BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 10:50 GMT 15:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلحہ ڈپو آگ، بحالی چھ ماہ میں

کشمیر اسلحہ خانے میں دھماکے
’دھماکے اس قدر شدید تھے کہ متعدد لاشوں کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی‘
انڈیا کی بری فوج میں شمالی کمان کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے فوجی اسلحہ خانہ میں جاری آگ اور دھماکوں سے متاثرہ علاقے میں زندگی بحال کرنے کے لیے چھ ماہ پر مشتمل طویل آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان انہوں نے جنوبی کشمیر میں گیارہ اگست کی صبح فوج کے اسلحہ خانہ میں بھڑک اٹھنے والی آگ اور بم دھماکوں کی صورتحال کا فضائی دورہ کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں دو سو پچیس مربع کلومیٹر پر مشتمل علاقہ متاثر ہوا ہے ۔ اسلحہ خانے کا بارودی مواد ہر سمت بکھر جانے سے صورتحال خطرناک ہوگئی ہے جس کی بحالی کے لیے چھ ماہ کا جامع آپریشن شروع کیا جائے گا۔

لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا تھا کہ توپ کے گولے، راکٹ، مارٹر شیل اور فضائی بمباری میں استعمال ہونے والے مواد سے لے کر ہرطرح کے آلات اسلحہ خانہ میں موجود تھے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس واقعہ کو محفوظ قرار دینے کے لیے دس دن درکار ہونگے کیونکہ آپریشن شروع کرنے کے لیے لازم ہے کہ اڑتالیس گھنٹوں تک کوئی دھماکہ نہ ہو۔

جمعیت المجاہدین کا دعوی
 اسلحہ خانہ پر حملہ تنظیم کی طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ تنظیم کے افغانی شدت پسند کمانڈر توفیق بھائی کو اس کارروائی پر پانچ لاکھ روپے کے انعام سے نوازا گیا ہے
تنظیم کے ترجمان

ان کا کہنا تھا کہ وادی میں تعینات فوج کی پندرہویں کمان سے ماہرین کی اڑتالیس ٹیمیوں کے علاوہ ہندوستان کی دیگر کمانوں سے ستّر ٹیموں کو طلب کیا جائے گا۔’یہ ٹیمیں دو ماہ کے اندر پہلے مرحلے کی کلیئرنس کریں گی اور چھہ ماہ کے بعد پورا علاقہ آمدو رفت اور رہائش کے لیے محفوظ ہوگا‘۔

اسلحہ خانہ کے گردونواح میں تیس ہزار نفوس پر مشتمل آبادی پر جنگی اسلحہ خانہ کے اثرات سے متعلق مسٹر پناگ نے بتایا کہ قریب ساٹھ سال قبل جب یہ اسلحہ خانہ تعمیر کیا گیا تو اُس وقت یہاں نہایت قلیل آبادی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بحالی کا آپریشن اختتام کو پہنچنے کے بعد ہی اسلحہ خانہ کی منتقلی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

اس دوران بی بی سی کو فیکس کے ذریعے موصول ہونے والے ایک بیان میں شدت پسند تنظیم جمعیت المجاہدین نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسلحہ خانہ پر حملہ تنظیم کی طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ جمعیت کے ترجمان جمیل احمد نے بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے افغانی شدت پسند کمانڈر توفیق بھائی کو اس کارروائی پر پانچ لاکھ روپے کے انعام سے نوازا گیا ہے۔ ترجمان نے کارروائی کے نتیجہ میں عوام کو پہنچنے والی تکلیف پر معذرت کا اظہار بھی کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے کہا کہ اسلحہ خانہ انتہائی کڑے حصار میں تھا اور اس پر جنگجوؤں کے حملے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے علاقے میں فصلیں، مویشی اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

دھماکوں میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ متعدد لاشوں کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی کیونکہ بقول ان کے لاشیں دھماکوں سے بکھر گئی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ متاثرہ مقام سے پندرہ کلومیٹر کے خطے میں بارودی شیل بکھرے ہیں اور اگر نقل مکانی کرنے والے مقامی افراد نے واپس لوٹنے میں جلدی کی تو جانی نقصان ہوسکتا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے مزید بتایا کہ ابھی تک لاپتہ افراد میں گیارہ فوجی، دو مزدور اور فوج کی داخلی فائر سروس میں کام کرنے والے دس اہلکار شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک متاثرہ علاقہ انسانی موجودگی کے لیے محفوظ نہیں ہوجاتا تب تک نقصان کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔ انہوں نے متاثرین کے لیے نقدد امداد کا بھی اعلان کیا۔

فاطمہاسلحہ ڈپو میں آگ
کشمیر میں آتشزدگی تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد