شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
 | | | تمل عوام سے زیادہ سنیما کا شوقین کوئی نہیں ہے |
ہالی ووڈ کی فلموں کی طرح ہندی فلمیں بھی اب پوری دنیا میں مشہور ہو چکی ہیں لیکن ہندوستان سے باہر کم لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ ہندی ہی کی طرح ملک میں تمل سنیما بھی وجود رکھتا ہےجو تکنیک اور آرٹ میں ہندی فلموں سی کسی طرح کم نہیں ہیں۔ تمل فلميں بھی ہندی فلموں کی طرح ڈھائی سے تین گھنٹے کی ہوتی ہیں۔ کہانی عام طور پر پیار و محبت کی ہوتی ہے ۔ وقفے وقفے پر نغمے بھی ہوتے ہیں۔ تمل فلم پروڈیوسرز کونسل کے صدر تیاگ راجن بتاتے ہیں کہ ’اگرچہ تمل فلمیں علاقائي ہیں لیکن تکنیکی اعتبار سے وہ بالکل ہندی فلموں کی طرح ہیں۔ تمل ناڈو میں تیلگو اور کننڑ کے علاوہ صرف تمل زبان میں ہر برس 100 سے زیادہ فلمیں بنتی ہیں۔ زبردست مسابقت کے باوجود تمل فلمیں اچھا بزنس کررہی ہیں‘۔ فلم کے نقاد اور مورخ تھیوڈر بھاسکرن کا خیال ہے کہ تمل عوام سے زیادہ سنیما کا شوقین کوئی نہیں ہے۔ ’تمل ناڈو میں سنیما دیکھنے کا شوق سب سے زیادہ ہے۔ اگر یہاں سنیما گھروں کی تعداد ، وہاں بکنے والے ٹکٹ اور تفریحی ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہاں کے باشندے سنیما سے سب سے زیادہ قریب ہیں‘۔ تمل سنیما کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ سیاست سے قریب رہا ہے۔ موجودہ وزیر اعلی جیہ للیتا اگر ایک مقبول ہیرو ئین رہ چکی ہیں تو حزب اختلاف کے رہنما کرونا ندھی ایک زبردست مکالمہ نگار رہے ہیں۔ ’ریاست کے ایک سیاسی رہنما پیٹر الفانس کہتے ہیں کہ فلم اور سیاست کا بہت گہرا تعلق ابتدا سے ہی ہے۔ ’فلم بہت طاقت ور میڈیم ہے اور یہ عوام تک پہنچنے کا سب سے تیز رفتار ذریعہ ہے۔ اس لیے فلم کو اکثر اداکاروں نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے شعوری طور پر استعمال کیا ہے‘۔ تمل اداکار اور معروف کامیڈین ایس وی شیکھر کا بھی یہی خیال ہے کہ پاور حاصل کرنے کا سب سے اچھا راستہ فلم ہی ہے۔ ’آپ اپنی مقبولیت کو سیاست میں آنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں کیا برائی ہے لیکن یہ عوام طے کريں گے کہ وہ آپ کو رہنما کے طور پر قبول کرتے ہیں یا نہیں‘۔
 | | | تامل اداکار ایس وی شیکھر |
تمل ناڈو ایک ایسی ریاست ہے جہاں بعض فلم اداکاروں کے مندر بنے ہوئے ہیں اور لوگ ان کی بھگوان کی طرح پوجہ کرتے ہیں۔ ان میں سب سے مقبول اداکار ایم جی رام چندرن ہیں۔ تمل فلمیں بھلے ہی تمل ناڈو تک محدود ہیں اور ان کی تعداد ہندی فلموں سے کم ہو لیکن تمل ناڈو میں ان کا جو اثر ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملے گی۔ تمل فلمیں صرف فیشن اور جذبات کوہی نہیں بلکہ پورے تمل معاشرے کو براہ راست متاثر کر رہی ہيں۔ کبھی سنیما کے پردے کے ذریعے تو کبھی اقتدار کے ایوانوں سے۔ |