BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: کشمیری علماء کا نیا کردار

News image
 کشمیر کے معروف علماء اور آئما مساجد کو اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت خصوصی تربیت دی گئی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ماہِ رمضان کے دوران مذہبی رہنماؤں، آئما مساجد اور خطیب حضرات اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ناگہانی آفتوں اور دوسرے بحرانوں کے دوران احتیاتی تدابیر کے لیے آمادہ بھی کریں گے۔

ان پر یہ نئی ذمہ داری قدرتی آفات کے بارے اقوام متحدہ کے عالمی بیداری پروگرام کے تحت عائد ہوئی ہے۔ کشمیر کے معروف علماء اور آئما مساجد کوگزشتہ روز اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت خصوصی تربیت دی گئی۔

کشمیر انتظامیہ کے ڈویژنل کمیشنر محبوب اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تمام مذہبی رہنماؤں اور واعظوں نے پروگرام سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں میں مہم شروع کردی ہے‘۔

محبوب اقبال کے مطابق اقوام متحدہ دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے پروگرام مقامی انتظامیہ کے تعاون سے منعقد کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمارے یہاں مشکل یہ تھی کہ دیہات اور دوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگ سادہ لوح اور کم پڑھے لَِکھے ہونے کی وجہ سے ہر ناگہانی آفت کو قُدرت کا عذاب سمجھ کر احتیاتی تدابیر سے غافل رہتے ہیں۔ یہاں پر علماء اور خطیبوں کا کردار بنتا ہے‘۔

پچھلے بارہ سال سے سرینگر کی مسجد اقراء میں خطبہ دینے والے مولوی شوکت شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں اب تک کئی مذہبی اجتماعات میں بات کی ہے۔

News image
 ہمارے یہاں مشکل یہ تھی کہ دیہات اور دوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگ سادہ لوح اور کم پڑھے لَِکھے ہونے کی وجہ سے ہر ناگہانی آفت کو قُدرت کا عذاب سمجھ کر احتیاتی تدابیر سے غافل رہتے ہیں۔ یہاں پر علماء اور خطیبوں کا کردار بنتا ہے
محبوب اقبال

ان کا کہنا تھا کہ ’خطرہ تو خطرہ ہے لیکن لوگوں میں بیداری نہ ہو تو وہ آفت بن جاتا ہے۔ ہمیں لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بیماری بھی اللہ کی طرف سے آتی ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس بھی جاتے ہیں اور دوائی بھی لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ زلزلہ میں ڈیڑھ ہزار لوگ محض اس لیے ہلاک ہوگئے کہ کشمیریوں کے گناہ زیادہ ہوگئے تھے، جہالت ہے‘۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر حکومت نے اکتوبر دو ہزار پانچ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ڈزاسٹر منیجمنٹ کے حوالے سے باقاعدہ ایک محکمہ بھی تشکیل دیا اور ڈویژنل کمشنر کے مطابق اس حوالے سے کئی سطحوں پر کام ہورہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی حالیہ مہم اس حوالے سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ اس کے تحت لوگوں کے مذہبی جذبات کو ایڈریس کیا جارہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا کشمیر میں قدرتی بحران سے متعلق متفکر ہوجانا اس بات کا عندیہ ہے کہ یہاں ایسی آفات کا امکان قوی ہے۔

کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ اور زمینی حرکتوں کی تحقیق پر گہری نگاہ رکھنے والے پروفیسر محمد اسمٰعیل نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی پیشنگوئی کوئی نہیں کرسکتا تاہم تحقیق سے پتہ چلتا ہے اس پر عمل کرکے احتیاتی تدابیر پر عمل ہو تو تباہی کی شدت کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔

پرفیسر اسمٰعیل کا مزید کہنا تھا کہ ’کشمیر دُنیا بھر میں زلزلوں کے حوالے سے حساس ترین خطے یعنی زون پانچ میں آتا ہے۔ چٹانوں کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں ایک اور زلزلہ آئے گا لیکن اس کا وقت بتانا مشکل ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’احتیاتی تدابیر کے لیے لوگوں کو بیدار کرنے کی مہم بروقت اور انتہائی ضروری ہے‘۔

قدیم مسجد کیمسجد کی خراب حالت پر مظاہرے
ایک قدیمی مسجد کی خراب حالت کے خلاف احتجاج
معاشرہ بدل رہا ہے
اور ساتھ ہی کشمیری خواتین کا کردار بھی
اسی بارے میں
کشمیر:مظاہروں میں 25 زخمی
11 September, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد