BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 July, 2007, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاحوں پر بم حملہ، پانچ ہلاک

کشمیر
کشمیر میں سیاحوں پر حملے معمول بن گئے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے سرمائی دارالحکومت سرینگر میں سیاحوں پر ایک بم حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ ہندوستانی ریاست گجرات سے آئے سیاحوں کی ایک بس کے اندر ہوا۔ کسی بھی شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ حملے میں مسلح گروپ لشکر طیبہ کا ہاتھ ہے۔

پچھلے سال بھی مئی کے مہینے میں مختلف مقامات پر سیاحوں کی ٹولیوں پر حملوں میں آٹھ سیاح ہلاک ہوگئے تھے ۔اس سلسلے میں سرینگر میں گجراتی سیاحوں کی ایک ٹولی پر بم حملہ ہوا تھا جس میں دو کم سن بچوں سمیت چار سیاح مارے گئے تھے۔

تازہ حملے کے حوالے سے ایک سینئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ سہ پہر کو جب مغل باغات کی سیر پر نکلے گجراتی سیاحوں کا ایک گروپ بس میں سوار ہوکر شالیمار باغ کے قریب پہنچا تو بس کے اندر ایک زور دار دھماکہ ہوا۔
شالیمار کے قریب آئس کریم بیچنے والے فاروق احمد کا کہنا ہے کہ دھماکہ کے بعد بس کے اندر دھواں ہی دھواں تھا اور مسافر مدد کے لیے چلا رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق مقامی پولیس، ہندوستانی نیم فوجی عملہ اور محمکہ سیاحت کے رضاکاروں نے مذکورہ بس میں لگی آگ پر قابو پا لیا اور زخمیوں کو باہر نکال کر ہسپتال روانہ کیا۔

اس سلسلے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورینٹس ایسوسی ایشن کے صدر حبیب اللہ میر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ دھماکہ سیاحت کی کمر توڑنے کے مترادف ہے۔‘

مسٹر میر کا کہنا تھا کہ پچھلے سال جب سیاحوں پر حملے ہوئے تو مسلح شدت پسند تنظیموں نے ان کی مذمت کی تھی اور اس کے بعد انہوں نے حکومت سے کہا تھا کہ ان حملوں کی جانچ کی جائے۔

مسٹر میر نے مزید کہا کہ ’پچھلے سال ہی سرینگر میں لوگوں نے ایک لڑکے کو ٹورسٹ بس پر بم پھینکتے ہوئے رنگے ہاتھوں دبوچ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ہمیں آج تک پولیس نے نہیں بتایا کہ اس معاملے کا کیا ہوا۔ کچھ دیر تک تو یہ افواہ بھی اُڑتی رہی کہ ہماچل پردیش (ہندوستان کے شمال میں جموں کشمیر کی پڑوسی ریاست) سے آئے جرائم پیشہ افراد ملوث ہیں، لیکن کچھ پتہ نہیں چلتا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد