کھندرو: ’گھر بچ گیا، ارمان جل گئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کےزیر انتظام کشمیر میں جنوب کی طرف اڑسٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں تیل ونی میں دس دن کی بیوہ زاہدہ اوردس دن کی ہی دلہن شائستہ کے چہروں کی کیفیت میں عجیب یکسانیت ہے۔ شائستہ کا سرخ جوڑا اور زیورات اُسے زاہدہ سے ممیز تو کرتے ہیں، لیکن دونوں کا رنگ زرد اور آواز مرجھا گئی ہے۔ گیارہ اگست کو جب اننت ناگ کے کھندرو علاقہ میں واقع فوجی اسلحہ خانہ میں آگ لگی اور پورے علاقہ پر جیسے بارودی قہر نازل ہوا، اُس وقت بائیس سالہ شائستہ کے گھر میں تاشے بج رہے تھے اور اس کی سہیلیاں اسے تیار کرنے میں جُٹی تھیں۔ شائستہ کی قریبی پڑوسن ستائیس سالہ زاہدہ بھی وہاں موجود تھیں۔ شائستہ کو بارات کا انتظار تھا جبکہ زاہدہ کھندرو کیمپ میں فائر مین کی حیثیت سے تعینات اپنے خاوند طارق احمد شاہ کی راہ دیکھ رہی تھی، کہ دونوں شائستہ کی شادی میں شریک ہوجائینگے۔ لیکن کھندرو اسلحہ ڈیپو کی آگ نے دونوں کی حسرتوں کو خاک میں ملا دیا۔ زاہدہ کا خاوند لوٹا نہ بارات آئی۔
طارق کے لواحقین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شوقیہ مصوری اور رنگ سازی بھی کرتا تھا۔ تیل ونی میں اپنے تین منزلہ مکان کے صدر دروازہ پر اُس نے مختلف رنگوں سے یہ شعر خود لکھا ہے، 'آئے تھے ہم مثل بلبل سیرِ گلشن کرچلے، لے لو مالی باغ اپنا ہم تو اپنے گھر چلے۔' طارق کے عمر رسیدہ والد امین شاہ دروازہ پر لکھے اس شعر کو تکتے ہوئے کچھ بولنا چاہتے تھے، لیکن الفاظ نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ پڑوس کی شائستہ کی عمر رسیدہ نانی مختہ بیگم نے گیارہ اگست کا واقعہ دہراتے ہوئے کہا: 'ہمارا گھر جلتا تو نیا بن جاتا ، لیکن اس میں تو ہمارے ارمان جل گئے ، میں ان کا کیا کروں۔وازہ (کشمیری باورچی جو شادی بیاہ پر خطیر گوشت کی مختلف اقسام تیار کرتا تھا) اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک دھماکے ہوئے اور ہمارے مکان کی اوپری منزل کے شیشیے چور ہوگئے۔' مختہ کا کہنا ہے کہ آگ کی لپٹیں بلند ہونا شروع ہوگئیں اور فوجی اہلکار ننگے پاؤں پاس والی ندی پار کرکے گاؤں کے بیچوں بیچ بھاگو بھاگو کی آوازیں بلند کرتے ہوئے دوڑ رہے تھے۔ مقامی تاجر مشتاق احمد نے بتایا کہ فوج کی گھبراہٹ سے یہاں کے لوگ بھی حواس کھو بیٹھے اور گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ خود شائستہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں گیارہ اگست کو بارات آنے والی تھی اور مہمانوں کی بھاری تعداد ایک روز پہلے سے ہی گھر میں موجود تھی۔ وہ کہتی ہیں، 'سب چلے گئے، میں پریشان تھی ، میں کیا کروں، لیکن جب دھماکوں کی شدت بڑھ گئی تو مجھے میرے بھائی نے ٹریکٹر میں بٹھا کر اسلام آباد (مقامی لوگ اننت ناگ کو اسلام آباد پکارتے ہیں) پہنچایا۔'
شائستہ کی شادی بعد میں ہنگامی صورتحال میں اننت ناگ کے ایک تعلق دار کے گھر میں نہایت سادہ طریقہ سے انجام دی گئی لیکن باجےگاجے کے ساتھ رخصتی کا ارمان شائستہ کے دل میں ہی رہا۔ کھندرو کے ایک نزدیکی گاؤں جوگی گنڈ میں متاثرین کی بڑی تعداد پناہ لئے ہوئے ہے۔ یہاں عارضی طور پر مقیم لوگوں نےبتایا کہ کھندرو اور آس پاس کے دیہات میں اسلحہ ڈیپو آتشزدگی کی وجہ سے دیڑھ درجن شادیاں منسوخ ہوگئیں۔ راحت کیمپ میں ڈیپو کے ایک اور ملازم فدا حسین کی ماں زیبہ بھی ہے۔ دھماکوں کے وقت وہ گھر میں تھیں اور بھاگنے کے دوران اُن کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے بیٹے فدا حسین کی شادی میں چند روز باقی تھے کہ 'ہم بے گھر ہوگئے' ۔ زیبہ نے بتایا کہ فدا نو بیٹیوں میں اس کا اکلوتا بیٹا ہے، جس کی شادی کے لئے وہ مہینوں سے تیاریاں کررہے تھے۔ | اسی بارے میں اسلحہ ڈپو آگ، ہلاکتیں 20ہو گئیں14 August, 2007 | انڈیا اسلحہ ڈپو آگ، بحالی چھ ماہ میں13 August, 2007 | انڈیا اسلحہ ڈپو میں آگ، چار ہلاک11 August, 2007 | انڈیا بھارت: ثمرچند طبقوں کے لیے11 August, 2007 | انڈیا انڈیا: کوٹے پر حکم امتناعی برقرار08 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||