یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امرناتھ یاترا کے لیے جانے والے ایک گروہ پر دستی بم کے حملے میں کم از کم تیرہ یاتری زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جنوبی کشمیر میں پہلگام کے مقام پر نامعلوم افراد نے امرناتھ غار کی جانب جانے والے ایک گروہ پر ایک دستی بم پھینکا جو یاتریوں کے بالکل سامنے زوردار دھماکے سے پھٹا۔ اس حملے میں تیرہ یاتری زخمی ہوگئے جن میں چار کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو سرینگر کے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔پہلگام کے مقامی تاجر محمد سبحان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حملے کےبعد پورے بازار میں افراتفری مچ گئی اور لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ابھی تک کسی بھی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ایچ کے لوہیا نے بی بی سی کو بتایا کہ’یہ حملہ شدت پسندوں نے کیا ہے۔ متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور حملہ آور کو پکڑنے کے لیے آپریشن شروع کیا جا رہا ہے‘۔ انتہائی کڑے سکیورٹی انتظامات کے باوجود گرینیڈ حملے کی وجوہات پوچھنے پر مسٹر لوہیا نے کہا کہ’ہم نے بھرپور حفاظتی انتظامات کیے لیکن اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ شدت پسند تو کہیں بھی حملہ کر کے فرار ہو سکتا ہے ۔ ہم رات دن چوکس رہتے ہیں اور ہماری کوششوں سے شدت پسند کوئی بڑی کاروائی کرنے سے باز رہے ہیں‘۔ گزشتہ تین روز میں یاتریوں پر ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل اٹھارہ جولائی کو مشرقی کشمیر کے بال تل(سونہ مرگ) علاقے میں بھی نامعلوم حملہ آوروں نے یاتریوں کی ایک جمعیت کو بم کا نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں ایک راہگیر کی موت ہوگئی تھی جبکہ ایک یاتری سمیت چودہ افراد زخمی ہوئے تھے۔گزشتہ سال بھی پہلگام کے ایک ریستوراں میں اسی طرح کے بم حملے میں متعدد یاتری زخمی ہوگئے تھے۔ سرکاری حکام کے مطابق تیس جون سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا میں اس سال اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد یاتریوں نے ساڑھے پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر واقع غار میں ہندو عقیدے کے بھگوان شِو سے منسوب برفانی مجسمہ یا لنگم کے درشن کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لنگم کے پگھل جانے اور مصنوعی لنگم نصب کرنے کی افواہوں سے یاتریوں کی تعداد میں پہلے ہی کمی واقع ہوئی تھی اور حکام کے مطابق بم حملوں سے یاتریوں کی آمد میں مزید کمی ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: پانچ دھماکے، پانچ زخمی20 July, 2007 | انڈیا لشکر کے کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی18 July, 2007 | انڈیا انڈین کشمیر: چار شدت پسند ہلاک17 July, 2007 | انڈیا سرکاری اور غیر سرکاری یوم شہداء13 July, 2007 | انڈیا عمر عبداللہ پر کپوارہ میں حملہ09 July, 2007 | انڈیا کشمیر: طالب علم کی ہلاکت، مظاہرے07 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||