BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:دو فوجی،4شدت پسند ہلاک

کشمیر
گزشتہ دنوں ایک آپریشن میں نو شدت پسندوں کو مار گرایا گیا تھا
ہندوستان کی بری فوج کے نئے سربراہ جنرل دیپک کپور کی آمد پر کشمیر میں مختلف واقعات کے دوران مزید دو فوجی اہلکار اور چار مسلح شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوجی سربراہ ایک ایسے وقت وادی کے دورے پر آرہے ہیں جب فوج کے مطابق شمالی کشمیر کے ٹنگ مرگ علاقہ میں گزشتہ چند سال میں سب سے 'خطرناک' تصادم پیش آیا جس میں دو فوجی افسر، ایک جوان اور نو شدت پسند تیس گھنٹوں کی طویل معرکہ آرائی کے بعد ہلاک ہوگئے۔

اس معرکہ کے بعد نزدیکی قصبہ بانڈی میں بھی ایک شدید جھڑپ ہوئی جس میں فوج نے کالعدام تنظیم لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر سمیت دو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ جھڑپ میں ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوگیا تھا۔

تازہ واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے فوجی ترجمان نے بتایا کہ پانچ اور چھہ اکتوبر کی درمیانی شب پاکستانی لائن آف کنٹرول کے ساتھ لگنے والے شمالی کشمیر کے ٹنگڈار علاقے میں دراندازوں کے ایک مسلح گروپ کو سرینڈر کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے فائرنگ کی جس میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا۔

فوجی ترجمان کرنل ماتُھر نے بی بی سی کو بتایا کہ تصادم میں تین شدت پسند بھی مارے گئے۔

اس سے قبل جنوبی کشمیر کے شوپیان علاقہ میں بھی مسلح شدت پسندوں اور فوج کے مابین ایک تصادم کے دوران ایک شدت پسند کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ تصادم میں ترجمان کے مطابق ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا

 جنگلات اور کنٹرول لائن کے ساتھ ملحقہ دیہاتوں میں لوگوں کو یکم رمضان سے شروع کئے گئے آپریشن کی وجہ سے مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ ٹنگ مرگ آپریشن میں رنگاوالی گاؤں کے سینکڑوں مردوزن تیس گھنٹے تک کھلے آسمان تلے خوف کی گرفت میں تھے۔ اس آپریشن میں نومکانات فوجی کارروائی میں تباہ ہوگئے۔

اس کے علاوہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں بھی ایک جھڑپ ہوئی جس میں ایک فوجی افسر اور دو شدت پسند مارے گئے۔

یکم رمضان سے مسلح شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے جمعہ کے روز ہندوستان کے نئے فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور نے ریاست کا دوروزہ دورہ شروع کیا۔ سنیچر کو انہوں نے وادی کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ ، 'تشدد میں کمی نہیں ہوئی ہے۔‘

اس دوران جنگلات اور کنٹرول لائن کے ساتھ ملحقہ دیہاتوں میں لوگوں کو یکم رمضان سے شروع کئے گئے آپریشن کی وجہ سے مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ ٹنگ مرگ آپریشن میں رنگاوالی گاؤں کے سینکڑوں مردوزن تیس گھنٹے تک کھلے آسمان تلے خوف کی گرفت میں تھے۔ اس آپریشن میں نومکانات فوجی کارروائی میں تباہ ہوگئے۔

ادھر بانڈی پورہ، جہاں گزشتہ شب ہوئی جھڑپ میں دو شدت پسند اور ایک فوجی افسر ہلاک ہوگئے تھے، کے چِھٹے بانڈے گاؤں میں کئی روز سے فوجی محاصرہ جاری ہے ۔

محصور باشندوں عبدالکبیر لون اور غلام محمد لون نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’سات کنبوں پر مشتمل لون محلہ پچھلے چار روز سے محاصرے میں ہے اور لوگوں کو نہ نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور نہ سحری و افطار کی۔‘

تاہم مقامی فوجی یونٹ کے ایک افسر نے اس حوالے سے بتایا کہ مقامی امام مسجد نذیر احمد فوج کو مطلوب ہیں اور وہ فرار ہوگئے ہیں۔ مذکورہ افسر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے محاصرے کے دوران مولوی نذیر کے گھر سے ہتھیاروں کا زیر زمین ذخیرہ برآمد کیا ہے۔ پہرہ جلدی اُٹھا لیا جائےگا۔‘

اس سلسلے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج نے مولوی نذیر کی گرفتاری یقینی بنانے کے لئے ان کے نوجوان بیٹے مشیب لون کو حراست میں لے لیا ہے۔

آئیڈیل حل نہیں ہوگا
’کشمیر پر کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی‘
راجہ ذوالقرنین خانصدر کے’دورے‘
کشمیر میں صدر کے غیرملکی دورے
سردار عبدالقیوم خانسردار عبدالقیوم خان
’ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ہوجائےگا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد