ٹورونٹو: سکھوں کا فلمی میلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹورونٹو کے مشہور ازابیل بیدر سنیما میں سکھوں کا چوتھا سالانہ بین الاقوامی ’سپننگ ویل فلمی میلہ ‘ یعنی’چرخہ فلم فیسٹیول‘ شروع ہوگیا ہے۔ جمعہ سےشروع ہونے والے اس میلےمیں ان بھارت نژاد سکھ فلم سازوں کا کام دکھایا جائے گا جو کینیڈا ،امریکہ اور یورپ میں آباد ہو چکے ہیں۔ یکم اکتوبر تک جاری رہنے والے اس میلے میں سکھوں کی زندگی پر بنائی جانے والی اٹھائیس فلمیں پیش کی جا رہی ہیں ۔ میلے کا مقصد دنیا بھر میں سکھوں کی کہانیوں، ثقافت اور شناخت کو سکرین پر نمایاں کرنا ہے۔ اس میلے میں دستاویزی فلموں کی علاوہ فیچر فلمیں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ میلے کا مقصد سکھ فلمسازوں، فلم بینوں اور فلم کی تعلیم حاصل کرنے والے سٹوڈنٹس کو بھی ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ ڈائریکٹر رکیش لال کی فلم ’جیتا جٹ‘ بھی میلے میں شامل ہے۔ یہ ایک کلاسک پنجابی فلم ہے جس میں ایک دیہاتی کسان جیتا جٹ بلو نامی لڑکی کو بدمعاشوں سے بچاتا ہے۔ بعد میں جیتا جٹ اور بلو ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر روایتی پنجابی فلموں والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
فلم میکر رچی مہتا کی فلم ’تمام راستے یہاں آتے ہیں‘ بھی میلے شامل ہے۔ اس فلم کو اس سے قبل امریکہ کی کئی ریاستوں (کیلیفورنیا ، نیو یارک اور ہوائی) کے فلمی میلوں میں کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ اس فلمی میلے میں برطانیہ، امریکہ، کینیڈا کے علاوہ دنیا بھر سے سکھ فلم ساز اور ڈائریکٹر اپنی فلمیں نمائش کے لیۓ پیش کر رہے ہیں۔ مصنف، ہدایتکار اور فلم میکر ہرپریت کور کی فلم ’بیواؤں کی بستی‘ کو پہلے بھی ایوارڈ مل چکے ہیں ۔اس فلم میں ان سکھوں کی بیواؤں کو دکھایا گیا ہے جن کے خاوند انیس سو چوراسی میں سکھوں کے خلاف کارروائیوں میں مارے گئے ہیں ۔ فلم ان بیواؤں کی قربانیوں، ان کی انصاف کے حصول کے لیۓ جنگ اور بھارت میں زندگی گزارنے کے دوران درپیش مشکلات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔
ہدایتکار کوی راز کی بنائی ہوئی فلم ’گولڈن بریسلیٹ‘ کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۔اس فلم میں امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے سکھوں کی زندگی پر ہونے والے اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ میلے کی زیادہ تر فلموں میں آج کی امریکی اور یورپی زندگی کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ میلے کے دوران فن و ادب کے مقابلے بھی ہوں گے تاکہ سکھوں اور خصوصاً پنجابی کلچر میں درپیش مسائل اور روپذیر ہونے والے واقعات کو فلموں کے ذریعے اجاگر کیا جا سکے۔ فلمی میلے کے افتتاح کے موقع پر ایک خصوصی فلم ’دی پِیس ٹری‘ یعنی ’امن کا درخت‘ پیش کی جائے گی۔ یہ فلم ان دو چھوٹی بچیوں کی کہانی ہے جن کے مذاہب ایک دوسرے سے محتلف ہیں مگر وہ دونوں گہری سہیلیاں ہیں ۔ان دونوں کا خواب ایک دوسری کےمذہبی تہواروں میں شامل ہونا ہے۔ اس فلم کو ابھی تک سات بین الاقوامی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ اس فلم کو بنانے والی مترا سین کا تعلق ٹورونٹو سے ہے اور انہوں نے یارک یونیورسٹی سے فلم کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اس فلمی میلے کی منتظم تاجیندر کور ورک کا اس فلم کے بارے میں کہنا ہے کہ ’امن کے درخت‘ کا مشن دنیا میں مختلف مذاھب اور تہذیبوں کو آپس میں مل جل کر رہنے کا درس دینا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||