' آوارہ پن' پاکستان کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہیش بھٹ کی اب تک کی سب سے مہنگی فلم ’ آوارہ پن ' پاکستان کے شہر لاہور میں فیڈرل فلم سینسر بورڈ کے سامنے بدھ کے روز پیش ہوگی۔ سینسر بورڈ اگراس فلم کو پاس کر دیتا ہے تو فلم کی نمائش انڈیا کے ساتھ پاکستان میں بھی ایک ساتھ انتیس جون کو ہو سکتی ہے۔ فلم کے ہدایت کار موہت سوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق یا تردید سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ’ابھی انہیں اس سلسلہ میں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے‘البتہ یہ کہا کہ کسی اچھی خبر کے بعد ہی وہ بدھ کے روز اس سلسلہ میں بات کریں گے‘۔ اگراس فلم کو پاکستانی سینسر بورڈ نے منظور کر لیا تو شاید یہ فلم تاریخ کا حصہ بن سکتی ہے حالانکہ اس سے قبل سوہنی مہیوال، مغل اعظم اور تاج محل کی نمائش پاکستان کے سنیما گھروں میں ہو چکی ہے لیکن ان فلموں کی نمائش کی وجہ ان کا کسی نہ کسی طرح پاکستان سے رابطہ بتایا جاتا ہے۔ بھٹ کی یہ فلم بھی پاکستان کے ساتھ کئی طرح سے جڑی ہوئی ہے۔ بھٹ بالی وڈ میں آج کے دور کے ایسے فلمساز ہیں جنہوں نے اپنی فلموں میں پاکستانی فنکاروں اور وہاں کی صلاحیت کو انڈین فلموں سے روشناس کرایا۔ پاکستانی اداکارہ میرا ان کی فلم نظر میں ہیروئین بن کر آچکی ہیں اس کے بعد انہوں نے کئی گلوکاروں کو اپنی فلموں میں گیت گانے کا موقع دیا۔ فلم کی کہانی مہیش بھٹ کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔کہانی کے مطابق ایک ہندو لڑکا شیوم (عمران ہاشمی ) پاکستانی لڑکی ریما زیدی ( مرنالنی شرما) سے پیار کرتا ہے۔لیکن اس کی زندگی کا پہلا پیار عالیہ حامد ہے۔عالیہ کا کردار جنوب ہند کی ہیروئین شریہ سرن نے ادا کیا ہے۔ فلم میں پہلی مرتبہ سارے نغمے پاکستانی گلوکاروں مصطفے زاہد، اینی اور راحت فتح علی خان کی آوازوں میں ریکارڈ کئے گئے ہیں۔اس سے پہلے بھٹ نے اپنی فلموں زہر، کل یگ اور پاپ میں پاکستانی گلوکاروں سے گیت گوائے تھے جو انڈیا میں بے حد مقبول ہوئے تھے۔
فلم کی شوٹنگ لاہور کے علاوہ بنکاک، ہانگ کانگ اور جودھپور میں ہوئی ہے ہدایت کار سوری کے مطابق فلم میں دونوں ہیروئین چونکہ مسلمان لڑکیوں کا کردار نبھا رہی تھیں اس لیے فلم کے سیٹ پر ایک مسلم شخص کی خدمات حاصل کی گئی تھی جو انہیں نماز اور مسلم گھرانوں کے آداب سکھانے میں مدد کرے۔ فلم کی اوورسیز تقسیم کے اختیارات سٹوڈیو 18 کے پاس ہیں اگر پاکستان حکومت سے اس فلم کی نمائش کی اجازت مل جاتی ہے تو فلم ایک ساتھ انتیس جون کو نمائش کے لیے پیش ہو جائے گی۔ پاکستان میں اس سے پہلے فلم سوہنی مہیوال، مغل اعظم، تاج محل( فلمساز اکبر خان کی فلم جس میں پاکستانی نژاد سونیا جہاں ہیروئین تھیں جو پاکستانی گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کی پوتی بھی ہیں ) کی نمائش ہو چکی ہیں۔ | اسی بارے میں ایشوریا رائے کی فلم پاکستان میں14 November, 2004 | فن فنکار اسٹرنگز کا جنون، مہیش بھٹ کی نظر08 December, 2005 | فن فنکار پاک۔ہند ناٹک میلہ26 April, 2007 | فن فنکار مشترکہ فلم سازی، مگر کس کے ساتھ؟22 December, 2006 | فن فنکار اداکارہ میرا کو قتل کی دھمکیاں03 March, 2005 | فن فنکار تاج محل فلم بین نہیں کھینچ سکی28 April, 2006 | فن فنکار میرا کی ’نظر‘ کی بیس مئی سے نمائش19 May, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||