کشمیر میں دھماکے، چار اہلکار زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس کے مطابق متعدد دھماکوں میں چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ پہلا دھماکہ شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میں بس اڈے کے قریب موجود ایک حفاظتی چوکی میں ہوا جس میں چار اہلکار زخمی ہوئے۔ مقامی شہری محمد سبحان ڈار نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ دھماکہ بنکر کے اندر بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔ تاہم فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے بنکر پر دستی بم پھینکا تھا۔ سی آر پی ایف کے ترجمان ایس این ترپاٹھی کے مطابق سرینگر کے مشرق میں واقع حضرت بل درگاہ کے قریب تین مقامات پر بھی شدت پسندوں نے سی آر پی ایف کی چوکیوں پر دستی بم پھینکے تاہم ان حملوں میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دریں اثناء کشمیر میں مقامی لوگوں پر کھندرو کے اسلحہ خانہ کی آتشزدگی کا اثر اس قدر موجود ہے کہ اس سانحہ کے دو ہفتوں بعد جب اتوار کو جنوبی کشمیر کے ترال علاقہ میں فورسز کیمپ کے اندر تجرباتی دھماکے کیے گئے تو بیشتر لوگ گھر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ترال میں قائم ہندوستانی نیم فوجی عملہ سی آر پی ایف کے ایک کیمپ میں دوپہر کو پے در پے دو زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں پورا قصبہ لرز اٹھا اور وہاں افرا تفری پھیل گئی۔ سی آر پی ایف کے ترجمان کے مطابق کیمپ میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی تربیت کے دوران تجرباتی دھماکے کیے گئے جن کی آواز سے لوگ ہراساں ہوگئے۔ عوامی حلقوں میں کھندرو اسلحہ خانہ کی آتشزدگی کے بعد مختلف مقامات پر واقع فوجی چھاونیوں اور فورسز چوکیوں میں موجود بارودی مواد سے متعلق زبردست تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن نے آبادیوں سے اسلحہ خانے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے ایسے کسی بھی امکان کو خارج کر دیا۔ | اسی بارے میں اسلحہ ڈپو میں آگ سے 30 ہزار متاثر25 August, 2007 | انڈیا کھندرو: ’گھر بچ گیا، ارمان جل گئے‘23 August, 2007 | انڈیا اسلحہ ڈپو آگ، ہلاکتیں 20ہو گئیں14 August, 2007 | انڈیا ’کھندرو یا بارود کا کھیت‘14 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||