کشمیری دستاویزی فلم ’جشن آزادی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں فلموں کے ذریعہ حالات کی عکاسی کا رجحان بڑھ رہاہے۔ کشمیری نژاد فلم ساز سنجے کاک کی دستاویزی تخلیق ’جشنِ آزادی‘ ظلم و تشدد میں پھنسے کشمیریوں کی روداد کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ اکتیس مارچ کو ٹیگور ہال میں سنجے کاک کی اس فلم کی نمائش ہوئی تو پورا ہال ناظرین سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ تاریخی لال چوک میں 15 اگست کے یوم آزادئ ہند کی تقریب فلم کا ابتدائی منظر ہے۔ اس میں مُٹھی بھر بی ایس ایف اہلکاروں کو بھارتی قومی ترانہ گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ منظر میں اگر کوئی بغیر وردی کے ہے تو وہ ہیں پریس فوٹو گرافر اور ٹی وی چینلوں کے نامہ نگار۔ عام دنوں میں عوامی سرگرمیوں سے چہکنے والا لال چوک اس روز سنسانی کی فضا میں ڈوبا ہوا ہے۔ حقیقت میں بھی پندرہ اگست کے روز لال چوک کا منظر سنجے کی فلم کے منظر سے مختلف نہیں ہوتا ہے۔ دوسرے منظر میں سرینگر کے مزار شہداء کے بیچوں بیچ ایک عمر رسید ہ شخص کو دکھایا گیا ہے جو اپنے بیٹے کی قبر تلاش کر رہا ہے۔ اپنے بیٹے کا جنازہ دیکھ چکے اس بدنصیب باپ کے اشک آور مکالمے فلم کو انتہائی جذباتی بنا دیتے ہیں۔ سنجے کاک نے فلم کے ذریعہ کشمیریوں پر پچھلی بیس سالہ شورش کے نتیجہ میں پڑنے والے اثرات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے سنجے نے بتایا کہ ’ابھی تو کشمیر کی کہانی کسی نے نہیں کہی، میری فلم تو اس بہت بڑی کہانی کا صرف ایک منظر ہے۔‘ ناظرین میں شامل ایک یونیورسٹی طالب علم ارشد احمد نے بتایا کہ ’بالی وڑ کے پروپیگنڈا سےسنجے کی فلم کا مقابلہ کیا جائے تو یہ ایک شاہکار ہے۔‘ ارشد کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی کمرشل فلموں میں کشمیر کی یکطرفہ تصویر اس انداز سے دکھائی جاتی ہے کہ تمام کشمیری ہندوستان میں مشکوک قرار پاتے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سترہ سال قبل نامساعد حالات کے دوران کشمیر چھوڑ کر چلے گئے پنڈت فرقے کی موجودہ حالات سے سنجے نے صرف نظر کیا ہے۔ تاہم سنجے اس بارے میں کہتے ہیں: ’میں نے کشمیر کی سیاسی آرزوؤں پر فوکس کیا ہے۔ جہاں تک پنڈتوں کا تعلق ہے تو قومی میڈیا میں اس پر اتنی زیادہ توجہ مرکوز ہے کہ اب وہ مبالغہ لگتا ہے۔‘ کشمیر یونیورسٹی میں انسانی حقوق اور عالمی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین بھی ٹیگورہال میں فلم کی نمائش کے دوران موجود تھے۔ ڈاکٹر حسین کا کہنا ہے کہ فلم میں ہندوستانی فوج کی موجودگی سے پیدا شدہ مسائل کا احاطہ صحیح پس منظر میں نہیں کیا گیا ہے اور ’ناظرین کو محض جذباتی نعروں سے بہلانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘ ان کا اشارہ آرمی کی طرف سے سرینگر کے نواح میں چلائے جارہے ایک یتیم خانہ ’مسکان‘ کی طرف تھا جسے فلم میں متعدد مناظر میں درشایا گیا ہے۔ ڈاکٹر حسین کہتے ہیں: ’روزانہ اسی ہزار بچوں کو خار دار تاروں سے ہوکر سکول جانا پڑتا ہے اور فوج روزافزوں سینکڑوں کنال اراضی پر قابض ہورہی ہے۔ اس ساری صورتحال سے یہاں کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ سنجے نے آزادی کے تصور کو معاشرتی فکر کا ناقابل تنسیخ حصہ کے طور پیش کر کے، لوگوں کے جذبات کی قدر کی ہے۔‘
کشمیری ڈرامے اور ڈیجیٹل فیچر فلم ڈارمہ کے ہدایت کار امین بٹ کا کہنا ہے کہ ’کشمیر میں ہر طرف سچی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ہمیں کردار گھڑنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، ہمارا سچ ہی اس قدر شدید ہے کہ ہمیں مبالغہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘ مسڑ بٹ نے ہی پچھلے سال فوج اور نیم فوجی دستوں کی بے پناہ موجودگی کے نتیجہ میں بڑھ چکی شناختی کارڈ کی اہمیت کو اپنے ڈرامہ ’آئی کارڑ‘ کا ٹیگور ہال میں ہی مظاہرہ کیا تھا۔ حال ہی میں نوجوان فلم ساز اور تھیٹر ہدایت کار ارشد مشتاق نے اٹھارہویں صدی کے کشمیر پر مشتمل ایک عشقیہ کہانی کے ذریعہ کشمیری زبان میں بنی فلم 'اکھ دلیل لولچ' میں ڈوگرہ شاہی کے مظالم کی تصویر کشی کی تھی۔ ’اکھ دلیل لولچ‘ یعنی محبت کی ایک کہانی کشمیر میں بننے والی پہلی ڈیجیٹل فیچر فلم ہے جسے لوگوں نے کافی سراہا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||