BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 August, 2007, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: تین دھماکے، پینتیس زخمی

بھارتی فوجی
پولیس کے مطابق ایک حملے کا ہدف بظاہر فوجی تھے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں دو روز کے دوران ہونیوالے تین بم دھماکوں میں دو پولیس اہلکاروں اور دو ریلوے ملازمین سمیت کم از کم پینتیس افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس دوران سری نگر میں ایک پولیس افسر کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی۔

اتوار کی صبح سرینگر جموں شاہراہ پر اونتی پورہ بازار میں اُس وقت دستی بم کا ایک دھماکہ ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ اونتی پورہ کے ایس پی سردار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی دکانداروں کے مطابق چلتی ٹاٹا سومو گاڑی سے کسی نے لوگوں کی بھیڑ پر دستی بم پھینکا، جس کے نتیجے میں کم از کم دس افراد زخمی ہوگئے۔

سردار خان کا کہنا تھا ’حملہ کے وقت وہاں نہ تو پولیس موجود تھی اور نہ ہی کوئی فوجی گاڑی، ظاہر ہے حملے کا نشانہ عام لوگ ہی تھے۔‘

اس سے قبل جموں کے بانہال علاقے میں ہوئے بم دھماکے میں چوبیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار اور ریلوے کے دو ملازمین بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق حملے کا ہدف بظاہر ایک فوجی کارواں تھا، لیکن نشانہ خطا ہو جانے کی وجہ سے عام آدمی اس کی زد میں آگئے۔

عوام پر حملے نہیں
 تمام شدت پسند تنظیموں نے اس بات اتفاق کر لیا ہے کہ پرہجوم اور عوامی آمدورفت والے مقامات پر حملے نہیں کیے جائینگے
حزب المجاہدین

دونوں دھماکوں کی کسی بھی شدت پسند گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم ایس پی اونتی پورہ سرادار خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہائی وے پر بم حملے کروانے میں زیر زمین مسلح گروپ حزب المجاہدین کا ہاتھ ہے۔

ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے حزب المجاہدین کے ترجمان احسان الٰہی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام شدت پسند تنظیموں نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ پرہجوم اور عوامی آمدورفت والے مقامات پر حملے نہیں کیے جائینگے۔

بیان میں ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ عام لوگوں پر دستی بم پھینکنے کی کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ادارے ملوث ہیں۔

دریں اثناء شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں بھی بھارتی نیم فوجی عملے کی چوکی پر مشتبہ شدت پسندوں نے دستی بم سے حملہ کیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ مسلح شدت پسندوں نے سری نگر کے نواح میں ایک پولیس افسر کی گاڑی کو گولیوں کا نشانہ بنایا، تاہم وہ اس حملے میں بال بال بچ گئے۔

’یوم شہداء‘
بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں تقریبات
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی مراکزپالیسی 'ان وزایبل'
فوجی موجودگی کو 'ان وزایبل' بنانے کے لیے
کشمیری عورت’ہم کہاں جائیں‘
ہندوستان میں مقیم کشمیریوں کی شکایات
ذہنی تناؤ کا شکار
کشمیریوں کی بڑی تعداد ذہنی تناؤ میں مبتلا ہے
کشمیر: سالنامہ 06
فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد