BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 March, 2007, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انخلاء: کمیٹیوں کی تشکیل کاخیرمقدم

کشمیر میں فوج(فائل فوٹو)
کشمیر سے فوج کے انخلاء کا معاملہ آج کل بھارت میں زیرِ بحث ہے
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر سے فوجی انخلاء اور یہاں تعینات فوجیوں کو حاصل خصوصی اختیارات ختم کرنے کے حوالے سے بھارتی حکومت نے تین اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پانچ جماعتی مخلوط حکومت کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست اعلیٰ مفتی محمد سعید نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ نئی دلّی کے اس فیصلے سے مطمئن ہیں اور اب ان کا وزیراعلیٰ کے ساتھ کوئی تناؤ نہیں ہے۔

مفتی سعید کے مطابق بھارتی حکومت نے ماہر افسران پر مشتمل دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو ریاست کے اندر فوجی اور نیم فوجی دستوں کی از سرِ نو تعیناتی کے علاوہ انہیں حاصل خصوصی اختیارات کے خاتمے سے متعلق تمام امکانات کا جائزہ لیں گی۔

بھارتی حکومت کے وزیرِ دفاع اے کے انتھونی کی سربراہی میں ایک تیسری اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی ان دونوں کمیٹیوں کی سفارشات کا جائزہ لے گی۔

اس سوال پر کہ آیا مفتی سعید نے کمیٹیوں کی تشکیل پر کسی مقررہ مدت کے تحت اتفاق کر لیا ہے تو انہوں نے کہا ’وزیر دفاع اور دفاعی سیکرٹری کے لیے ہم پتھر کی لکیر نہیں باندھ سکتے۔ یہ بہت بڑا فیصلہ ہے‘۔

مفتی محمد سعید کی جانب سے کمیٹیوں کی تشکیل کے خیر مقدم سے ریاست میں قبل از وقت انتخابات کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے چند ہفتوں سے کئی بار پی ڈی پی کے رہنماؤں نےحکومت سے الگ ہونے کے اشارے دیے تھے، یہاں تک کہ مفتی محمد سعید نے خود بھی دلّی میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات سے قبل کہا تھا ’اس معاملے میں ایک، ایک دن قیمتی ہے اور ہم لوگوں کے مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘۔

اس دوران وزیراعلیٰ کشمیر غلام نبی آزاد کا مؤقف رہا ہے کہ جب تک ریاستی حکومت میں شامل سبھی جماعتیں تحریری طور یہ یہ اعتراف نہ کریں کہ جموں کشمیر میں حالات اُنیس سو اٹھاسی کی پوزیشن پر نہیں لوٹتے، فوجی انخلاء نہیں ہو سکتا۔

پہلی بار کشمیریوں کی کوئی گزارش دلّی والوں نے ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالی: مفتی سعید

مفتی سعید نے پریس کانفرنس کے دوران نئی دلّی میں وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سنہ دو ہزار ایک میں بی جے پی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خودمختاری کی قراردار رد کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مفتی سعید کا کہنا تھا’پہلی بار کشمیریوں کی کوئی گزارش دلّی والوں نے ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈال دی ہے‘۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اپنے حالیہ بیان میں پی ڈی پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان فوجی انخلاء کے معاملے پر پہلے سے متفق ہیں اور ’ہند نواز خواہ مخواہ کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں‘۔ اس بیان کی طرف مفتی کی توجہ مبذول کروائی گئی تو انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہوگی اگر واقعی ایسا ہوا ہے۔

جمعہ کو جب یہ خبر آئی کہ نئی دلّی نے پی ڈی پی کے مطالبات پر عمل کے لیے جائزہ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، تو پی ڈی پی کارکنوں نے لال چوک میں متعدد اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے دفاتر پر مشتمل پریس کالونی کے باہر آتش بازی کی اور پٹاخے پھوڑے۔

ادھر حزب اختلاف کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مفتی محمد سعید دس روز تک دلّی میں فوجی انخلاء کے معاملے پر ہندوستانی لیڈر شپ کے ساتھ مذاکرات کے بعد ’خالی ہاتھ لوٹے ہیں‘۔ عمر عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ کمیٹیوں سے تو اُلٹا نقصان ہوا ہے اور اب تو محض ایک بنکر ہٹانے کے لیے بھی کمیٹیوں کو سفارش کرنی ہوگی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد