۔۔۔کتنی برساتوں کے بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1947 میں ہندوستان کی سر زمین پر ہونے والے فسادات جنوبی ایشیا ہی کا نہیں بلکہ تاریخِ انسانی کا سب سے گمبھیر سانحہ ہیں۔ آج تقسیمِ ہند کا واقعہ نصف صدی سے زیادہ پُرانا ہو چکا ہے لیکن بٹوارے کی کرپان نے جو گہرے زخم دِلوں پر لگائے تھے وہ اب بھی مندمل نہیں ہوۓ۔ ہزار سال تک اکھٹے زندگی بسر کرنے والے لوگ اچانک ہندو اور مسلمان کیسے بن گئے؟ ڈیڑھ کروڑ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیوں ہوئے؟ اِن سوالات پر اٹھاون برس سے غور کیا جا رہا ہے۔ انگریزی، ہندی اُردو اور کئی دیگر زبانوں میں لاکھوں صفحات اس سوال کے جواب کی کھوج میں سیاہ کر دئیے گۓ ہیں __ لیکن یہ سوال آج بھی تشنہء جواب ہے۔ لاہور میں جدید تاریخ کے طالبِ علم فرخ۔اے۔ خان کو بھی یہ سوال پرِیشان کرتا رہا، اور تاریخ کے جانے پہچانے حوالے کھنگالنے لے بعد انھوں نے ایسے بزرگوں سے رابطہ کیا جنھوں نے آزادیء ہند کا ڈرامہ اپنی آنکھوں سے دیکھاتھا۔ اِن ملاقاتوں کے دوران ڈاکٹر خان نے محسوس کیا کہ بٹوارے کا اصل بوجھ تو گھریلو عورتوں کو برداشت کرنا پڑا تھا لیکن تاریخ کی کتابیں محض مشاہیر کے بیانات و اقوال سے پُر دکھائی دیتی ہیں چنانچہ ڈاکٹر فرخ خان نے ایسی عورتوں سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور تقسیم کے وقت اُن پر جو کچھ گزری تھی اسکا بیان اپنے کیمرے میں ریکارڈ کیا۔ اِن عورتوں میں پڑھی لکھی شہری خواتیں بھی ہیں اور ان پڑھ دیہاتی عورتیں بھی۔
ڈاکٹر خان کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ پاکستان نفرت کی مصنوعی دیوار کھڑی کر کے تعمیر کیا گیا تھا یا یہ کہ ہندو مسلم نفرت ایک حقیقت تھی اور اسکی جڑیں ہمارے معاشرے میں گہرائی تک گئی ہوئی تھیں۔ اس طرح کے کسی فوری نتیجے تک رسائی فلم کا مقصد ہی نہیں ہے۔ وہ تو ہمیں صرف یہ دکھا رہے ہیں کہ مطالعہء تاریخ کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر فرخ خان کا کہنا ہے کہ اِکیسویں صدی کا کلاس روم یقیناً اس لحاظ سے بہت مختلف ہو گا کہ اس میں مورخّوں کے بیان کردہ ’حقائق‘ کی جگالی ہی نہیں کی جائے گی بلکہ طلباء بہت سے حقائق کو اپنی آنکھوں کے سامنے سکرین پہ چلتے پھرتے ہیولوں کی شکل میں دیکھ سکیں گے اور بہت سے نتائج خود اخذ کر سکیں گے۔ ڈاکّر خان کو شکوہ ہے کہ ایک پاکستانی شہری ہونے کے باعث انھیں بھارتی علاقے میں جاکر آزادانہ ریسرچ کرنے اور وہاں کی بڑی بوڑھیوں سے مل کر ان کے خیالات معلوم کرنے کا موقع نہیں ملا اور جب تک وہ بھارتی خواتین کے خیالات ریکارڈ نہیں کرتے ان کی فلم یقیناً ادھوری رہے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||