BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ساٹھ سال کی جدائی

کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر دو ہزار پانچ میں بس سروس چلائی گئی تو ہند و پاک امن عمل کے حامی سیاستدانوں نے اس فیصلہ کو ساٹھ سال کے دوران اُٹھائے گئے اعتماد سازی کے تمام اقدامات کی ماں قرار دیا، لیکن ہندوستانی آزادی کی ساٹھویں سالگرہ پر یہ اقدام عوامی سطح پر بے اطمینانی کی وجہ بن چکا ہے۔

سرینگر کے محمد عبداللہ اسکی ایک مثال ہیں۔ وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر جانے والے پہلے قافلے میں شامل تھے۔

چونسٹھ سالہ محمد عبداللہ کو کافی جدجہد کے بعد پہلی بس میں مظفرآباد جانے کا موقع تو ملا لیکن سات اپریل دو ہزار پانچ کو سرینگر سے مظفرآباد روانہ ہوئی اس پہلی بس میں اپنے رشتہ داروں کے یہاں جانے کے بعد اب انہیں دوسری مرتبہ اس تاریخی راستے پر سفر کی امید نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے دو سال سے مسلسل جہلم ویلی روڈ کے ذریعہ سفر کے لیےاجازت کی درخواستیں دے رہے ہیں لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔

یہ بس سرینگر سے شمالی کشمیر کے اوڑی قصبہ میں سلام آباد علاقے تک جاتی ہے۔ یہاں مسافروں کو اُتارا جاتا ہے اور وہ کشمیر کے منقسم حصوں کو ملانے والے کوہالا پل (اب امن پُل) کو پیدل پار کرکے پاکستان کے زیرانتظام چکوٹھی پوسٹ سے وہاں کی سرکاری بس میں سوار ہوکر مظفرآباد روانہ ہوتے ہیں۔ مظفرآباد سے آنے والے مسافروں کو بھی اسی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

محمد عبداللہ کہتے ہیں کہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے اگر انہیں پانچ کلومیٹر پیدل چلنے کے لیے بھی کہا جائے تو انہیں کوئی شکایت نہ ہوگی۔ ’لیکن مجھے دوبارہ اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘

مشکل حالات
News image
 جب مہاراجہ نے کشمیر میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد کردی تو سماجی رضا کار محمدالدین فوق نےلاہور سے اخبار نکالا اور اس میں کشمیریوں کو درپیش حالات کی عکاسی کی
محمد یوسف ٹینگ

لیکن حکام کا مؤقف کچھ اور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ محمد عبداللہ کا بیٹا کئی برس قبل ہتھیاروں کی تربیت کے لیے غیر قانونی طور پر کنٹرول لائن کے پارگیا تھا اور وہ ابھی مظفرآباد میں ہی مقیم ہے۔

لیکن دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ سفری اجازت سے محروم اکیلے محمد عبداللہ ہی نہیں۔ حکومت کے پاس منتظر مسافروں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چھ ہزار درخواستیں پڑی ہیں، جن کی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔

سات سو چالیسس کلومیٹر لمبی اور چونتیس کلومیٹر چوڑی کنٹرول لائن کی وجہ سے کشمیر کے منقسم کنبوں کو افسوس صرف اس بات پر نہیں کہ اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے مہینوں درکار ہوتے ہیں، بلکہ وہ اس بس سروس کو محض ایک ’سیاسی علامت‘ سمجھتے ہیں جو بقول ان کے بعض سیاسی قوتوں کے لیے عوامی ہمدردیاں بٹورنے کے کام آتی ہے۔

مظفرآباد میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے خواہشمند جاوید احمد میر کا کہنا ہے کہ ’ہر پندرہ روز کے بعد ایک بس یہاں سے جاتی ہے اور ایک وہاں سے آتی ہے۔ یہ لوگوں کو ملانا نہیں بلکہ ان کی جدائی کے غم کو اور بڑھانے والی بات ہے۔‘

واضح رہے کہ ساٹھ سال قبل ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے معاملے پر تنازعہ پیدا ہوگیا تو حکومت ہند نے سرینگر مظفرآباد روڑ پر آمدورفت کو بند کردیا تھا۔

گو حکومت ہند نے بعد ازاں ہمالیائی سلسلہ کے پیرپنچال رینج میں بانہال کے قریب سرنگ (جواہر لعل ٹنل) نکال کر کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملانے والی تجارتی شاہراہ تعمیر کرلی، لیکن شدید موسمی سختیوں کی وجہ سے یہ راستہ مظفرآباد روڑ کے مقابلے میں خطرناک اور مہنگا ثابت ہوا۔

مظفرآباد روڑ پر آمدورفت مسدود ہوجانے سے قریب چھ دہائیوں سے کشمیری کنبے دو ملکوں کے زیرانتظام خطوں میں بٹے رہے ہیں۔ اس دوران اس اہم شاہراہ کے بند پڑجانے سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی تجارت کو بھی دھچکا لگا۔

معروف مؤرخ محمد یوسف ٹینگ کا کہنا ہے کہ ’میرے والد میوہ کے تاجر تھے۔ اُنیس سو سینتالیس میں ہم میوہ جہلم ویلی روڑ سے ہی راولپنڈی لے جاتے تھے جہاں سے وہ پاکستان اور ہندوستان کے بڑے شہروں کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے علاقوں میں بھی جاتا تھا۔ جب جہلم ویلی روڑ بند کیا گیا اور بانہال ٹنل بنائی گئی تو جموں کے راستے میوہ لے جاتے وقت راستہ برفباری کی وجہ سے بند ہوگیا اور لاکھوں کی مالیت کا میوہ راستے میں ہی خراب ہوگیا۔‘

مسٹر ٹینگ کا مزید کہنا ہے کہ سرینگر سے راولپنڈی کا سفر صرف پانچ گھنٹے کا ہے جبکہ سرینگر سے دلّی تک تیس گھنٹے دشوار گذار پہاڑی راستوں کے درمیان سفر کرنا پڑتا ہے۔

News image
 ہم نے اُنیس سو اڑتالیس میں وطن لوٹنے کی کوشش کی تو ہمیں دلّی سے یہاں آنے کی اجازت نہ دی گئی۔ ہمارا کنبہ بٹ کے رہ گیا

تاریخی پس منظر
جہلم ویلی روڑ نے کشمیر کی معاشی اور سیاسی تاریخ میں اہم رول ادا کیا ہے۔ سن اٹھارہ سو بیانوے میں انگریزوں کی تعمیر کی گئی قریب پونے دو سو کلومیٹر مسافت والی جہلم ویلی شاہراہ سے متعلق محمد یوسف ٹینگ کہتے ہیں کہ یہ سڑک ریاست جموں کشمیر کی پہلی سڑک تھی جس پر مسافر اور مال بردار گاڑیاں چلیں۔

اکثر مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جہلم ویلی روڑ کے ذریعہ کشمیر میں مشرق وسطیٰ کے تہذیبی اثرات بھی آئے۔ مسٹر ٹینگ کہتے ہیں کہ جب مہاراجہ نے کشمیر میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد کردی تو اُس وقت کے سماجی رضا کار محمدالدین فوق نےلاہور سے اخبار نکالا اور اس میں کشمیریوں کو درپیش حالات کی عکاسی کی۔

جہلم ویلی روڑ کی تجارتی اہمیت کے حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ اس نے یہاں کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا۔ ماہرین کے مطابق اس شاہراہ کی تعمیر سے قبل سن اٹھارہ سو اکانوے میں ایک خطرناک قحط نے یہاں ایک لاکھ شہریوں کی جان لے لی تھی۔

کشمیری اقتصادیات کے مبصر یاسر میر کا کہنا ہے کہ ’اٹھارویں صدی کے آخری حصے میں کشمیر قحط سالی میں پھنسا ہوا تھا لیکن جہلم ویلی روڑ پر آمدورفت کے بعد کوئی قحط تاریخ میں ریکارڑ نہیں ہوا کیونکہ اس شاہراہ کے ذریعہ ضروریات زندگی کا سازوسامان آسانی سے یہاں پہنچ جایا کرتا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے پہلے یہاں لوگ تیل سیاہ کے چراغ استعمال کرتے تھے، بعد میں جب شاہراہ کے ذریعہ تیل خاکی کی درآمد شروع ہوئی تو لالٹین کا استعمال عام ہوگیا۔ اسی لئے اس شاہراہ کو لائف لائن کہتے تھے۔ لیکن اس بند ہوجانے سے ہم دنیا سے کٹ کے رہ گئے۔‘

اسی پندرہ روزہ بس سروس کے ذریعہ ڈاکٹر علی محمد میر سرینگر میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئے۔ ڈاکٹر میر نسلی طور کشمیری ہیں لیکن اُنیس سو سینتالیس میں جہلم ویلی روڑ بند پڑ جانے کی وجہ سے لاہور، پاکستان میں آباد ہوگئے تھے۔

 ساٹھ سال سے کشمیری کنبوں کو کنٹرول لائن کی تقسیم کا سامنا ہے۔ اگر یہ راستہ نارمل روڑ ہوجائے، یہاں سے عام آمدرفت اور تجارتی ٹریفک بحال ہوجائے، تو سمجھ لیجئے نصف مسئلہ حل ہوگیا۔‘
سُمّیہ قادری

ان کا کہنا ہے کہ 'ہم تقسیم ہند کے دنوں امرتسر کے گلانسی میڈیکل کالج میں زیرتعلیم تھے۔ سینتالیس میں جب جموں کے مسلمانوں کی نسلی صفائی ہوئی تو ہم نے پاکستان ہجرت کی۔ لیکن ہندوستان کی آزادی کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر عام کشمیریوں میں اس تاریخی راستے کے بحال کیے جانے پر جہاں اطمینان کا احساس پایا جاتا ہے، وہیں سفری اجازت کی پیچیدگیوں اور محدود اوقاتِ سفر کی وجہ سے لوگوں کو خدشات بھی لاحق ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک طالبہ سُمّیہ قادری نے بتایا کہ ’مسئلہ کشمیر بنیادی طور ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ اور ساٹھ سال سے کشمیری کنبوں کو کنٹرول لائن کی تقسیم کا سامنا ہے۔ اگر یہ راستہ نارمل روڑ ہوجائے، یہاں سے عام آمدرفت اور تجارتی ٹریفک بحال ہوجائے، تو سمجھ لیجئے نصف مسئلہ حل ہوگیا۔‘

خواتین کا کردار
’مؤرخین نے خواتین کے کردار کو نہ سراہا‘
قبائلی جرگہقبائلی نظام دباؤ میں
حکومتی اقدامات سے یہ نظام ختم ہو جائے گا؟
گرم ہوا سے غدر تک
بالی وڈ فلمیں بنتے بگڑتے تعلقات کی عکاس
آڈیو سلائیڈ شوآڈیو سلائیڈ شو
تقسیم کی تصاویر اور جناح کی تقریر
پاکستان کا یوم آزادیساٹھ برس اور حافظہ
تاریخ اور حافظہ بدلنے میں حکومتوں کی مہارت
آزادی کے ساٹھ سال میں کیا ملا؟آپ کیا کہتے ہیں؟
آزادی کے ساٹھ سال میں کیا ملا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد