BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 August, 2007, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلحہ ڈپو میں آگ سے 30 ہزار متاثر

اس سانحہ میں بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے
جنوبی کشمیر کے کھندرو اچھہ ول گاؤں میں واقع ایک وسیع و عریض فوجی اسلحہ ڈپو میں گیارہ اگست کو لگی آگ کے نتیجے میں غیر سرکاری انجمنوں نے تیس ہزار افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ سرکارنے یہ تعداد صرف چھبیس ہزار بتائی ہے۔ متاثرین کے عارضی قیام کےلئے مختلف مقامات پر خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں۔

کھندرو بستی سے ملحقہ گاؤں جوگی گنڈ میں قائم اس خیمہ بستی میں ڈھائی سو کنبوں پر مشتمل ڈیڑھ ہزار افراد پناہ گزیں ہیں۔ ان میں بیشتر زخمی بھی ہیں اور کئی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

خیمہ بستیوں میں سماجی بہبود کے سرکاری شعبہ کے علاوہ مقامی لوگ بھی متاثرین کےلیئے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں۔

خیموں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

کیمپ میں ٹینٹوں کی شدید کمی ہے

اوسطاً پندرہ سے بیس افراد پر مشتمل چار کنبوں کو ایک خیمہ مہیا کیا جاتا ہے۔ پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ آٹھ فٹ بائی آٹھ فٹ کا خیمہ اتنے لوگوں کے لئے ناکافی ہے۔

پچاسی سالہ زونہ کے پوتے کی شادی میں چار دن تھے کہ اسلحہ ڈپو میں آگ لگ گئی۔ زونہ کہتی ہے کہ اس کے بچپن میں بھی ایک مرتبہ کھندرو اسلحہ ڈپو میں آگ لگی تھی۔ زونہ کو پوری طرح سال اور مہینہ یاد نہیں۔ وہ اپنی بہو، چار بیٹیوں اور تین بیٹوں کے ساتھ دیگر تین کنبوں کے ہمراہ اسی خیمہ میں رہتی ہیں۔
نثار احمد بی اے فائنل کا طالب علم ہے۔ اس کے مطابق کھندرو اور دیگر متاثرہ دیہات میں قائم تیس چھوٹے بڑے سکول بند پڑے ہیں جس کے نتیجےمیں ساڑھے سات ہزار بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

کھندرو اور ملحقہ دیہات کے لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی اسلحہ خانہ اور دوسری چھاؤنیوں کی وجہ سے یہاں کی مقامی اقتصادیات پنپ نہیں پائی ہے۔ ایک مقامی استاد جنہوں نےنام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ یہاں اٹھانوے فی صد لوگ مزدوری کرتے ہیں کیونکہ پندرہ ہزار کنال سے زائد رقبہ اسلحہ خانہ اور فوجی چھاؤنیوں کے قبضہ میں ہے۔

گاؤں خالی کرا لیا گیا ہے لوگ کیمپ میں رہ رہے ہیں

خیمہ بستیوں میں مقیم متاثرین نےاسلحہ ڈپو ہٹانے کے لئے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ بات کی ہے۔

گو میڈیا میں کھندرو سانحہ کی محدود کوریج سے یہ معاملہ سرخیوں میں نہیں رہا ہے، لیکن آس پاس کے دیہات سے بھاری تعداد میں لوگ رضاکارانہ امداد کے لئے روزانہ وہاں جاتے ہیں۔

فوج نے دو سو پچیس مربع کلومیٹر کو خطرناک قرار دے کر صفائی کا کام شروع کردیا ہے۔ متاثرین دن کے دوران پیدل جاکر اپنے گھروں اور مال و اسباب کا معائنہ کرتے ہیں اور رات خیموں میں گزارتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد