کشمیر:مظاہروں میں 25 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک طالب علم کے مبینہ حراستی قتل کے خلاف پرتشدد مظاہرے کیےگئے ہیں۔ کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں مبینہ طور فوجی حراست میں طالب علم کی ہلاکت کے بعد اسے جنگجو بتلائے جانے کے خلاف ہزاروں لوگوں نے فوج اور حکومت کے خلاف مظاہرے کئے۔ پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت آٹھ اہلکار جبکہ گیارہ خواتین سمیت سترہ مظاہرین زخمی ہوگئے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ محمد رمضان نامی یہ نوجوان ہندواڑہ اپنی خالہ کے گھر گیاتھا، اس دوران مبینہ طور پر پولیس اور فوج نے اسے ڈھال بنایا اور بعدمیں ہلاک کرکے اسے جنگجو بتایا۔ اس حوالے سے پولیس کی رائے بھی بٹی ہوئی ہے بارہمولہ پولیس کے ایس پی آپریشنز شیخ جنید نے، جو خود بھی مظاہروں میں زخمی ہوگئے، بی بی سی کو بتایا کہ 'جو طالب علم مارا گیا ہے پولیس ریکارڈ میں اس کے خلاف کوئی جنگجو سرگرمی ریکارڑ نہیں ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ وہ ہندواڑہ میں کیسے مارا گیا۔ پھر بھی ہم تحقیقات کررہے ہیں‘۔ تاہم ایس پی ہندواڑہ ڈاکٹر حسیب مغل کہتے ہیں کہ جنگجوؤں کے خلاف یہ آپریشن پندرہ گھنٹے تک جاری رہا ’جس کے دوران دونوں جنگجو مارے گئے۔ مسٹر مغل کاکہنا ہے کہ بعدمیں ایک جنگجو کی شناخت مذکورہ نوجوان کے طور پر کی گئی اور لاش اس کے گھر بھیج دی گئی۔ ڈاکٹر حسیب مغل نے کہا کہ محمد رمضان کے جنگجوؤں کے ساتھ قریبی رابطے تھے اور اس نے رات بھر اسی مکان سے فورسز پر فائرنگ کی جس مکان میں وہ مارا گیا ۔ محمد رمضان شاہ نامی یہ طالب علم کرکٹ کے حوالے سے کافی معروف ہے اور اسے اپنے گاؤں کے لوگ تیز گیندبازی کے لیے ’رمضان مارشل‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ پولیس کے مطابق دیر رات گئےمظاہرین نے مقامی پولیس سٹیشن پر حملہ کرکے شدید پتھراؤ کیا ۔ پولیس نے اس موقعہ پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ہوا میں گولیوں کے درجنوں راؤنڈ چلائے جس سے مظاہرین منتشر ہوگئے۔ صبح سویرے مشتعل مظاہرین ایک جلوس کی صورت میں سوپور اور بارہمولہ کے درمیانی علاقہ وترگام چوک تک پہنچ گئے جہاں انہوں نے لاش کو سڑک کے بیچوں بیچ رکھا اور فوج کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا
اس موقعہ پر پتھراؤ اور ہوائی فائرنگ سے ایس پی آپریشنز بارہمولہ شیخ جنید کے علاوہ آٹھ پولیس اہلکاروں کو چوٹیں آئیں جن میں سے ایک اہلکارکو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیا جبکہ پولیس کارروائی میں سترہ شہری زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محمدرمضان کے والدین نہیں تھے اور وہ سوپور ڈگری کالج میں سیکنڈائر کا طالب علم تھا اور اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے ہراتوار کو مزدوری کرتا تھا۔ مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے پر کئی ہندنواز اور علیٰحدگی پسند حلقوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر میں بے روزگاری20.02.2002 | صفحۂ اول کشمیر، سترہ ہلاک29.04.2003 | صفحۂ اول کشمیر: سولہ افراد ہلاک 06 February, 2004 | صفحۂ اول کشمیر، تشدد میں تیرہ افراد ہلاک16 November, 2003 | صفحۂ اول کشمیر: ایک ہی خاندان کے چھ ہلاک19.05.2003 | صفحۂ اول کشمیر میں خودکش حملہ25.04.2003 | صفحۂ اول کشمیر: دو شدت پسند ہلاک10 June, 2004 | صفحۂ اول حزب کے رہنما جھڑپ میں ہلاک11 May, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||