BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 15:54 GMT 20:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھوکہ :مسلم پولیس افسر کی کہانی

فلم دھوکہ
فلم میں موجودہ دور میں مسلمانوں کی ذہنی حالت کی عکاسی کی کوشش کی ہے
فلم ’دھوکہ‘ ایک ایسے مسلمان پولیس افسر کی کہانی ہے جو اپنی مرحوم کشمیری بیوی پر لگے دہشت گرد کے ’لیبل‘ کو مٹانے کی جدوجہد کرتا ہے۔

فلم کے ذریعے فلمساز نے مسلمانوں کے تئیں ہندستان کی مرکزی اور ریاستی حکومت کی چند کڑوی سچائیوں کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔

ملک کی آزادی کی 60 ویں سالگرہ کی منسبت سے سترہ اگست کو نمائش کے لیے پیش ہونے والی یہ فلم ملک کے مسلمان اور سیکولر ذہن افراد کے لیے ایک تحفہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس فلم کی کہانی فلمساز مہیش بھٹ نے لکھی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ’ فلم کی کہانی ایک مسلمان پولیس افسر زید احمد کی ہے جس کی بیوی کشمیری مسلمان ہے‘۔

 دہشت گردی کا لیبل ہر مسلمان پر چسپاں کرنا غلط ہے۔مسلمان آج کل جس ذہنی کرب اور اذیت کے دور سےگزر رہے ہیں، فلم میں ان کی اسی ذہنی حالت کی عکاسی کی کوشش کی گئی ہے
مہیش بھٹ

ایک روز شہر کے نیو سینچری کلب میں بم دھماکہ ہوتا ہے، زید ساری رات اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں مصروف رہتا ہے۔ گھر آکر پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیوی بھی اسی دھماکہ میں ہلاک ہو چکی ہے،ابھی وہ اس غم سے سنبھل بھی نہیں پاتا ہے کہ اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کی بیوی کا تعلق دہشت گردوں سےتھا کیونکہ اس کے جسم پر پائے جانے والے زخم الگ قسم کے تھے۔

اس طرح اسے دہشت گردوں کا ساتھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ایک فرض شناس مسلمان پولیس افسر کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی بیوی پر عائد الزام کو مٹانے کی کوشش کے ساتھ اپنی بھی بقاء کی جنگ لڑتا ہے۔

بھٹ کو افسوس ہے کہ آج ہندستان میں مسلمانوں کو اپنے اوپر لگے دہشت گردی کے ’لیبل‘ کو مٹانے کی جنگ بھی لڑنی پڑ رہی ہے۔

مہیش بھٹ کہتے ہیں کہ’ایک تو مسلمان اور اس پر کشمیری، خود کو پاک صاف اور دہشت گردی سے الگ تھلگ ثابت کرنے کی مسلمانوں کی جدوجہد نے انہیں اس فلم کی کہانی لکھنے پر مجبور کیا‘۔

بھٹ کا دعوی ہے کہ انہوں نے اس فلم میں ریاستی اور مرکزی حکومت کے دہشت گردی سے لڑنے کے طریقہ کار کو حقیقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مہیش بھٹ
مہیش بھٹ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ فلم دوسری فلموں سے الگ ہے

بھٹ کا کہنا ہے کہ’ہندستان میں ہر برسراقتدار سیاسی پارٹی نے مسلمانوں کا استحصال کیا ۔ترقی کے نام پر انہیں دھوکہ دیا۔آج اس لیے انہیں باہر کے دہشت گردوں سے لڑنے کے ساتھ ملک کے اندر ان کے خلاف چل رہی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی ناانصافی کے خلاف بھی لڑنا پڑ رہا ہے ‘۔

حالیہ دنوں میں ہونے والے بم دھماکوں پر کئی فلمیں بن رہی ہیں۔گیارہ جولائی کے ٹرین بم دھماکوں پر دو فلمیں بن رہی ہیں۔لندن بم دھماکوں پر جگموہن منڈرا فلم بنا رہے ہیں۔

بھٹ کہتے ہیں کہ ان کی یہ فلم ساری فلموں سے علیحدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ میں نے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دہشت گردی کا لیبل ہر مسلمان پر چسپاں کرنا غلط ہے۔مسلمان آج کل جس ذہنی کرب اور اذیت کے دور سےگزر رہے ہیں، میں نے ان کی ذہنی حالت کی عکاسی کی کوشش کی ہے‘۔

فلم کی ہدایت کار مہیش بھٹ کی بیٹی پوجا بھٹ ہیں جبکہ ایک کشمیری ماڈل مزمل ابراہیم فلم کے ہیرو ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد