اسلحہ ڈپو آگ، ہلاکتیں 20ہو گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زيرِانتظام جموں و کشمیر میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اسلحہ ڈپو میں آتشزدگی کے نتیجے میں مزید پندرہ لاشوں کے نکالے جانے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس ہو گئی ہے۔ آتشزدگی کا یہ واقعہ سنیچر کی صبح اننت ناگ ضلع میں واقع کھندرو کے اسلحہ ڈپو میں پیش آیا جہاں آگ لگنے کے بعد زوردار دھماکے بھی شروع ہو گئے۔ دھماکوں کا یہ سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا۔ اسلحہ ڈپو میں دھماکوں اور آگ کے ملحقہ بستیوں میں پھیلنے کے بعد تقریباً تیس ہزار افراد علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ اسلحہ ڈپو کے آس پاس دو سو پچیس مربع کلومیٹر کے علاقے کی صفائی میں دو ماہ سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے اسلحہ ڈپو پر حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم فوجی حکام نےاس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسلحہ ڈپو میں دھماکے اور آگ کسی تخریب کاری کا نتیجہ نہیں۔
وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے پیر کو بتایا کہ اسلحہ ڈپو میں تلاش کے دوران مزید پندرہ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملنے والی لاشوں میں ایک میجر اور آگ بجھانے والے عملے کے تیرہ اراکین کی شناخت ہو گئی ہے تاہم نو فوجی اب بھی لاپتہ ہیں۔ اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے تاہم اتوار کی رات گئے تک دھماکوں کا سلسلہ جاری تھا۔دھماکوں کی آوازیں پیر کی صبح کو بھی سنی گئیں۔ انڈیا کی بری فوج میں شمالی کمان کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ توپ کے گولے، راکٹ، مارٹر شیل اور فضائی بمباری میں استعمال ہونے والے مواد سے لے کر ہرطرح کے آلات اسلحہ خانہ میں موجود تھے۔ علاقے کو محفوظ قرار دینے کے لیے دس دن درکار ہونگے کیونکہ آپریشن شروع کرنے کے لیے لازم ہے کہ اڑتالیس گھنٹوں تک کوئی دھماکہ نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلحہ خانے کے آس پاس دو سو پچیس مربع کلومیٹر کے علاقے میں بموں اور ملبے کی صفائی کے بعد ہی علاقے کے رہائشی اپنے گھروں کو واپس جاسکیں گے۔ لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا تھا کہ آپریشن کلین اپ کو ابتدائی طور پر سات دن لگیں گے تاہم یہ دو ماہ تک بھی چل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں وادی کشمیر میں تعینات بھارت کی فوج کی پندرہویں کمان کا دس فیصد اسلحہ تباہ ہو گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس نقصان سے فوج کی دفاعی استطاعت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا تھا کہ اسلحہ خانہ انتہائی کڑے حصار میں تھا اور اس پر جنگجوؤں کے حملے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا۔ |
اسی بارے میں اسلحہ ڈپو میں آگ، چار ہلاک11 August, 2007 | انڈیا اسلحہ ڈپو آگ، بحالی چھ ماہ میں13 August, 2007 | انڈیا کشمیر: تین دھماکے، پینتیس زخمی05 August, 2007 | انڈیا ’ کشمیر میں فوج،انڈین جمہوریت کو خطرہ‘21 July, 2007 | انڈیا کشمیر: پانچ دھماکے، پانچ زخمی20 July, 2007 | انڈیا کشمیر: فوجی اہلکار کی خودکشی05 July, 2007 | انڈیا انڈیا: کشمیر حادثے میں 13 ہلاک16 June, 2007 | انڈیا کشمیر: دو فوجی ہلاک، متعدد زخمی01 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||