BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 July, 2007, 04:48 GMT 09:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضمانت کے باوجود تحویل کا حکم
گزشتہ روز محمد حنیف کی اہلیہ نے بھارتی وزیرِ اعظم سے مدد کی اپیل کی تھی
آسٹریلیا کی حکومت نے ہندوستانی نژاد ڈاکٹر محمد حنیف کی ضمانت منظور کیے جانے کے بعد نیا حکم دیا کہ انہیں تحویل میں رکھا جائے۔ جس ویزے پر وہ کام کر رہے تھے اسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس حکم سے چند گھنٹے پہلے ایک جج نے محمد حنیف کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن یہ کہا تھا کہ وہ ہفتے میں تین مرتبہ پولیس کو رپورٹ کیا کریں گے اور ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔

تاہم برسبین کی عدالت کے فیصلے کے بعد آسٹریلیا کے امیگریشن کے وزیر کیون اینڈریوز کا کہنا تھا انہوں نے ڈاکٹر حنیف کا کام کا اجازتی ویزا اس شبہے پر منسوخ کر دیا ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر کا برطانیہ میں دہشت گردی سے تعلق ہے۔ لہذا انہیں اب ایمگریشن کے قانون کے مطابق تحویل میں لے لیا جائے گا۔

برطانیہ میں ناکام بم حملوں کی کوششوں میں مبینہ طور پر منسلک ہندوستانی ڈاکٹر محمد حنیف کی اہلیہ نے گزشتہ روز ہندوستان کے وزیرِاعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور وزیر دفاع اے کے انتھونی سے مدد اپیل کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ان کے شوہر ڈاکٹر محمد حنیف کے ساتھ آسٹریلوی پولیس زيادتی کر سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے آسٹریلیا کی پولیس نے محمد حنیف پر باقاعدہ الزامات عائد کیے تھے۔ان پر ایک دہشت گرد تنظیم کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ محمد حنیف کو دو جولائی کو برسبین کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ ہندوستان جانے والے تھے۔

اگر ان پر لگائے گئے الزام عدالت میں ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں پندرہ سے پچیس سال کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق محمدحنیف پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے چچیرے بھائیوں سبیل اور کفیل کو موبائل فون کی سِم فراہم کی تھی۔

محمد حنیف ان آٹھ افراد میں ایک ہیں جنہیں برطانیہ میں مبینہ حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ تمام افراد طب کے پیشے سے وابستہ ہیں اور محمد حنیف کے سوا باقیوں کو برطانیہ سے حراست میں لیا گیا۔

تاہم اتوار کو برطانیہ میں پولیس نے کہا تھا کہ زیرِ حراست دو اور افراد کو کسی الزام عاید کیے بغیر رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں تربیتی ڈاکٹر کے طور پر اسی ہسپتال میں فرائض سرانجام دے رہے تھے جہاں عراقی ڈاکٹر بلال عبداللہ کام کرتے رہے ہیں اور جن پر دھماکوں کی سازش کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد