کشمیر: طلبہ کے پرتشدد مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقامی طالب علم کی حراست میں مبینہ ہلاکت کے بعد شمالی قصبے سوپور میں پچھلےچار روز سے پولیس اور مشتعل طلبا کے مابین پُرتشدد تصادموں میں زخمیوں کی تعداد پچہتر تک پہنچ گئی ہے۔ بدھ کے روز ہونے والے ایسے ہی ایک تصادم میں دو سینئر پولیس افسروں سمیت پچاس افراد زخمی ہوگئے۔ تازہ تشدد کے دوران عینی شاہدین کے مطابق ڈیڑھ سو سے زائد طالبات بے ہوش ہوگئیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قصبے میں حالات کشیدہ ہیں مگر پولیس کے مطابق حالات قابو میں ہیں۔ اس دوران جنوبی ضلع پلوامہ میں بھی مقامی لوگوں نے فوج کے خلاف مظاہرے کیے ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ سوپور میں ہونے والے مظاہرے نزدیکی بستی وترگام کے رہنے والے محمد رمضان شاہ نامی ایک طالب علم کی مبینہ حراستی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج اور پولیس نے جنگجوؤں کے خلاف ایک آپریشن میں رمضان کو ڈھال بنا کر مار ڈالا جبکہ پولیس کادعویٰ ہے کہ وہ سرگرم جنگجو تھا۔ سوپور کالج میں فرسٹ ایئر کے طالب علم جاوید احمد، جو سٹوڈنٹ لیڈر بھی ہیں، نے پولیس ایکشن کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ کالج کے طلباوطالبات صبح کالج گراؤنڈ میں جمع ہوگئے اور ایک تعزیتی قرارداد کے بعد رمضان کے گھر کی طرف روانہ ہونے لگے تو پولیس نے شاہراہ پر انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ پولیس نے ہمارے ساتھیوں کو مارا پیٹا اور کالج پر جیسے دھاوا بول دیا، اس پر لڑکےمشتعل ہوگئے‘۔ لیکن مقامی اے ایس پی امتیاز حسین کا کہنا ہے کہ ، 'یہ لوگ پرامن طور جاتے تو اعتراض نہ تھا لیکن انہوں نے پتھراؤ کیا جس سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ کالج کے پرنسپل نذیر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اور ٹاسک فورس کے اہلکاروں نے کیمپس میں داخل ہوکر طلبا کی پٹائی شروع کردی اور توڑ پھوڑ کی، یہ منظر دیکھ کر ڈیڑھ سو لڑکیاں بے ہوش ہوگئیں۔ کالج میں چار ہزار لڑکے اور دو ہزار لڑکیاں زیرتعلیم ہیں۔ پرنسپل کا کہنا ہے کہ رمضان کالج کا طالب علم تھا اور دو پرچوں میں ناکام ہونے کے بعد وہ اب نجی طور تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رمضان نے اس سال داخلہ تو نہیں لیا تھا، لیکن اس نے دو پرچوں کے امتحان کی خاطر حال ہی میں لوازمات پورے کیے تھے۔ محمد رمضان کی ہلاکت کے حوالے سے انسانی حقوق کے لئے سرگرم اتحاد کولیشن آف سِول سوسائٹیز کے جنرل سیکریٹری خُرم پرویز کہتے ہیں کہ اگر رمضان جنگجو بھی ہوتا تو بھی یہ واقعہ حراستی ہلاکت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خرم کا مزید کہنا ہے کہ لواحقین کہتے ہیں کہ وہ صرف ایک دن پہلے گھر سے نکلا تھا، اگر وہ جنگجو ہوتا تو اسے اپنے گھر سے گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ جس پس منظر میں پولیس اس ہلاکت کو ریکارڑ کروانا چاہتی ہے، لگتا ہے یہ حراستی ہلاکت کا ایک اور واقعہ ہے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی عدالتی جانچ کی جائے، جبکہ علیٰحدگی پسندوں نے اس واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’ کشمیر میں فوج،انڈین جمہوریت کو خطرہ‘21 July, 2007 | انڈیا بھارتی کرنل، 10 شدت پسند ہلاک01 August, 2007 | انڈیا کشمیر: ساٹھ سال کی جدائی16 August, 2007 | انڈیا کشمیر میں دھماکے، چار اہلکار زخمی26 August, 2007 | انڈیا جرائم اور غیر کشمیری مزدور01 September, 2007 | انڈیا کشمیر:مظاہروں میں 25 زخمی11 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||