دھوکہ :مسلم پولیس افسر کی کہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم ’دھوکہ‘ ایک ایسے مسلمان پولیس افسر کی کہانی ہے جو اپنی مرحوم کشمیری بیوی پر لگے دہشت گرد کے ’لیبل‘ کو مٹانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ فلم کے ذریعے فلمساز نے مسلمانوں کے تئیں ہندستان کی مرکزی اور ریاستی حکومت کی چند کڑوی سچائیوں کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کی آزادی کی 60 ویں سالگرہ کی منسبت سے سترہ اگست کو نمائش کے لیے پیش ہونے والی یہ فلم ملک کے مسلمان اور سیکولر ذہن افراد کے لیے ایک تحفہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس فلم کی کہانی فلمساز مہیش بھٹ نے لکھی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ’ فلم کی کہانی ایک مسلمان پولیس افسر زید احمد کی ہے جس کی بیوی کشمیری مسلمان ہے‘۔ ایک روز شہر کے نیو سینچری کلب میں بم دھماکہ ہوتا ہے، زید ساری رات اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں مصروف رہتا ہے۔ گھر آکر پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیوی بھی اسی دھماکہ میں ہلاک ہو چکی ہے،ابھی وہ اس غم سے سنبھل بھی نہیں پاتا ہے کہ اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کی بیوی کا تعلق دہشت گردوں سےتھا کیونکہ اس کے جسم پر پائے جانے والے زخم الگ قسم کے تھے۔ اس طرح اسے دہشت گردوں کا ساتھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ایک فرض شناس مسلمان پولیس افسر کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی بیوی پر عائد الزام کو مٹانے کی کوشش کے ساتھ اپنی بھی بقاء کی جنگ لڑتا ہے۔ بھٹ کو افسوس ہے کہ آج ہندستان میں مسلمانوں کو اپنے اوپر لگے دہشت گردی کے ’لیبل‘ کو مٹانے کی جنگ بھی لڑنی پڑ رہی ہے۔ مہیش بھٹ کہتے ہیں کہ’ایک تو مسلمان اور اس پر کشمیری، خود کو پاک صاف اور دہشت گردی سے الگ تھلگ ثابت کرنے کی مسلمانوں کی جدوجہد نے انہیں اس فلم کی کہانی لکھنے پر مجبور کیا‘۔ بھٹ کا دعوی ہے کہ انہوں نے اس فلم میں ریاستی اور مرکزی حکومت کے دہشت گردی سے لڑنے کے طریقہ کار کو حقیقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
بھٹ کا کہنا ہے کہ’ہندستان میں ہر برسراقتدار سیاسی پارٹی نے مسلمانوں کا استحصال کیا ۔ترقی کے نام پر انہیں دھوکہ دیا۔آج اس لیے انہیں باہر کے دہشت گردوں سے لڑنے کے ساتھ ملک کے اندر ان کے خلاف چل رہی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی ناانصافی کے خلاف بھی لڑنا پڑ رہا ہے ‘۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے بم دھماکوں پر کئی فلمیں بن رہی ہیں۔گیارہ جولائی کے ٹرین بم دھماکوں پر دو فلمیں بن رہی ہیں۔لندن بم دھماکوں پر جگموہن منڈرا فلم بنا رہے ہیں۔ بھٹ کہتے ہیں کہ ان کی یہ فلم ساری فلموں سے علیحدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ میں نے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دہشت گردی کا لیبل ہر مسلمان پر چسپاں کرنا غلط ہے۔مسلمان آج کل جس ذہنی کرب اور اذیت کے دور سےگزر رہے ہیں، میں نے ان کی ذہنی حالت کی عکاسی کی کوشش کی ہے‘۔ فلم کی ہدایت کار مہیش بھٹ کی بیٹی پوجا بھٹ ہیں جبکہ ایک کشمیری ماڈل مزمل ابراہیم فلم کے ہیرو ہیں۔ | اسی بارے میں نئی فلم پاکستان میں: مہیش بھٹ28 June, 2006 | فن فنکار باب وولمر کی پراسرار موت پر فلم19 May, 2007 | فن فنکار اسٹرنگز کا جنون، مہیش بھٹ کی نظر08 December, 2005 | فن فنکار ' آوارہ پن' پاکستان کے لیے تیار23 June, 2007 | فن فنکار مہیش بھٹ کے دفتر پر فائرنگ14 June, 2006 | فن فنکار بھٹ کی نئی فلم، میرا کا انتخاب13 February, 2006 | فن فنکار ’مشترکہ فلم سازی ہونی چاہیے‘06 December, 2004 | فن فنکار فلم بھارتی: عکس بندی پاکستان میں19 October, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||