء: کمیٹیوں کی تشکیل کاخیرمقدم31 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||