BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 July, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن کار بم: آسٹریلیا میں چھاپے
حنیف
پولیس کو محمد حنیف سے پوچھ گچھ کے لیے مزید مہلت دی گئی ہے
آسٹریلیا میں پولیس نے لندن میں بم دھماکوں کی ناکام کوشش کے سلسلے میں مزید شواہد حاصل کیے ہیں اور کم سے کم چار اور ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ کی ہے۔

مغربی آسٹریلیا کے چار ہسپتالوں سے کمپیوٹر اور دیگر اشیاء ہسپتال بھی حاصل کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جن ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے ان کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

آسٹریلوی پولیس نے یہ کارروائی برطانیہ میں گرفتار کیے گئے دو افراد کے ایک رشتہ دار محمد حنیف سے پوچھ گچھ کے لیے مزید مہلت ملنے کے بعد کی ہے۔

محمد حنیف کو پیر کے روز برِسبین کے ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ انڈیا کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔

برطانیہ میں گلاسگو اور لندن میں حملوں کی مبینہ ناکام کوششوں کے بعد برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

آسٹریلوی پولیس کے سربراہ مِکی کِیلٹی نے کہا کہ جن ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ کی گئی ان کی قومیت اور پس منظر انہی لوگوں جیسا ہے جنہیں برطانیہ میں پکڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بھی برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس میں کام کر چکے ہیں اور انہوں نے ڈاکٹر حنیف سے بھی رابطہ کیا تھا۔

محمد حنیف دو بھائیوں گلاسگو کے ہوائی اڈے پر حملے کی کوشش کے دوران زخمی اور گرفتار ہونے والے کفیل احمد اور لورپول سے پکڑے جانے والے سبیل کے رشتہ دار ہیں۔

انکشاف ہوا ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے کئی بار مغربی آسٹریلیا میں نوکری کے لیے درخواست دی جو مسترد ہو گئی۔

ڈاکٹر حنیف نے بنگلور میں راجیوگاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز سے سن دو ہزار دو میں گریجوایشن کی۔ وہ لوورپول میں رہےاور دو ہزار چھ میں آسٹریلیا چلے گئے۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق وہ ڈاکٹر کے لیپ ٹاپ میں تقریباً اٹھارہ ہزار فائلوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دریں اثنا پولیس نے کیمبرج میں بھی ایک جگہ پر چھاپہ مارا ہے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ جن لوگوں پر شک کیا جا رہا ہے ان میں سے چار سن دو ہزار پانچ میں کیمبرج میں تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد