BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 July, 2007, 23:09 GMT 04:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹھواں شخص آسٹریلیا سے گرفتار
گلاسگو سے گرفتار شدہ ایک شخص
جلتی جیپ سے چھلانگ مارنے والا شخص پولیس کی حراست میں
برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ گلاسگو اور لندن میں دہشتگردی کی ناکام کارروائیوں کے حوالے سے مزید ایک شخص کو آسٹریلیا سے حراست میں لیا گیا ہے۔

برسبن میں اس شخص کی گرفتاری کے بعد ابھی تک حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ برسبن کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا جانے والا ستائیس سالہ شخص بھی ایک ڈاکٹر ہے اور وہ ایک یکطرفہ ٹکٹ پر ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اٹارنی جنرل فلپ رڈک کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی پولیس نے مشرقی کوئنزلینڈ کے علاقے ساؤتھ پورٹ میں واقع گولڈ کوسٹ ہسپتال کے علاوہ دیگر مقامات کی تلاشی بھی لی ہے۔ یہ وہ ہسپتال ہے جہاں زیرِ حراست ڈاکٹر بطور رجسٹرار کام کرتا تھا۔ اٹارنی جنرل کے مطابق گرفتارشدہ شخص آسٹریلیا کا شہری نہیں بلکہ رہائشی ہے۔

اس سے قبل سکاٹ لینڈ میں سٹریچڈیل پولیس نے پیر کی صبح پیزلی کے علاقے میں واقع رائل الیگزنڈرا ہسپتال کے رہائشی احاطے سے ایک اٹھائیس اور ایک پچیس سالہ شخص کوگرفتار کیا تھا۔

اسی سلسلے میں اتوار کو دوگرفتاریاں شمالی انگلینڈ کے علاقے چیسشائر سے کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ایک چھبیس سالہ شخص کو لِیور پول سے حراست میں لیا گیا تھا جبکہ دو افراد کو سنیچر کوگلاسگو ائرپورٹ پر ناکام حملے کے بعد جائے واردات سے پکڑا گیا تھا۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے اب دہشتگردی کی ان دونوں کارروائیوں کی تفتیش کی ذمہ داری سنبھال لی ہے اور گلاسگو ہوائی اڈے سےگرفتار شدہ عراقی ڈاکٹر بلال عبداللہ کو بھی اب لندن منتقل کیا جائےگا۔ پولیس کو گرفتار شدہ افراد کو سنیچر تک زیرِ حراست رکھنے کے لیے وارنٹ بھی جاری کر دیےگئے ہیں۔

حملے میں استمعال ہونے والی جیپ پرگزشتہ چند ہفتوں کے دوران کیے جانے والے سفر کا پتہ لگانے کی کوشش جاری ہے

بغداد سے سنہ 2004 میں طب کی تعلیم مکمل کرنے والے ڈاکٹر بلال عبداللہ کو لندن کے پیڈنگٹن گرین پولیس سٹیشن لایا جائے گا۔ یہی وہ پولیس سٹیشن ہے جہاں اردن سے تعلق رکھنے والے ایک اور ڈاکٹر آشا سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

اردن سے ہی طب کی تعلیم حاصل کرنے والے چھبیس سالہ ڈاکٹر آشا کو ایم 6 موٹروے سے ایک خاتون کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر آشا کی پیدائش سعودی عرب کی ہے جبکہ ان کے والدین کا تعلق عربِ اردن کے علاقے بیت اللحم سے ہے۔

دریں اثناء برطانیہ کے وزیرِ داخلہ جیکی سمتھ نے کہا ہے کہ وہ گلاسگو اور لندن میں ہونے والے ناکام بم حملوں کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات میں پیش رفت سے مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال پولیس نے تفتیش کے حوالے سے انیس مقامات کی تلاشی لی ہے۔

پولیس کی جانب سےگلاسگوحملے میں استعمال ہونے والی جیپ کےگزشتہ چند ہفتوں کے دوران سفر کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ آٹھ گرفتاریوں کے باوجود برطانیہ میں تاحال دہشتگردی کے خطرے کا درجہ اپنی انتہائی حد پر ہی ہے اور ملک کے اہم مقامات، ہوائی اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر کرے حفاطتی انتظامات کیےگئے ہیں۔

گلاسگو ائر پورٹ کے مرکزی ٹرمینل میں جلتی ہوئی جیپ لے کر گھسنے کا واقعہ سنیچر کی دوپہر پیش آیا تھا جبکہ اس سے قبل جمعہ کی رات کو لندن میں دو کار بموں کو ناکارہ بنایا گیا تھا۔

لندن کار بملندن کار بم
مرکزِ شہر میں گاڑی سے دھماکہ خیز مواد برآمد
امید کا ایک پودا
سات جولائی: بیسٹن سے ایک رپورٹ
محمد صدیق خانخودکش بمبار ’سِڈ‘
کس طرح مغرب زدہ نوجوان شدت پسند بنا
سمنتھا لندن بمبار کی بیوہ
’ریڈیکل مساجد نے شوہر پر برا اثر ڈالا‘
لندن پولیس250 سکیورٹی الرٹ
لندن حملوں کے بعد سینکڑوں الرٹ
مشتبہ بمباربمباروں کی نئی ویڈیو
پولیس نے مشتبہ بمباروں کی نئی تصاویرجاری کردی
محمد صدیق خانحملہ آور کون تھے
لندن بم دھماکوں میں ملوث کون اور کیا تھے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد