BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 August, 2007, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کھندرو یا بارود کا کھیت‘

حکومت نے کچھ نہیں کیا: عبدالصمد
سرینگر سے ستّر کلومیٹر جنوب میں واقع سیاحتی مقام اچھہ ول سے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ فوجی اسلحہ خانہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد نقل مکانی کرچکے ہیں۔

ماہرین اس واقعہ کو دوہزار پانچ میں آنے والے زلزلے کے بعد سب سے بڑا انسانی بحران سمجھتے ہیں۔

امدادی ادارے ایکشن ایڈ کے ریاستی سربراہ ارجمند حسین طالب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ تو بہت خطرناک انسانی بحران ہے۔ اسے آپ ہلاکتوں کی تعداد کے پس منظر میں نہ دیکھیں۔ تیس ہزار لوگ بے گھر ہیں، ان کی صحت و صفائی کا مسئلہ ہے، کھانے پینے کا پرابلم ہے۔ اور پھر ہندوستان کے میڈیا میں اس واردات کی محدود کوریج نے امدادی امکانات کو اور بھی کم کردیا ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے تین روز بعد ہندوستانی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے اعلان کیا تھا کہ تباہ ہونے والے ڈپو سے پیدا ہونے والی صورتحال کو درست کرنے میں چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔

 چند ہفتوں بعد لوگ گھر تو جائیں گے لیکن جس طرح کے آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے، لوگوں کو کھڑی فصلیں کاٹنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور یہ خطرناک بھی ہے کیونکہ پندرہ کلومیٹر کے فاصلہ میں ایسے بارودی شیل بکھرے پڑے ہیں، جو ہاتھ لگانے پر پھٹ سکتے ہیں۔
ارجمند حسین طالب

مسٹر طالب کہتے ہیں کہ فوجی جنرل کا یہ اعلان نہایت خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’چند ہفتوں بعد لوگ گھر تو جائیں گے لیکن جس طرح کے آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے، لوگوں کو کھڑی فصلیں کاٹنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور یہ خطرناک بھی ہے کیونکہ پندرہ کلومیٹر کے فاصلہ میں ایسے بارودی شیل بکھرے پڑے ہیں، جو ہاتھ لگانے پر پھٹ سکتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’اس دوران وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ خاص طور پر خواتین اور بچے نفسیاتی بحران کا شکار بھی ہوگئے ہیں۔‘

کشمیر کے ڈویژنل کمشنر محبوب اقبال کے مطابق پندرہ دیہاتوں کے تقریباً بیس ہزار لوگوں کو اسلحہ خانہ میں گولہ بارود پھٹنے کے خدشے سے اننت ناگ میں مختلف عارضی راحت کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

اننت ناگ کے راحت کیمپ میں پیر کو متاثرین نے حکومت کے خلاف مظاہرے کے دوران سرکاری طور مہیا کیے گئے سینکڑوں کمبل نذرآتش کر دیے۔ کھندرو کے رہنے والے عبدالصمد نے اننت ناگ نے بتایا: ’مقامی لوگ مدد کر رہے ہیں اور کچھ این جی اوز ہیں۔ حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔‘

عبدالصمد اپنے تین منزلہ مکان کو مال و اسباب سمیت چھوڑ کر اپنے کنبہ کے گیارہ افراد سمیت کھلے میدان میں پناہ گزیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میری بیٹیوں کی شادی کیسے ہوگی؟‘

کھندرو کے ہی جاوید احمد ڈار نے بتایا کہ کھندرو اور ملحقہ دیہات میں متعدد شادیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جاوید کا کہنا تھا کہ بند بوتل منرل واٹر بنانے والی ایک کمپنی کا پانی کا انتظام تو کیا ہے لیکن پاخانہ اور نہانے دھونے کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھوٹنے کا امکان ہے۔

اس حوالے سے ایکشن ایڈ کے سربراہ نے بتایا کہ ان کے دو کیمپ اسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ حکومت نے وسائل مہیا نہ کیے تو وہ بے بس ہوجائیں گے۔

متاثرین کو اننت ناگ کے کیمپ میں رکھا گیا ہے
فوج کی شمالی کمان کے سربراہ جنرل پناگ کے مطابق کھندرو کا اسلحہ خانہ 1948میں قائم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دو سو پچیس مربع کلومیٹر رقبہ کو کلیئر کرنے کی ضررت ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ فوجی جنرل کے اعلان سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ پورا علاقہ بارود کے کھیت میں تبدیل ہوگیا ہے۔

شعلوں میں گرفتار اسلحہ خانہ سے صرف سو گز کی دوری پر کھندرو کے ایک معزز رہائشی ایڈووکیٹ عبدالمجید میر دیگر لوگوں کو دلاسا دینے میں مصروف تھے۔ مسٹر میر نے بی بی سی کو بتایا کہ کھندرو دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان کئی دیہات پر مشتمل ایک چھوٹی وادی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اسلحہ خانے کے دو کلومیٹر اردگرد خار دار تار ہے اور اس کے آٹھ کلومیٹر والی پٹی میں بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہے جو پچھلے سترہ سالہ عرصہ میں متعدد افراد کی جان لے چکا ہے۔‘

مسٹر میر نے مزید بتایا کہ صرف پچھلے چار سال میں دو خواتین اور تین نوجوان جنگلی خطے سے گزرنے کے دوران بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی سال اس اسلحہ ڈپو اور اس کے ساتھ واقع فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کی منتقلی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ میر نے بتایا کہ ’لوگ اب اس قدر تنگ آچکے تھے کہ وہ یہاں سے منتقل ہونے کے لئے بھی آمادہ تھے، اس سلسلے میں فوج نے کہا بھی تھا کہ وہ متبادل جگہوں پر زمینین خریدنے کا معاوضہ دے گی لیکن ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہمیں اس طرح بے گھر ہونا پڑے گا۔‘

کھندرو، اترسو، سومبرن اور دیگر دیہاتوں کے جنگلی علاقوں میں بارودی سرنگوں کے جال سے بھی علاقے میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اسلحہ خانہ میں آگ لگنے سے پندرہ کلومیٹر دور واقع جنگلی علاقوں میں بارودی دھماکے ہوئے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے پندرہ کلومیٹر حصار میں بارودی سرنگوں کا جال ہے۔ اس صورتحال کو نہایت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ معروف وکیل اور سماجی رضاکار ریاض خاور نے بتایا کہ ’اس انسانی مسئلہ کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔‘

فاطمہاسلحہ ڈپو میں آگ
کشمیر میں آتشزدگی تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد