BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 September, 2007, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرائم اور غیر کشمیری مزدور

کشمیر
کشمیر میں عورتوں کے خلاف جرائم میں اضافہ
کشمیر میں سترہ برس سے جاری مسلح تحریک کے دوران معاشرتی طور پرغیر معمولی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات اور نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف عورتوں کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں جن میں پراسرار ہلاکتیں اور عصمت دری کے واقعات بھی بڑھ گۓ ہیں۔

مقامی لوگوں کی اکثر آبادی اس کی ذمہ داری بھارت کی دوسری ریاستوں سے آنے والے مزدوروں پر ڈال رہے ہیں جو کشمیر کی میعشت کا اہم جز بن گۓ ہیں حال ہی میں لنگیٹ اور پھر اخراج پورہ میں معصوم بچیوں کی عصمت دری اور ہلاکت نے وادی میں بے چینی کی لہر پیدا کردی ۔

لنگیٹ کے واقعہ کے بعد گرفتار شدہ چار افراد میں دو کا تعلق بہار سےنکلا جو مزدوری کے لۓ کشمیر میں رہائش پذیر تھے اور فوراً کل جماعتی حریت کانفرنس گیلانی دھڑے نے بہاریوں کو وادی چھوڑنے کی دھمکی دی حالانکہ بیشتر شہریوں نے اس پر شدید تنقید کی کیونکہ اس واقعہ میں ملوث دو کشمریوں کے سلسلے میں کسی نے ایسا شدید قدم نہیں اٹھایا۔

 ایک اندازے کے مطابق کشمیر میں ہر سال تقریبا تیرہ لاکھ مزدور تلاش معاش کے لۓ کشمیر آتے ہیں اور سردیاں شروع ہونے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں مگر گذشتہ سال ان میں سے صرف سات لاکھ واپس چلے گۓ

معروف روز نامے سرینگر ٹائمز کے ایڈیٹر صوفی غلام محمد کہتے ہیں کہ جن سیاست دانوں نے بہاری مزدوروں کو کشمیر چھوڑنے کی دھمکی دے ان کے گھروں میں آج بھی کھانہ پکانے سے لیکر زمینداری تک کے تمام کاموں پر بہاری متعین ہیں ۔

اصل میں سیاست دان اس سے بھی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی تاک میں تھے مگر بیشتر کشمیریوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا کیونکہ ان واقعات کی ذمہ داری تمام مزدوروں پر نہیں ڈالی جاسکتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کشمیر میں ہر سال تقریبا تیرہ لاکھ مزدور تلاش معاش کے لۓ کشمیر آتے ہیں اور سردیاں شروع ہونے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں مگر گذشتہ سال ان میں سے صرف سات لاکھ واپس چلے گۓ اور بقیہ میں سے بیشتر نے مختلف علاقوں میں جاکر سکونت اختیار کی اور بعض نے مقامی عورتوں سے شادی کرکے کشمیر کو اپنی مستقل رہائش گاہ بنائی۔

خود کشمیری کسی حد تک اقتصادی ترقی کی وجہ سے مزدور طبقے کے زمرے سے باہر آگۓ ہیں لہذا تعمیرات اور کارخانوں میں مزدوروں کی کمی باہر کے ہنر مند طبقے نے پوری کردی۔

علیحدگی پسند رہنما سجاد لون سمجھتے ہیں کہ باہر کے بے شمار مزدوروں کو کشمیر لاکر مقامی ہنر مند نوجوانوں کو بے روز گار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے

واپسی کا ٹکٹ خریدتے ہوئے غیر کشمیری
کل جماعتی حریت کانفرنس گیلانی دھڑے نے بہاریوں کو وادی چھوڑنے کی دھمکی دی تھی
۔

مگر بیشتر کشمیری اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مقامی لوگ آرام طلب بن گۓ ہیں اور ریاست میں مزدوروں کی شدید قلعت کے باعث باہر کے لوگوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہورہے ہیں اور اگر ان میں کچھ جرائم پیشہ افراد بھی آتے ہیں تو اس کے لیےتمام مزدوروں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

بعض بھارت نواز سیاست دان بڑھتے ہوئے جرائم کی تمام ذمہ داری مسلح نوجوانوں پر عائد کرتے ہیں جن کا ماننا ہے کہ تحریک آزادی نے معاشرے پرمنفی اثرات ڈالے ہیں اور بعض مقامی لوگ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مجرمانہ حرکتیں کرنے لگے ہیں جو مسلح تحریک چلانے والوں کو نظر نہیں آتا۔

جرائم بڑھنے کی جو بھی وجہ ہو مگر والدین اپنی بچیوں کو سکول یا دوسرے اداروں میں اکیلے بھیجنے سے کترانے لگے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد