مقامی نوجوانوں کی بالی ووڈ سے اُمیدیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں متعدد نوجوان اداکاری کے جوہر دکھانے کے لئے ممبئی کی فلم صنعت بالی ووڈ کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی کے پھیلاؤ اور مبئی فلم انڈسٹری میں بعض کشمیری نوجوانوں کی کامیابی اس نئے رجحان کا بنیادی محرک ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے بھی اکثر نوجوان فلم صنعت میں روزی روٹی کمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک صحیح معنوں میں ’کشمیری سنیما‘ پروان نہیں چڑھتا، کشمیریوں کا بالی ووڈ فلموں میں کام کرنا بے روزگاری کے روگ کو ختم نہیں کرسکتا۔ تئیس سالہ مزمل ابراہیم ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے ایسے پہلے کشمیری ہیں جنہوں نے کشمیرمیں جاری شورش سے متعلق بننےوالی نئی فلم ’دھوکہ‘ میں ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ’دھوکہ‘ کے پروڈیوسر معروف فلمساز اور ہدایت کار مہیش بھٹ ہیں جبکہ ان کی بیٹی جو خود اداکارہ رہی ہیں اس فلم کی ڈائریکٹر ہیں۔ مزمل نے بی بی سی کو ممبئی سے فون پر بتایا کہ ’بالی ووڑ میں ہرسال درجنوں کشمیری نوجوان قسمت آزمائی کے لئے آتے ہیں۔کشمیریوں کا لب و لہجہ، ان کے خوبرو انداز اور چال ڈھال برصغیر کے اعلیٰ معیار سے مد مقابل ہے، ہنر مند کشمیریوں کے لئے بالی ووڈ ایک بہترین وسیلہ روزگار ہے۔‘
بالی ووڑ فلموں میں کام کرنا کشمیری نوجوانوں کا دیرینہ شوق رہا ہے۔چند عشرے قبل طارق شاہ نامی ایک کشمیری نوجوان نے کئی فلموں میں ہیرو کا کردار نبھانے کے بعد اپنی فلمیں بنانا شروع کیا۔ اسی طرح سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے فرزند سجاد مفتی فی الوقت امریکہ میں ہیں جہاں وہ ہالی ووڈ کے جانے مانے سنیماٹوگرافر ہیں۔ معروف فلم ساز اور مقامی کیبل ٹی وی ’ٹیک ون ٹیلی ویژن‘ کے ڈائریکٹر زاہد منظور نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے تو نوجوانوں میں شوق تھا کہ فلموں میں کام کریں، لیکن اب تو وہ اسے پیشہ بنانا چاہتے ہیں۔ پھر بھی یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ فلم انڈسٹری میں جانے سے یہاں کی بے روزگاری ختم ہوجائے گی کیونکہ ممبئی تو سب جاتے ہیں لیکن بریک کسی کسی کو ملتا ہے۔‘ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی ٹی وی چینلوں پر ایسے کئی پرگروم نشر کیے جاتے ہیں جو نوجوانوں کو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں قسمت آزمائی کی تحریک دیتے ہیں۔ پچھلے سال مقامی کشمیری نوجوان قاضی توقیر نے سونی ٹیلی ویژن کے ایک معروف پروگرام کے طویل اور سنسنی خیز مقابلے میں فتح حاصل کر لی تھی۔
قاضی کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی عنقیرب بڑے پردے پر دکھائی دیں گے۔ دراصل اسی پروگرام سے ہی متاثر ہوکر یہاں کے مقامی کیبل چینل نے ’ٹیک ون سارے گا ما پا‘ مقابلہ شروع کیا، جس میں ابھی تک مسٹر زاہد منظور کے مطابق دو سو دس لڑکے لڑکیوں کو آزمائش کے مراحل سے گزارا گیا جبکہ سینتالیس نوجوانوں کو آخری مرحلے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اس مقابلے میں شامل ایک نوجوان قیصر احمد نے بتایا کہ ’ہمیں شوق تو تھا، لیکن ناممکن سالگتا تھا۔ لیکن جب ہم نے قاضی کو سونی ٹی وی پر گاتے دیکھا تو لگا کہ ہم بھی کرسکتے ہیں۔‘ کشمیر کے معروف اداکار اور فلم ساز ضمیر عشائی نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر کشمیر میں بھی کوئی ڈرامہ سکول ہوتا تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ سپر سٹار ہمارے ہی یہاں سے ہوتا۔‘ ماہرین کو اس حوالے سے یہ بھی خدشات ہیں کہ کشمیر کی مخصوص سماجی صورتحال کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں میں اداکاری کی رغبت مستقبل میں بہت بڑا معاشرتی مباحثہ بھی بنے گا۔ لیکن اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ اگر کشمیر میں مقامی سنیما کو فروغ دیا جائے تو یہاں بے روزگاری کافی حد تک قابو کی جاسکتی ہے۔
اس سلسلے میں معروف کالم نگار ارجمند حُسین طالب نے بتایا کہ ’فلم میں صرف اداکاری ہی نہیں، ایڈیٹنگ اور بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ اگر مقامی طور اس انڈسٹری کو فروغ دیا جائے تو کشمیریوں کو انٹرنیشنل ایکسپوژر ملے گا۔مقامی طور پر روزگار کا ایک وسیع میدان پیدا ہوجائے گا۔‘ وادی کے معروف فلم ساز، اداکار اور ہدایت کار ضمیر عشائی اور دیگر کئی پیشہ ور اداکاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حکومتی سطح پر فلم سازی اور اداکاری کو کیرئر کے طور متعارف کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا۔ ثقافتی موضوعات پر کام کا تجربہ رکھنے والے نوجوان صحافی طارق علی میر کہتے ہیں کہ ’یہاں کی تھیٹر ایسوسی ایشن نے نیشنل سکول آف ڈرامہ نئی دلّی کو تحریری طور یہ تجویز دی تھی کہ مقامی کشمیریوں کو مناسب تربیت دے کر پرموٹ کیا جائے، لیکن اس درخواست کو نظر انداز کیا گیا۔‘ کشمیریونیورسٹی کے میڈیا ایجوکیشن ریسرچ سینٹر کے سربراہ ناصر مرزا نے اس حوالے سے بتایا کہ ان کا شعبہ ہر سال منتخب طلبا کے ایک گروپ کو ممبئی سے ملحقہ پونا شہر کے فلم انسٹی ٹیوٹ بھیجتا ہے، جہاں وہ فلم سازی کے رموز سے مانوس ہوجاتے ہیں۔ مسٹر مرزا کہتے ہیں کہ ’ہم یہاں فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا یا ایف ٹی آئی آئی کے ماہرین کو بھی اکثر بلاتے رہتے ہیں، جو خواہش مند طلبا کو تربیت دیتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے شعبے سے فارغ کئی طلبا فی الوقت ممبئی میں چوٹی کے ہدایت کاروں کے معاون ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||