BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: کانگریس کے کھوکھلے دعوے

غلام نبی آزاد
’بائیس ضلع کمشنروں میں سے انیس افسر ریاست سے تعلق رکھتے ہیں‘
ریاست جموں و کشمیر میں کانگریس کی قیادت والی مخلوط حکومت نے حال ہی میں جب بڑے فخر کے ساتھ یہ بیان دیا کہ ریاست میں پہلی بار انتظامیہ میں نوے فیصد مقامی افسروں کو تعینات کر کے یہاں کے لوگوں کی دیرینہ مانگ پوری کردی گئی ہے تو بیشتر عوامی اور سیاسی حلقوں نے اس پر حیرانگی ظاہر کرتے ہوۓ حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے بیان دینے سے پہلے صحیح طریقے سے اپنا ہوم ورک کیا کرے۔

وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کے اے ایس یعنی کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروس کے اعلیٰ افسروں کی ایک بڑی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی انتظامیہ میں انہوں نے نہ صرف نوے فیصد مقامی افسروں کو تعینات کیا ہے بلکہ پالیسی اور پلاننگ جیسے فیصلہ سازی کے اہم محکموں میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے آئی اے ایس افسروں کو بھی شامل کروا دیا۔

غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ ’چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہ کے اہم عہدوں پر اس وقت مقامی افسر براجمان ہیں اور بائیس ضلع کمشنروں میں انیس افسر ریاست سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

مقامی لوگوں نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہ گو کہ کشمیری ہیں مگر دونوں غیر مسلم ہیں اور انیس کمشنروں میں بیشتر کا تعلق جموں یا لداخ سے ہے جبکہ کشمیری مسلمان افسروں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب کا دو فیصد بھی نہیں ہے۔

آٹے میں نمک
 مسلمانوں کی پینسٹھ فیصد آبادی والی ریاست میں صرف دو فیصد مسلمان افسر ہیں جبکہ ہندوؤں کی تیس فیصد آبادی میں چھ فیصد ہندو افسر اور سکھوں کی دو فیصد آبادی میں تقریبا پانچ فیصد سکھ افسر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں
انڈین ایکسپریں

بھارت کے روزنامہ انڈین ایکسپریس کے ایک سروے کے مطابق مسلمانوں کی پینسٹھ فیصد آبادی والی ریاست میں صرف دو فیصد مسلمان افسر ہیں جبکہ ہندوؤں کی تیس فیصد آبادی میں چھ فیصد ہندو افسر اور سکھوں کی دو فیصد آبادی میں تقریبا پانچ فیصد سکھ افسر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

سماجی کارکن اور مصنف ڈاکٹر حمیدہ نعیم کہتی ہیں کہ ’حکومت بھارت اور اسکی پٹھو مقامی حکومتوں نے مہاراجہ کے دور سے چلنے والی اس پالیسی کو نام نہاد آزادی کے بعد بھی برقرار رکھا اور جان بوجھ کر کشمیری افسروں کو اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے سے دور رکھا۔ حکومت ہند بزور طاقت ریاست پر قابو رکھنا چاہتی ہے، جس کے لیے اسے ہمیشہ غیر مسلم افسروں کا سہارا لینا پڑا۔‘

حمیدہ نعیم بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’انیس سو اسی کی دہائی کے آخر میں مسلح تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی مرکزی حکومت اور بیشتر مقامی دفاتر ٹھپ ہو گئے، کیونکہ ان میں اکثریت غیر مسلم عملہ تھا جو بھاگ گیا۔‘

ریاستی حکومت نے حال ہی میں انتظامی ڈھانچے میں کافی رد و بدل کیا اور مزید افسروں کی اسامیاں بڑھائیں مگر بقول کالم نگار ارجمند حسین طالب اس کا براہ راست فائدہ غیر مسلم افسروں کو دیا گیا اور کشمیر سے باہر جموں ڈوڈہ اور لداخ کے باشندوں کو خالی عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ ’موجودہ وزیراعلیٰ جو خود ڈوڈہ سے تعلق رکھتے ہیں شاید مقامی کشمیریوں پر کم انحصار کرتے ہیں۔‘

آزادی کا خواب پالنے والوں نے بھی کئی معاملات کو نظرانداز کر رکھا ہے

بھارت کے سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیس نے انیس سو نوے میں کشمیر امور کا انچارج بنایے جانے کے بعد اعتراف کیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ کسی بیرونی ہاتھ سے پیدا نہیں ہوا بلکہ ’ہماری اپنی پالیسیوں کی وجہ سے یہ بارود کا ڈھیر بن گیاجس کا فائدہ اب دوسرے ملک اٹھارہے ہیں۔‘

انیس سو نوے میں مسلح تحریک شروع ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ریاست کی پوری انتظامیہ پر غیر کشمیری مسلمانوں کی بالا دستی تھی اور مسلم اکثریت والی اس ریاست میں فیصلہ سازی میں مسلمانوں کی نمائندگی برائے نام تھی۔

اس وقت ستر فیصد مسلم آبادی میں ہندو افسروں کی تعداد چوراسی فیصد تھی جبکہ ان کی آبادی صرف تیس فیصد تھی۔

بائیس آئی اے ایس افسروں میں سے صرف پانچ کشمیری مسلمان تھے اور اکاون فیصد ہندو افسر تھے۔ کشمیریوں کی نہ تو کوئی داد رسی سنتا تھا اور نہ بے روزگار نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر کسی کی توجہ مرکوز تھی جن میں بیشتر بندوق اٹھانے پر مجبور ہو رہے تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سن نوے میں بے روز گار گریجویٹسں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی جس میں اب کئی لاکھ کااضافہ ہوچکا ہے۔

وادی کے معروف صحافی صوفی غلام محمد موجودہ انتظامی ڈھانچے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک طرف کشمیریوں کو فیصلہ سازی سے دور رکھنے کی حکومت کی امتیازی پالیسی اور دوسری طرف بے روزگاروں کی بڑھتی ہوئی

سوِل سوسائٹی اور خفیہ ادارے
 وادی میں چونکہ سِول سوسائٹی کا وجود ابھی تک قائم نہیں ہوسکا ہے یا خفیہ اداروں نےقائم نہیں ہونے دیا لہذا حکومت بھارت یا اس کی حمایت یافتہ مقامی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف کوئی مؤثر آواز ابھی تک نہیں اٹھی ہے
تعداد کی وجہ سے نوجوانوں میں بے چینی کی لہر سے اندر ہی اندر ایک لاوا پک رہا ہے جو نہ جانے اب کونسی شکل میں کس طرح کا طوفان اٹھانے والا ہے۔ ’مگر بھارت کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو سدھارنے پر اب بھی راضی نہیں۔‘

وادی میں چونکہ سِول سوسائٹی کا وجود ابھی تک قائم نہیں ہوسکا ہے یا خفیہ اداروں نےقائم نہیں ہونے دیا لہذا حکومت بھارت یا اس کی حمایت یافتہ مقامی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف کوئی مؤثر آواز ابھی تک نہیں اٹھی ہے۔

مہاراجہ کے بعد مہاراجووں کی طرح ہی ہر حکومت اپنی مرضی کی پالیسیاں کشمریوں پر مسلط کرتی رہی ہے اور آزادی کا خواب پالنے والوں نے روزمرہ زندگی سے تعلق رکھنے والے سارے معاملات کو اس وقت تک زمین کے نیچے دبا دیا ہے جب تک وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے جس کی امید بیشتر کشمیریوں کوکم ہی دکھائی دے رہی ہے۔

کشمیر اسلحہ ڈپو
اسلحہ ڈپو کی آگ سے تیس ہزار متاثر ہوئے
کشمیر بس سروس ساٹھ سال کی جدائی
سری نگر مظفرآباد سروس عوام کے لیے بےاطمینانی
کشمیرکشمیر کے ساٹھ سال
’نفسیاتی مسئلے کا فوجی حل تلاش کیا جا رہا ہے‘
شبنم ہاشمی، سماجی رضاکار سماجی کارکن،انٹرویو
’ کشمیر میں فوج،انڈین جمہوریت کو خطرہ‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی مراکزپالیسی 'ان وزایبل'
فوجی موجودگی کو 'ان وزایبل' بنانے کے لیے
ناگر نگر قلعے کی واپسی
سرینگر، حول چھاؤنی کی منتقلی بیس سال بعد
کشمیرکشمیر: کتنے ہلاک؟
سترہ برسوں میں کتنے ہلاک، متضاد دعوے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد