BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 18:44 GMT 23:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سبیل احمد پر الزامات عائد
ڈاکٹر سبیل احمد
ڈاکٹر سبیل احمد کو پیر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا
لندن اورگلاسگو میں دہشتگردی کےناکام حملوں کے سلسلے میں تیسرے شخص کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

برطانیہ میں26 سالہ ڈاکٹر سبیل احمد پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ان کے پاس جو اطلاعات تھیں جن سے دہشت گرد حملے کو روکا جا سکتا تھا۔

سبیل احمد کو پیر کو لندن کی عدالت میں پیش کیا جائےگا۔

اس سے قبل سنیچر کو آسٹریلیا کی پولیس نے ستائیس سالہ ہندوستانی ڈاکٹر محمد حنیف پر جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ برطانیہ میں بم حملوں کی کوششوں سے منسلک ہیں، باقاعدہ الزامات عائد کر دیئے۔

آسٹریلیا میں ایک پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ محمد حنیف پر ایک دہشت گرد تنظیم کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد حنیف کو دو جولائی کو برسبین کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ بھارت جانے والے تھے۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق ڈاکٹر حنیف پر الزام ہے کہ انہوں نے سبیل اور کفیل کو جو ان کے کزن ہیں، موبائل فون کی سِم فراہم کی تھی۔

اس سلسلے میں 6 جولائی کو عراقی ڈاکٹر بِلال تلال صمد عبداللہ پر دھماکہ کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔بلال کو گلاسگو ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک برائنٹ کا کہنا ہے اگر یہ الزامات عدالت میں ثابت ہوگئے تو ان کی زیادہ سے زیادہ سزا پچیس سال قید ہے۔

محمد حنیف
محمد حنیف پر بھی باقاعدہ الزامات عائد کر دیے گئے ہیں

محمد حنیف ان آٹھ افراد میں ایک ہیں جنہیں برطانیہ میں مبینہ حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ تمام افراد میڈیکل کے پیشے سے وابستہ ہیں اور محمد حنیف کے سوا باقیوں کو برطانیہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

اس سے قبل آسٹریلیا کی پولیس نے ڈاکٹر محمد حنیف کی حراست کی مدت بڑھانے کی درخواست واپس لے لی تھی۔

اس قدم کے بعد آسٹریلیا کی پولیس کے پاس پوچھ گچھ کرنے کے لیے اب محض آدھا دن بچا تھا جس میں یا تو انہیں محمد حنیف کے خلاف الزامات طے کرنا تھے یا پھر انہیں رہا کرنا تھا۔

گزشتہ ہفتے قانونی اور سماجی تنظیموں نے محمد حنیف کے معاملے میں استعمال کیئے جانے والے انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ آسٹریلوی قوانین پر تنقید کی۔ 2004 میں بننے والے ان قوانین کے تحت ایک مجسٹریٹ سے اجازت کے بعد پولیس ڈاکٹر حنیف کو غیر معینہ مدت کے لیے زیرِ حراست رکھ سکتی ہے۔

ادھر برطانیہ میں ان ناکام حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے سات لوگوں میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا ہے۔رہا کی گئی خاتون کا نام ماروا عشا ہے۔ وہ اردن کے ایک ڈاکٹر محمد عشا کی بیوی ہیں۔ محمد عشاء اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد