BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 01:24 GMT 06:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محمد حنیف پر الزامات عائد
محمد حنیف کے سوا سات دیگر افراد کو برطانیہ میں حراست میں لیا گیا تھا
آسٹریلیا کی پولیس نے ستائیس سالہ ہندوستانی ڈاکٹر محمد حنیف پر جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ برطانیہ میں بم حملوں کی کوششوں سے منسلک ہیں، باقاعدہ الزامات عائد کر دیئے ہیں۔

آسٹریلیا میں ایک پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ محمد حنیف پر ایک دہشت گرد تنظیم کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد حنیف کو دو جولائی کو برسبین کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ بھارت جانے والے تھے۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق ڈاکٹر حنیف پر الزام ہے کہ انہوں نے سبیل اور کفیل کو جو ان کے کزن ہیں، موبائل فون کی سِم فراہم کی تھی۔ ان دونوں افراد کو برطانیہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک برائنٹ کا کہنا ہے اگر یہ الزامات عدالت میں ثابت ہوگئے تو ان کی زیادہ سے زیادہ سزا پچیس سال قید ہے۔

ڈاکٹر حنیف کو سنیچر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان کے وکیل ان کی ضمانت کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

محمد حنیف ان آٹھ افراد میں ایک ہیں جنہیں برطانیہ میں مبینہ حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ تمام افراد میڈیکل کے پیشے سے وابستہ ہیں اور محمد حنیف کے سوا باقیوں کو برطانیہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

اس سے قبل آسٹریلیا کی پولیس نے ڈاکٹر محمد حنیف کی حراست کی مدت بڑھانے کی درخواست واپس لے لی تھی۔

اس قدم کے بعد آسٹریلیا کی پولیس کے پاس پوچھ گچھ کرنے کے لیے اب محض آدھا دن بچا تھا جس میں یا تو انہیں محمد حنیف کے خلاف الزامات طے کرنا تھے یا پھر انہیں رہا کرنا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق محمد حنیف گیارہ روز سے حراست میں ہیں لیکن گزشتہ ایک ہفتے سے ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے قانونی اور سماجی تنظیموں نے محمد حنیف کے معاملے میں استعمال کیئے جانے والے انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ آسٹریلوی قوانین پر تنقید کی۔ 2004 میں بننے والے ان قوانین کے تحت ایک مجسٹریٹ سے اجازت کے بعد پولیس ڈاکٹر حنیف کو غیر معینہ مدت کے لیے زیرِ حراست رکھ سکتی ہے۔

ادھر برطانیہ میں ان ناکام حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے سات لوگوں میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا ہے۔

رہا کی گئی خاتون کا نام ماروا عشا ہے۔ وہ اردن کے ایک ڈاکٹر محمد عشا کی بیوی ہیں۔ محمد عشا اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد