BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 August, 2005, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
۔۔۔کتنی برساتوں کے بعد

News image
بٹوارے کا اصل بوجھ عورتوں کو برداشت کرنا پڑا۔
1947 میں ہندوستان کی سر زمین پر ہونے والے فسادات جنوبی ایشیا ہی کا نہیں بلکہ تاریخِ انسانی کا سب سے گمبھیر سانحہ ہیں۔

آج تقسیمِ ہند کا واقعہ نصف صدی سے زیادہ پُرانا ہو چکا ہے لیکن بٹوارے کی کرپان نے جو گہرے زخم دِلوں پر لگائے تھے وہ اب بھی مندمل نہیں ہوۓ۔ ہزار سال تک اکھٹے زندگی بسر کرنے والے لوگ اچانک ہندو اور مسلمان کیسے بن گئے؟

ڈیڑھ کروڑ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیوں ہوئے؟
لاکھوں بے گناہ افراد تہِ تیغ کیوں کر دئیے گئے؟

اِن سوالات پر اٹھاون برس سے غور کیا جا رہا ہے۔ انگریزی، ہندی اُردو اور کئی دیگر زبانوں میں لاکھوں صفحات اس سوال کے جواب کی کھوج میں سیاہ کر دئیے گۓ ہیں __ لیکن یہ سوال آج بھی تشنہء جواب ہے۔

لاہور میں جدید تاریخ کے طالبِ علم فرخ۔اے۔ خان کو بھی یہ سوال پرِیشان کرتا رہا، اور تاریخ کے جانے پہچانے حوالے کھنگالنے لے بعد انھوں نے ایسے بزرگوں سے رابطہ کیا جنھوں نے آزادیء ہند کا ڈرامہ اپنی آنکھوں سے دیکھاتھا۔ اِن ملاقاتوں کے دوران ڈاکٹر خان نے محسوس کیا کہ بٹوارے کا اصل بوجھ تو گھریلو عورتوں کو برداشت کرنا پڑا تھا لیکن تاریخ کی کتابیں محض مشاہیر کے بیانات و اقوال سے پُر دکھائی دیتی ہیں چنانچہ ڈاکٹر فرخ خان نے ایسی عورتوں سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور تقسیم کے وقت اُن پر جو کچھ گزری تھی اسکا بیان اپنے کیمرے میں ریکارڈ کیا۔ اِن عورتوں میں پڑھی لکھی شہری خواتیں بھی ہیں اور ان پڑھ دیہاتی عورتیں بھی۔

News image
فلم ساز ڈاکٹر فرخ ۔اے۔ خان
وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو سمجھتی ہیں کہ ہندو اور مسلم گھرانے مِل جُل کر بہن بھائیوں کی طرح رہتے تھے لیکن سیاست دانوں نے اپنی دکان چمکانے کے لئے اُن میں پھوٹ ڈال دی اور اسی ڈاکومنٹری میں ان عورتوں سے بھی آپکی ملاقات ہوگی جو ذات پات کی منافرت اور ہندو پانی مسلم پانی کے ذِلّت آمیز تجربے سے گزری تھیں۔

ڈاکٹر خان کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ پاکستان نفرت کی مصنوعی دیوار کھڑی کر کے تعمیر کیا گیا تھا یا یہ کہ ہندو مسلم نفرت ایک حقیقت تھی اور اسکی جڑیں ہمارے معاشرے میں گہرائی تک گئی ہوئی تھیں۔

اس طرح کے کسی فوری نتیجے تک رسائی فلم کا مقصد ہی نہیں ہے۔ وہ تو ہمیں صرف یہ دکھا رہے ہیں کہ مطالعہء تاریخ کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر فرخ خان کا کہنا ہے کہ اِکیسویں صدی کا کلاس روم یقیناً اس لحاظ سے بہت مختلف ہو گا کہ اس میں مورخّوں کے بیان کردہ ’حقائق‘ کی جگالی ہی نہیں کی جائے گی بلکہ طلباء بہت سے حقائق کو اپنی آنکھوں کے سامنے سکرین پہ چلتے پھرتے ہیولوں کی شکل میں دیکھ سکیں گے اور بہت سے نتائج خود اخذ کر سکیں گے۔

ڈاکّر خان کو شکوہ ہے کہ ایک پاکستانی شہری ہونے کے باعث انھیں بھارتی علاقے میں جاکر آزادانہ ریسرچ کرنے اور وہاں کی بڑی بوڑھیوں سے مل کر ان کے خیالات معلوم کرنے کا موقع نہیں ملا اور جب تک وہ بھارتی خواتین کے خیالات ریکارڈ نہیں کرتے ان کی فلم یقیناً ادھوری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد