BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محاصرہ ختم، 2 شدت پسند ہلاک

کشمیر فائل فوٹو
پولیس نے شدت پسندوں کو اس مسجد میں گھیر رکھا تھا
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے چرار شریف میں مسلح شدت پسندوں اور فوج کے مابین تیس گھنٹے جاری رہنے والے تصادم کے بعد ایک مسجد کا محاصرہ اتوار کی دوپہر کو ختم کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آپریشن میں دو مقامی مسلح شدت پسند مارے گئے ہیں، نیم فوجی عملے ایک اہلکار زخمی ہوا ہے اور مسجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ ہفتے کی صبح سے ہی سرینگر سے پچپن کلومیٹر دور چرارشریف علاقے میں فوج اور پولیس نے شدت پسندوں کو ایک مسجد میں گھیر رکھا تھا جس دوران طرفین کے مابین وقفہ وقفہ سے فائرنگ ہوتی رہی۔

ہفتے کی شام کو پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں مسجد میں پانچ مقامی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔متعلقہ ایس ایس پی عاشق حسین بخاری نے بی بی سی کو تازہ صورتحال کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ’آپریشن میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ مسجد کے تقدس کو نقصان نہ پہنچے‘۔

انہوں نے بتایا کہ’سنیچر کو رات گئے جب شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے تو ایک شدید جھڑپ کے بعد دو شدت پسند مارے گئے جبکہ سی آر پی ایف کا بھی ایک جوان زخمی ہوگیا‘۔

عاشق بخاری کا کہنا تھا کہ پہلی بار شدت پسندوں کے خلاف مارٹر گولوں کے بجائے اشک آور گیس استعمال کی گئی، جس سے مسجد کو منہدم ہونے سے بچایا گیا۔

پولیس نے آپریشن کےدوران کسی شدت پسند کے فرار ہونے کے امکان کو مسترد کیا

پولیس کا کہنا ہے کہ مارے گئے دونوں شدت پسندوں کا تعلق مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے ساتھ ہے۔ دونوں کی شناخت بطور خورشید احمد راتھر عرف زبیر اور نذیر احمد ڈار عرف عرفان کی گئی ہے۔

پولیس نے آپریشن کےدوران کسی شدت پسند کے فرار ہونے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ پانچ شدت پسندوں کے مسجد میں موجود ہونے کا اعلان مشاہدے کی بنا پر کیا گیا تھا ۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ’مسجد کے اندر سے فائر مختلف سمتوں سے آرہے تھے۔ کبھی یہ لوگ وضو خانے کے روشن دان سے گولی چلاتے تھے اور کبھی مسجد کی کھڑکیوں سے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعداد طے کرنا مشکل تھا‘۔

قابل ذکر ہے کہ پولیس نے آپریشن کے دوران صرف ایک اے کے سینتالیس رائفل، ایک پستول، ایک کاربائن گن اور کچھ گولیاں برآمد کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

آپریشن کے دوران چرار شریف کے گردونواح کا دو کلومیٹر علاقہ مسلسل محاصرے میں رہا۔ ایک مقامی رہائشی عبداللہ گنائی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ہم لوگوں کو فوج نے ایک ہی جگہ جمع کر رکھا تھا۔ رات بھر لوگ سردی سے ٹھٹھرتے رہے۔ افطار کرنے کی مہلت ملی نہ سحری کھانے کی۔ آج تو تقریباً پورا گاؤں بغیر سحری کے روزہ دار ہے‘۔

کشمیری عورت’ہم کہاں جائیں‘
ہندوستان میں مقیم کشمیریوں کی شکایات
لیز پر احتجاججموں کشمیر
کشمیر کی’نیلامی‘ پر شدید ردعمل
کشمیر: سالنامہ 06
فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد