ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | میلے میں عالمی سطح پر اعزاز یافتہ چالیس دستاویزی فلموں کے ساتھ ساتھ دس کشمیری فلموں کی نمائش بھی ہو گی |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پہلی مرتبہ عالمی فلمی میلے کا آغاز کیا گیا۔ میلے کا اہتمام ریاست کی کلچرل اکادمی نے کیا ہے۔ ستائیس جون کو اس دو روزہ عالمی فلمی میلے کا افتتاح ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کیا۔ جھیل ڈل کے کنارے واقع انٹرنیشنل کنوینشن کمپلیکس میں جاری اس فلمی میلے میں عالمی سطح پر اعزاز یافتہ چالیس دستاویزی فلموں کے ساتھ ساتھ دس کشمیری فلموں کی نمائش بھی ہو گی۔ فلمی میلے کا مقصد بیان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس سے ریاست کی سیکولر اقدار اور مذہبی رواداری کو بہتر طریقے سے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔
 | کئی ملکوں کی فلمیں فلمی میلے میں بلغاریہ، ویتنام، ولندیز اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کی فلمیں دکھائی جا رہی ہیں |
فلمی میلے میں بلغاریہ، ویتنام، ولندیز اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کی فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔میلے کے افتتاح پر اشونی کمار کی فلم ’لِٹل ٹیرررسٹ‘ یا ’ننھا دہشت گرد‘ دکھائی گئی۔ اس فلم میں ایک نو عمر پاکستانی لڑکے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو غلطی سے سرحد عبور کر کے ہندوستان کی ریاست راجستھان پہنچ جاتا ہے۔
 | | | فلمی میلے کا مقصد عوام کے مختلف طبقوں کے درمیان حائل دیواروں کو گرانا ہے |
فلم ساز اشونی کمار کا کہنا ہے کہ ’فلم میں اس لڑکے کو باقی لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ایک ہندو ٹیچر اس کو پناہ دیتا ہے‘۔ کلچرل اکادمی کے سکریٹری ڈاکڑ رفیق مسعودی نے بی بی سی کوبتایا کہ ’اس فلمی میلے کا مقصد عوام کے مختلف طبقوں کے درمیان حائل دیواروں کو گرانا ہے اور اس سے نفرتیں اور غلط فہمیاں ختم ہوں گی‘۔’لِٹل ٹیرررسٹ‘ کے بارے میں مسعودی کا کہنا تھا کہ اس فلم سے معلوم ہوتا ہے کہ معصومیت کے جذبات کے آگے انسان کی تعمیر کردہ سرحدیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ میلے میں موجود فنون لطیفہ کی طالبہ صالحہ قریشی نے بتایا کہ ’عالمی معیار کی فلمیں دیکھنے کا موقع پہلی بار ملا۔ زندگی کو کس طرح تخلیقی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، یہ دیکھ کر تو ہمارے خیالات میں انقلاب آگیا‘۔
 | | | میلے میں غیر ملکی فلموں کے ساتھ ساتھ ملکی فلمیں بھی پیش کی جائیں گی |
کلچرل اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری طفر اقبال خان نے بی بی سی کو اس حوالے سے بتایا کہ یہ فلمی میلہ کشمیر میں موجود ٹیلنٹ کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری آرٹسٹوں اور فلم سازوں کو باہر کی تخلیقات دیکھ کر اندازہ ہوا ہوگا کہ فلم سازی میں ان کے لیے کتنا امکان ہے اور انہیں یہ احساس بھی ہو گا کہ کشمیر کو اس کے صحیح تاریخی، ثقافتی اور تمدنی پس منظر میں پیش کرنے کی ضرورت کس قدر ہے‘۔کشمیر میں اس فلمی میلے کا اہتمام ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب تشدد میں کمی ہے۔ حکومت سے وابستہ وزراء کا خیال ہے کہ یہ فلمی میلہ عوامی جذبات کو امن کے عمل سے منسلک کرنے میں بھی مددگار ہوگا۔ لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ پرتشدد واقعات اور روزانہ ہلاکتوں کے گراف میں ممکن ہے کمی آئی ہو لیکن زمینی حقائق جوں کے توں ہیں۔
 | یہاں کی زندگی اور مسائل پر فلمیں  ضروری ہے کہ یہاں کی زندگی اور لوگوں کو درپیش مسائل پر مبنی فلمیں بنائی جائیں اور ان کی بیرون ملک نمائش کی جائے  ارشد مشتاق |
کشمیری زبان میں پہلی فیچر فلم بنانے والے فلم پرڈیوسر ارشد مشتاق کا کہنا ہے کہ ’اس میں شک نہیں کہ پہلے عالمی فلمی میلے کے انعقاد سے شعور پیدا ہو گا لیکن ہمیں یہاں کے حالات پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہاں کی زندگی اور لوگوں کو درپیش مسائل پر مبنی فلمیں بنائی جائیں اور ان کی بیرون ملک نمائش کی جائے‘۔ |