BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 October, 2007, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر: سکولوں سے فوجی نکالیں‘

کشمیر میں استاد کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ
ٹیچرز فورم نے اگلے ہفتے ایک روزہ ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کی حراست میں ایک استاد کی مبینہ ہلاکت کے بعد وادی کے دُور دراز دیہات میں فوجی چھاؤنیوں کے قریب تعینات اساتذہ میں خدشات کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جموں کشمیر ٹیچرز فورم کے سربراہ عبدالقیوم وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کو ایک یادداشت بھی پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلع کپوارہ کےگردو نواح میں جہاں گزشتہ روز ایک استاد کو مبینہ طور فوجی اہلکاروں نے زیر چوب قتل کرڈالا، کم از کم دو سو ایسے اساتذہ تعینات ہیں جنہیں سکول پہنچنے کے لیے فوجی چھاؤنیوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق کپوارہ کے عبدالرشید کا ’قتل‘ دراصل ایک بہت بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

عبدالقیوم وانی کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل بھی کئی واقعات ہوئے جن میں اساتذہ کو فوجی اہلکاروں یا ان کے اعانت کاروں نے ہلاک کردیا۔ عبدالرشید کی ہلاکت اور بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خاتون اساتذہ محفوظ نہیں ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کو بتائیں گے کہ اُن متعدد سکولوں سے فوج اور نیم فوجی عملے کو نکالا جائے جہاں طلباء و طالبات اور اساتذہ کو بندوقوں کے سائے میں رہنا پڑ رہا ہے‘۔

فائل فوٹو
 اگر حکومت نے مقتول عبدالرشید کے قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تو وادی کے لاکھوں اساتذہ سڑکوں پر نکل آئیں گے
ٹیچرز فورم کے سربراہ

واضح رہے کہ ٹیچرز فورم نے کپوارہ کے استاد کی ہلاکت کے خلاف اگلے ہفتے ایک روزہ ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔

فورم کے سربراہ عبدالقیوم نے مزید بتایا کہ اگر حکومت نے مقتول عبدالرشید کے قاتلوں کے خلاف کارروائی نہیں کی تو وادی کے لاکھوں اساتذہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بعض حلقے کافی عرصے سے وادی سے مرحلہ وار فوجی انخلاء اور امن و امان کی ذمہ داری مقامی پولیس کو سونپنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں چند ماہ قبل مخلوط حکومت میں شامل اہم جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے ہندوستان کی حکومت کے ساتھ کشمیر کے آبادی والے علاقوں سے فوجی انخلاء کا معاملہ اُٹھایا تھا جس کے بعد ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی ہدایت پر تین کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔

سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید کا کہنا ہے:’ان کمیٹیوں نے مرکز کو اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس میں فوجی انخلاء سے متعلق سفارشات کی گئی ہیں۔ مجھے لگتا ہے اب مرکز کو دیر نہیں کرنی چاہیے‘۔

شبنم ہاشمی، سماجی رضاکار سماجی کارکن،انٹرویو
’ کشمیر میں فوج،انڈین جمہوریت کو خطرہ‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی مراکزپالیسی 'ان وزایبل'
فوجی موجودگی کو 'ان وزایبل' بنانے کے لیے
کشمیری عورت’ہم کہاں جائیں‘
ہندوستان میں مقیم کشمیریوں کی شکایات
اسی بارے میں
کشمیر:مظاہروں میں 25 زخمی
11 September, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد