مہیش بھٹ کے دفتر پر فائرنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلمساز مہیش بھٹ کے جوہو میں واقع دفتر پر دو نامعلوم افراد نے گولیاں چلائی ہیں۔ بدھ کی صبح پیش آنے والے اس واقعہ میں دو نامعلوم افراد مہیش بھٹ کے دفتر میں گھس گئے اور انہوں نے وہاں موجود ملازمین سے مہیش بھٹ اور مکیش بھٹ کے بارے میں تفتیش کی اور جب پتہ چلا کہ وہ وہاں موجود نہیں ہیں تو ملازمین کو دھمکی دے کر انہوں نے ہوائی فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری ایک نجی ٹی وی چینل کے ذریعے ایک مافیا سرغنہ روی پجاری نے لی ہے۔ لیکن پولیس کے اعلٰی افسران کا کہنا ہے کہ وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ابھی تفتیش شروع ہوئی ہے۔ پولیس دفتر میں موجود ان ملازمین کے بیانات قلمبند کر رہی ہے جو اس وقت موجود تھے اور جنہیں ان نامعلوم افراد نے دھمکیاں دی تھیں۔ مہیش بھٹ اور ان کی بیٹی پوجا بھٹ نے اس بات سے انکار کیا کہ انہیں کبھی کسی طرح کی کوئی دھمکی ملی ہے۔ مہیش بھٹ کے بھائی مکیش بھٹ اس وقت دبئی کے آئیفا ایوارڈ فنکشن میں شرکت کے لیئے گئے ہیں۔ مہیش بھٹ کے قریبی دوست اشوک پنڈت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت جوہو پولیس اسٹیشن میں موجود تھے، مہیش بھٹ نے انہیں فون پر اطلاع دی اور وہ فورًا جوہو پولیس کے ہمراہ موقعہ واردات پر پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مہیش بھٹ ایک بے باک اور نڈر انسان ہیں اور انہوں نے ہمیشہ سماجی مسائل پر اپنی آواز اٹھائی ہے اس لیئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان پر کس وجہ سے حملہ ہوا ہے‘۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (نظم و نسق) اروپ پٹنائیک، ایڈیشنل پولیس کمشنر بپن بہاری اور ڈپٹی پولیس کمشنر (جرائم) دھنن جے کملاکر جوہو میں واقع مہیش بھٹ کے دفتر پہنچے۔ وہاں انہوں نے مہیش بھٹ کا بیان ریکارڈ کیا۔
اروپ پٹنائیک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ '’مہیش بھٹ نے یہ واضح کیا ہے کہ انہیں کہیں سے کبھی کسی طرح کی دھمکی نہیں ملی ہے اور نہ ہی کسی نے فون کیا تھا، وہ یہ نہیں جانتے کہ ان پر کس نے حملہ کرنے کی کوشش کی ہے‘۔ پٹنائیک نے بتایا کہ انہیں ذرائع ابلاغ سے ہی پتہ چلا ہے کہ روی پجاری نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن اس سے قبل بھی اس نے اس طرح کے حملہ کی ذمہ داری لی تھی لیکن تفتیش کے بعد وہ غلط ثابت ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مافیا ہمیشہ لوگوں میں دہشت پھیلانے کے لیئے اس طرح کا کام کرتے ہیں تاکہ آسانی کے ساتھ بھتہ لیا جاسکے۔ ’روی پجاری چھوٹا راجن سے علیحدہ ہونے کے بعد سے ممبئی میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی کوشش کر رہا ہو لیکن ابھی پولیس کسی طرح کا بیان نہیں دے سکتی‘۔ مہیش بھٹ کی حال ہی میں کئی فلمیں کافی مقبول ہوئی ہیں جن میں مرڈر، گینگسٹر وغیرہ شامل ہیں ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اگر یہ فائرنگ انڈرورلڈ کی جانب سے ہوئی ہے تو یہ ہفتہ وصولی کے لیئے ہو سکتی ہے۔ بالی وڈ فلمسازاور اداکار ہمیشہ سے انڈرورلڈ کے نشانہ پر رہے ہیں اس سے قبل بھی راکیش روشن سمیت کئی فلمسازوں پر فائرنگ کر کے انہیں دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اس لیئے کئی بڑے اسٹار یا تو پولیس تحفظ لیتے ہیں یا پھر اپنے ذاتی محافظ رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مافیا کی نظریں بالی وڈ میں پیسہ لگانے پر بھی رہتی ہیں ۔ کچھ برسوں قبل ممبئی پولیس نے فلمساز ناظم رضوی کو فلم ’چوری چوری چپکے چپکے‘ میں مبینہ طور پر انڈرورلڈ کا پیسہ لگانے کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا اور اسی سلسلہ میں فلم فائنانسر بھرت شاہ بھی گرفتار کیئے گئے تھے جنہیں بعد میں سپریم کورٹ سے رہائی ملی تھی- |
اسی بارے میں فیروز خان، پاکستان آنے پر پابندی18 May, 2006 | پاکستان براستہ بالی وڈ10 November, 2003 | فن فنکار بالی وڈ اور لالی وڈ کی دوستی01 October, 2004 | فن فنکار سونامی: لولی بولی ووڈ ستارے ساتھ 08 February, 2005 | فن فنکار لاہور کی فلم، تقسیم سے پہلے01 July, 2005 | فن فنکار سلمان رُشدی پاکستانی فلم میں03 May, 2006 | فن فنکار زلزلہ زدگان کے لیےشترو کا شو14 December, 2005 | فن فنکار ممبئی میں پاکستانی فلم کی شوٹنگ16 July, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||