تحقیقات کے لیے مزید وقت درکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی پولیس نے برطانیہ کے ناکام کار بم حملوں میں مبینہ طور پر ملوث بھارتی ڈاکٹر کو مزید وقت کے لیے زیرِ حراست رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ستائیس سالہ ڈاکٹر محمد حنیف پر ابھی تک فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی ان سے اس ضمن میں کوئی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ انہیں برطانوی پولیس کی ہدایت پر آسٹریلوی پولیس نے گزشتہ ہفتے آسٹریلیا کے برِسبین انٹرنیشنل ائر پورٹ پر گرفتار کیا تھا۔ قانونی اور سماجی تنظیموں نے محمد حنیف کے معاملے میں استعمال کیئے جانے والے انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ قوانین پر تنقید کی ہے۔ 2004 میں بننے والے ان قوانین کے تحت ایک مجسٹریٹ سے اجازت کے بعد پولیس ڈاکٹر حنیف کو غیر معینہ مدت کے لیے زیرِ حراست رکھ سکتی ہے۔ برِسبین ائر پورٹ سے گرفتاری کے بعد گزشتہ نو دونوں سے ڈاکٹر حنیف حوالات میں بند ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد آسٹریلوی پولیس نے مختلف شہروں میں کئی چھاپے مارے ہیں اور ڈاکٹر حنیف کے گھر اور دفتر کی جامع تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ ان تحقیقات میں 200 سے زائد افسران نے حصہ لیا ہے اور تیس ہزار سے زائد کمپیوٹر فائلز کا معائنہ کر رہے ہیں۔ ان تحقیقات کا تعلق برطانیہ کے شہروں لندن اور سکاٹ لینڈ میں گزشتہ ہفتے ناکام ہونے والے مشتبہ خودکش کار بم حملوں سے ہے اور اب تک برطانیہ اور آسٹریلیا میں میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں لندن کار بم: آسٹریلیا میں چھاپے06 July, 2007 | آس پاس جلتی ہوئی جیپ ہوائی اڈے میں30 June, 2007 | آس پاس لندن بمبار، تلاش کا دائرہ وسیع30 June, 2007 | آس پاس لندن: ایک اور کار بم برآمد29 June, 2007 | آس پاس مرکزی لندن،دھماکہ خیز مواد برآمد29 June, 2007 | آس پاس پکڑے جانے والوں میں دو ڈاکٹر01 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||