BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 September, 2007, 18:45 GMT 23:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:مظاہروں میں 25 زخمی

کشمیر مظاہرے
پولیس کارروائی میں سترہ شہری زخمی ہوئے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک طالب علم کے مبینہ حراستی قتل کے خلاف پرتشدد مظاہرے کیےگئے ہیں۔

کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں مبینہ طور فوجی حراست میں طالب علم کی ہلاکت کے بعد اسے جنگجو بتلائے جانے کے خلاف ہزاروں لوگوں نے فوج اور حکومت کے خلاف مظاہرے کئے۔

پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت آٹھ اہلکار جبکہ گیارہ خواتین سمیت سترہ مظاہرین زخمی ہوگئے ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جس نوجوان کو جنگجو بتا کر جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے وہ دراصل ڈگری کالج سوپورمیں زیرتعلیم ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ محمد رمضان نامی یہ نوجوان ہندواڑہ اپنی خالہ کے گھر گیاتھا، اس دوران مبینہ طور پر پولیس اور فوج نے اسے ڈھال بنایا اور بعدمیں ہلاک کرکے اسے جنگجو بتایا۔

اس حوالے سے پولیس کی رائے بھی بٹی ہوئی ہے بارہمولہ پولیس کے ایس پی آپریشنز شیخ جنید نے، جو خود بھی مظاہروں میں زخمی ہوگئے، بی بی سی کو بتایا کہ 'جو طالب علم مارا گیا ہے پولیس ریکارڈ میں اس کے خلاف کوئی جنگجو سرگرمی ریکارڑ نہیں ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ وہ ہندواڑہ میں کیسے مارا گیا۔ پھر بھی ہم تحقیقات کررہے ہیں‘۔

 مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محمدرمضان کے والدین نہیں تھے اور وہ سوپور ڈگری کالج میں سیکنڈائر کا طالب علم تھا اور اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لئے ہراتوار کو مزدوری کرتا تھا

تاہم ایس پی ہندواڑہ ڈاکٹر حسیب مغل کہتے ہیں کہ جنگجوؤں کے خلاف یہ آپریشن پندرہ گھنٹے تک جاری رہا ’جس کے دوران دونوں جنگجو مارے گئے۔

مسٹر مغل کاکہنا ہے کہ بعدمیں ایک جنگجو کی شناخت مذکورہ نوجوان کے طور پر کی گئی اور لاش اس کے گھر بھیج دی گئی۔

ڈاکٹر حسیب مغل نے کہا کہ محمد رمضان کے جنگجوؤں کے ساتھ قریبی رابطے تھے اور اس نے رات بھر اسی مکان سے فورسز پر فائرنگ کی جس مکان میں وہ مارا گیا ۔

محمد رمضان شاہ نامی یہ طالب علم کرکٹ کے حوالے سے کافی معروف ہے اور اسے اپنے گاؤں کے لوگ تیز گیندبازی کے لیے ’رمضان مارشل‘ کے نام سے پکارتے تھے۔

پولیس کے مطابق دیر رات گئےمظاہرین نے مقامی پولیس سٹیشن پر حملہ کرکے شدید پتھراؤ کیا ۔ پولیس نے اس موقعہ پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ہوا میں گولیوں کے درجنوں راؤنڈ چلائے جس سے مظاہرین منتشر ہوگئے۔

صبح سویرے مشتعل مظاہرین ایک جلوس کی صورت میں سوپور اور بارہمولہ کے درمیانی علاقہ وترگام چوک تک پہنچ گئے جہاں انہوں نے لاش کو سڑک کے بیچوں بیچ رکھا اور فوج کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا

ہلاک ہونے والے نوجوان کے رشتے دار
یہ نوجوان ہندواڑہ میں اپنے رشتے داروں کے گھر گیا تھا
۔

اس موقعہ پر پتھراؤ اور ہوائی فائرنگ سے ایس پی آپریشنز بارہمولہ شیخ جنید کے علاوہ آٹھ پولیس اہلکاروں کو چوٹیں آئیں جن میں سے ایک اہلکارکو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیا جبکہ پولیس کارروائی میں سترہ شہری زخمی ہوئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محمدرمضان کے والدین نہیں تھے اور وہ سوپور ڈگری کالج میں سیکنڈائر کا طالب علم تھا اور اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے ہراتوار کو مزدوری کرتا تھا۔

مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے پر کئی ہندنواز اور علیٰحدگی پسند حلقوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر میں بے روزگاری
20.02.2002 | صفحۂ اول
کشمیر، سترہ ہلاک
29.04.2003 | صفحۂ اول
کشمیر: سولہ افراد ہلاک
06 February, 2004 | صفحۂ اول
کشمیر میں خودکش حملہ
25.04.2003 | صفحۂ اول
کشمیر: دو شدت پسند ہلاک
10 June, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد