BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 09:39 GMT 14:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلحہ ڈپو میں آگ، چار ہلاک

اسلحہ ڈپو میں آگ
ڈپو سے اٹھنے والے خاصی دور سے ہی دکھائی دے رہے ہیں
ہندوستان کے زيرِانتظام جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں فوج کے ایک اسلحہ ڈپو میں آتشزدگی سے تین فوجیوں سمیت چار افراد ہلاک اور پندرہ فوجیوں سمیت تینتیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

آتشزدگی کا یہ واقعہ سنیچر کی صبح نو بجے اننت ناگ ضلع میں واقع کھندرو کے اسلحہ ڈپو میں پیش آیا جہاں آگ لگنے کے بعد زوردار دھماکے بھی شروع ہو گئے۔دھماکوں کی آوازیں جائے واردات سے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر یاری پورہ گاؤں میں بھی سنی جا رہی ہیں۔


اننت ناگ کے ایس ایس پی عبدالغنی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی اور ایک عام شہری شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خطرات کے پیش نظر کھندرو کے گرد و نواح میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اسلحہ خانہ ایک وسیع علاقے کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پورے جنوبی کشمیر کے اندرونی رابطے مسدود ہوگئے ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا ہے کہ’شدت پسند اس وقت صورتحال کا فائدہ بھی اُٹھا سکتے ہیں اسی لیے کرفیو کا نفاذ عمل میں لانا پڑا‘۔

اسلحہ ڈپو سے ملحقہ بستیوں میں آگ پھیلنے اور بارود کے مسلسل دھماکوں کے پیش نظر جنوبی کشمیر سے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔انتظامیہ اور پولیس نے جائے حادثہ کے اردگرد تین مربع کلومیٹر کی پٹی میں آنے والے تمام دیہات کو خالی کرا لیا ہے۔

پولیس کے مطابق تاحال آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم حزب المجاہدین سمیت دو عسکریت پسند گروہوں نے مقامی خبر رساں ادارے کو فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل اے کے ماتھر کا کہنا ہے کہ آگ عسکریت پسندوں کے حملے کا نتیجہ نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’آتشزدگی سے کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ہم حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ آگ بجھانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں‘۔

کشمیر کے ڈویژنل کمشنر محبوب اقبال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’اس واقعہ میں تیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ہم نے بچاؤ کارروائی کے دوران تیرہ ہزار افراد کو آگ پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر مختلف ہنگامی کیمپوں میں منتقل کیا ہے، جہاں رضاکار اور سرکاری اہلکار ان کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کر رہے ہیں‘۔

 اس واقعہ میں تیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ہم نے بچاؤ کارروائی کے دوران تیرہ ہزار افراد کو آگ پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر مختلف ہنگامی کیمپوں میں منتقل کیا ہے، جہاں رضاکار اور سرکاری اہلکار ان کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کر رہے ہیں
ڈویژنل کمشنر محبوب اقبال

اچھہ ول میں واقع ترہپوگاؤں کے باشندے محمد اقبال وانی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ کھندرو میں کشمیر کا اپنی نوعیت کا پہلا اسلحہ ڈپو تھا، جہاں پچھلے ساٹھ سال سے چھوٹے بڑے ہتھیاروں کے علاوہ توپ خانے اور دیگر آلاتِ حرب و ضرب کو ڈمپ کیا گیا تھا۔

اقبال وانی کا مزید کہنا ہے کہ اُنیس سو سینتالیس میں کشمیر میں آنے والی بھارتی فوج نے کھندرو میں ہی ڈیرہ ڈالا تھا اور یہاں سات مربع کلومیٹر رقبہ کی پہاڑی ڈھلوان پر ایک زیر زمین اسلحہ خانہ تعمیر کیا گیا تھا۔ مقامی صحافی غلام محمد شیخ کے مطابق پہاڑی ڈھلوان پر واقع اس زیر زمین اسلحہ خانہ کی سطح پر بارکیں تعمیر کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد