فیروز خان، پاکستان آنے پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے انڈین ہدایت کار اور اداکار فیروز خان کو ’بلیک لسٹ‘ کرنے اور مستقبل میں پاکستان کا ویزا جاری نہ دینے کی ہدایت جاری کی ہیں۔ وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ فیروز خان کو پاکستان کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر بلیک لسٹ اور مستقبل میں پاکستان آنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیروز خان نے دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیئے تھے۔ فیروز خان تقریباً دو ہفتے قبل اپنے بھائی اکبر خان کی فلم تاج محل کی پاکستان میں نمائش کے سلسلے میں پاکستان آئے تھے۔ انڈین فلم تاج محل اور مغل اعظم کی پاکستان میں نمائش کی اجازت بھی صدر جنرل پرویز مشرف نے دی تھی۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق فیروز خان نے ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا لیکن یہاں مسلمان مسلمان کو ہلاک کر رہے ہیں۔ اے پی نے مقامی اخبارات کے حوالے سے کہا کہ تقریب میں موجود فیروز خان کے ساتھی اداکاروں نے فوراً ہی فیروز خان کے ان جملوں پر معافی طلب کی تاہم سکیورٹی ایجنسیز نے اس معاملے کی اطلاع حکومت کو دی۔ اے پی نے ایک سرکاری افسر کے حوالے سے کہا کہ فیروز خان نشے میں تھے اور اس حالت میں انہوں نے پاکستان کے خلاف توہیں آمیز الفاظ کہے۔ | اسی بارے میں تاج محل: بھارتی وفد لاہور میں25 April, 2006 | پاکستان تاج محل کیبل پر چلانے پر پابندی26 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||