انڈیا: کشمیری علماء کا نیا کردار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان پر یہ نئی ذمہ داری قدرتی آفات کے بارے اقوام متحدہ کے عالمی بیداری پروگرام کے تحت عائد ہوئی ہے۔ کشمیر کے معروف علماء اور آئما مساجد کوگزشتہ روز اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت خصوصی تربیت دی گئی۔ کشمیر انتظامیہ کے ڈویژنل کمیشنر محبوب اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تمام مذہبی رہنماؤں اور واعظوں نے پروگرام سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں میں مہم شروع کردی ہے‘۔ محبوب اقبال کے مطابق اقوام متحدہ دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے پروگرام مقامی انتظامیہ کے تعاون سے منعقد کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمارے یہاں مشکل یہ تھی کہ دیہات اور دوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگ سادہ لوح اور کم پڑھے لَِکھے ہونے کی وجہ سے ہر ناگہانی آفت کو قُدرت کا عذاب سمجھ کر احتیاتی تدابیر سے غافل رہتے ہیں۔ یہاں پر علماء اور خطیبوں کا کردار بنتا ہے‘۔ پچھلے بارہ سال سے سرینگر کی مسجد اقراء میں خطبہ دینے والے مولوی شوکت شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں اب تک کئی مذہبی اجتماعات میں بات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خطرہ تو خطرہ ہے لیکن لوگوں میں بیداری نہ ہو تو وہ آفت بن جاتا ہے۔ ہمیں لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بیماری بھی اللہ کی طرف سے آتی ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس بھی جاتے ہیں اور دوائی بھی لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ زلزلہ میں ڈیڑھ ہزار لوگ محض اس لیے ہلاک ہوگئے کہ کشمیریوں کے گناہ زیادہ ہوگئے تھے، جہالت ہے‘۔ واضح رہے کہ جموں کشمیر حکومت نے اکتوبر دو ہزار پانچ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ڈزاسٹر منیجمنٹ کے حوالے سے باقاعدہ ایک محکمہ بھی تشکیل دیا اور ڈویژنل کمشنر کے مطابق اس حوالے سے کئی سطحوں پر کام ہورہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی حالیہ مہم اس حوالے سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ اس کے تحت لوگوں کے مذہبی جذبات کو ایڈریس کیا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا کشمیر میں قدرتی بحران سے متعلق متفکر ہوجانا اس بات کا عندیہ ہے کہ یہاں ایسی آفات کا امکان قوی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ اور زمینی حرکتوں کی تحقیق پر گہری نگاہ رکھنے والے پروفیسر محمد اسمٰعیل نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی پیشنگوئی کوئی نہیں کرسکتا تاہم تحقیق سے پتہ چلتا ہے اس پر عمل کرکے احتیاتی تدابیر پر عمل ہو تو تباہی کی شدت کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ پرفیسر اسمٰعیل کا مزید کہنا تھا کہ ’کشمیر دُنیا بھر میں زلزلوں کے حوالے سے حساس ترین خطے یعنی زون پانچ میں آتا ہے۔ چٹانوں کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں ایک اور زلزلہ آئے گا لیکن اس کا وقت بتانا مشکل ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’احتیاتی تدابیر کے لیے لوگوں کو بیدار کرنے کی مہم بروقت اور انتہائی ضروری ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’زلزلہ زدگان کو نظرانداز کیا گیا‘20 October, 2005 | انڈیا کشمیر : ’مارشل لاء کے حالات‘04 June, 2007 | انڈیا کشمیر: پانچ دھماکے، پانچ زخمی20 July, 2007 | انڈیا کشمیر: ساٹھ سال کی جدائی16 August, 2007 | انڈیا کشمیر:مظاہروں میں 25 زخمی11 September, 2007 | انڈیا کشمیر: طلبہ کے پرتشدد مظاہرے 13 September, 2007 | انڈیا زلزلہ: امدادی پیکج کا اعلان14 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||