BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حراستی قتل پر پرتشدد مظاہرے

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر
پولیس و نیم فوجی عملہ کو چوکس کردیا گیا ہے (فائل فوٹو)
ہندوستانی زیرانتظام کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں ایک سرکاری اُستاد کی فوجی حراست میں مبینہ ہلاکت کےخلاف چوبیس گھنٹوں تک جاری رہنے والے پرتشدد مظاہروں میں کئی پولیس جوانوں سمیت چالیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مظاہروں میں فوج اور ضلع انتظامیہ کی دو گاڑیوں کو مظاہرین نے نذرآتش کر دیا گیا۔

مشتعل مظاہرین کے مطالبے پر ضلع پولیس نے مقامی فوجی یونٹ کے خلاف قتل کا معاملہ درج کیا ہے اور ایک فوجی جوان کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔

اس سلسلے میں فوجی ترجمان کرنل منجیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ مقتول نے بحث و تکرار کے دوران فوجی جوان سے اس کی رائفل چھیننے کی کوشش کی اور جوان نے ذاتی بچاؤ میں گولی چلائی جسکی وجہ سے رشید نامی شخص ہلاک ہوگیا۔ تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج نے بھی علیٰحدہ طور پر تحقیقات شروع کردی ہے۔

ابھی تک ضلع میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس و نیم فوجی عملہ کو چوکس کردیا گیا ہے۔

ضلع کے ڈپٹی کمشنر اسفندیار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کپواڑہ کے راوتھ پورہ گاؤں کے رہنے والے عبدالرشید کی ہلاکت کے بعد مقامی لوگوں نے ان کی لاش تب تک دفنانے سے انکار کیا جب تک قصورواروں کو سزا نہ دی جائے۔ لوگوں نے لاش کو جلوس کی صورت میں تحصیل آفس پہنچایا جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس اور مظاہرین کے تصادم میں جمعہ کی شام سے سنیچر کی دوپہر تک کئی پولیس اہلکاروں سمیت چالیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

خمیازہ
 دو استانیوں کو روزانہ چوکی بل سے مارسری جنگلات سے ملحقہ واقع سکول تک تین کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا جس کے دوران انہیں کئی فوجی اہلکار تنگ کرتے تھے۔ رشید نے روزانہ آنے جانے میں مذکورہ استانیوں کے ہمراہ رہنے کا فیصلہ کیا، بس اسی کا خمیازہ بھگتنا پڑا انہیں
مقامی رہائشی

راوتھ پورہ کے مقامی رہائشی شکیل احمد کے مطابق ’عبدالرشید سرکاری محکمۂ تعلیم میں ڈیڑھ ہزار روپے ماہانہ اجرت کے عوض عارضی استاد کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والی دو استانیوں کو روزانہ چوکی بل سے مارسری جنگلات سے ملحقہ سکول تک تین کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا جس کے دوران انہیں کئی فوجی اہلکار تنگ کرتے تھے۔ رشید نے روزانہ آنے جانے میں مذکورہ استانیوں کے ہمراہ رہنے کا فیصلہ کیا، بس اسی کا خمیازہ بھگتنا پڑا انہیں۔‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران مقامی فوجی یونٹ کے بعض اہلکاروں نے کئی بار استانیوں پر فقرے کسے جس پر رشید نے اعتراض کیا۔ رشید کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اب تک دو مرتبہ رشید کی فوجی اہلکاروں کے ساتھ تکرار ہوچکی ہے۔ شکیل کے مطابق جمعرات کو فوجی اہلکاروں نے رشید کا شناختی کارڑ ضبط کرلیا تھا اور انہیں وارننگ دی تھی کہ ’آئندہ استانیوں کے ساتھ نظر آئے تو سبق سکھایا جائے گا۔‘

پولیس نے اس موقعہ پر اشک آور گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا (فائل فوٹو)

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح جب حسب معمول رشید مذکورہ استانیوں کے ہمراہ سکول کی طرف جا رہے تھے تو انہیں گرفتار کیا گیا ۔ ایک مقامی شہری نے کہا کہ ’جب رشید نے گرفتاری کےخلاف مزاحمت کرنا چاہی تو فوجی اہلکار نے اسکی ٹانگوں میں گولی مار دی۔ جب وہ گر پڑا اور چلانے لگا تو فوجیوں نے اس کی گردن پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جسکے نتیجہ میں وہ وہیں پر ڈھیر ہوگیا۔‘

یہ خبر آناً فاناً ضلع بھر میں پھیل گئی اور راوتھ پورہ و دیگر ملحقہ دیہاتوں سے لوگوں کی بڑی تعداد مارسری گاؤں میں پہنچ گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے فوج کی اُس جپسی گاڑی کو گھیرے میں لےلیا جس میں فوجی اہلکار رشید کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے سکول تک آگئے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق فوجی اہلکار وہاں سے فرار ہوگئے لیکن مظاہرین نے گاڑی کو نذرآتش کردیا۔ اس کے بعد مقامی تحصیلدار کی گاڑی میں ضلع انتظامیہ کے افسران موقعہ پر پہنچے تو ان پر بھی پتھراؤ کیا گیا جسکے نتیجہ میں ایک سرکاری گاڑی تباہ ہوگئی۔

مذمت
 جمعہ کے روز راوتھ پورہ اور ملحقہ دیہات میں کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں تاہم سنیچر کو پورے ضلع میں عام زندگی ٹھپ ہوگئی۔ ہندنواز اور ہند مخالف دونوں سیاسی گروپوں نے واقعہ کی مذمت کی ہے

پولیس نے اس موقعہ پر اشک آور گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا جسکے نتیجہ میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اس دوران مظاہرین نے رات بھر لاش کو سڑک پر رکھا اور احتجاج جاری رکھا ۔ سنیچر کی صبح حالات کی کشیدگی کو دیکھ کر ضلع پولیس نے فوج کی ٹیریٹورئل آرمی سے وابستہ مقامی نوجوان طارق کو رشید کے قتل میں ملوث قرار دے کر انہیں گرفتار کرلیا اور مقامی فوجی یونٹ کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرلیا۔

کپواڑہ کے معروف سماجی کارکن جاوید احمد میر نے بی بی سی کوبتایا کہ چوکی بل اور راوتھ پورہ علاقے میں عام لوگوں اور فوج کے درمیان مختلف سطحوں پر تصادم ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مسٹر میر کہتے ہیں کہ چوکی بل سے مارسری جنگلات تک جنگی سازوسامان ڈھونے کے لئے فوجی مقامی نوجوانوں اور سکول کے بچوں کو بیگار پر لے جاتے ہیں، جس پر اساتذہ اکثر اعتراض کرتے ہیں۔ رشید کے قتل سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ’جس سکول میں وہ تعینا ت تھا وہ عام بستی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور روزانہ اساتذہ اور استانیوں کو یہ فاصلہ پیدل طےکرنا پڑتا ہے۔ راستے میں کئی مقامات پر فوجی اہلکاروں کے ساتھ ان کا سابقہ پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے متعلق حکومت ہی کچھ کرسکتی ہے۔‘

جمعہ کے روز راوتھ پورہ اور ملحقہ دیہات میں کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں تاہم سنیچر کو پورے ضلع میں عام زندگی ٹھپ ہوگئی کیونکہ مقامی وکلا نے ضلع میں احتجاجی ہڑتال کا اعلان کردیا۔ ہندنواز اور ہند مخالف دونوں سیاسی گروپوں نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔

احتجاجفرضی جھڑپ اورقتل
ڈی این اے رپورٹ سے ثبوت بھی مل گئے
بھارتی فوجیتحویل میں ہلاکتیں
کشمیر پر ہیومن رائیٹس واچ کی رپورٹ
گجرات کا فرضی تصادم معاملہ اب فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔جعلی مقابلے
جعلی پولیس مقابلے پرمذہبی رنگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد