BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 July, 2007, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرکشمیری مزدوروں کو نوٹس

کشمیر میں غیرمقامی مزدور ہمیشہ ہی کام کرتے رہے ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی مسلح تنظیم حزب الجاہدین نے غیر کشمیری مزدوروں اور دیگر ہنرمندوں کو ایک ہفتے کے اندر جموں کشمیر سے چلے جانے کو کہا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو شمالی ضلع کپوارہ میں اغواء کے دوران ایک چودہ سالہ طالبہ کی اجتماعی عصمت دری کے واقعہ میں دو غیر کشمیری مزدوروں کی گرفتاری کے بعد غیرمقامی مزدوروں کے خلاف کپوارہ کے لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اس واقعہ کے بعد بزرگ علیٰحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ غیر کشمیری کاریگروں اور مزدوروں کو اپنے گھروں سے نکال دیں۔

گیلانی کی کال کی حمایت میں حزب المجاہدین کے ترجمان جنیدالاسلام نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ ’جرائم پیشہ غیر کشمیری مزدوروں کو وادی سے چلے جانا چاہیے کیونکہ لوگوں میں ان کے خلاف لوگوں میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ غیر کشمیری مزدور مقامی نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرتے ہیں اور ان لوگوں کے فوج کے ساتھ روابط ہیں۔ انہوں نے غیر کشمیری مزدوروں سے ایک ہفتے کے اندر وادی چھوڑ کر جانے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں۔‘

مقامی وکلاء کی انجمن کشمیر بار ایسوسی ایشن نے بھی گیلانی کی کال کی حمایت کی ہے۔

اس بیان سے ریاست میں قیام پزیر غیرمقامی مزدوروں کو لاحق خطرات کے پس منظر میں کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس شِو موہن سہائے نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم اس بیان کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد