’فنا‘: سپریم کورٹ میں اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست گجرات میں عامر خان کی فلم ’فنا‘ کی نمائش پر عائد کی جانے والی پابندی کے خلاف فلمساز مہیش بھٹ نے سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی درخواست دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس درحواست کو سماعت کے لئیے قبول کر لیا ہے اور مہیش بھٹ سے اسی سلسلے میں کچھ دستاویزات طلب کی ہیں۔ مہیش بھٹ نےگجرات کی مقامی غیر سرکاری تنظیم ’جن سنگھرش سمیتی‘ کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ مہیش بھٹ بالی وڈ میں ہمیشہ سے ایک بےباک شخصیت کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں اور کئی سماجی تنظیموں سے بھی منسلک رہے ہیں۔ اپنی اس عرضداشت کے بارے میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’ایک خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے۔ کہیں نہ کہیں ان لوگوں کو روکنا ضروری ہے۔ میں جانتا ہوں کہ سچائی کا راستہ مشکل ہوتا ہے اور اس پر اکثر اکیلے چلنا پڑتا ہے۔ اس کا مجھے اچھی طرح تجربہ ہے۔‘ مہیش بھٹ نے کہا کہ ’عامر یہاں اب اکیلا نہیں ہے حالانکہ میرے اور اس کے تعلقات کچھ عرصہ سے اچھے نہیں تھے (فلم غلام میں مہیش بھٹ اور عامر کے تعلقات میں دراڑ آ گئی تھی) لیکن جب عامر کو نشانہ بنایا گیا تو میں برداشت نہیں کر سکا۔ آخر اس کا کیا قصور تھا اور یہ غنڈہ گردی کب تک چلے گی۔‘
بھٹ نے اپنے جمہوری اختیارات کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا: ’ایک جمہوری ملک میں مجھے اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے تو پھر عامر کو کس طرح کٹہرے میں کھڑا کر کے ذلیل کیا جا رہا ہے اور یہ حق انہیں کس نے دیا۔ بات صرف عامر یا یش چوپڑہ کی نہیں ہے ۔‘ جب فلم ’فائر‘ پر پابندی عائد کی گئی تھی تب بھی مہیش بھٹ نے دلیپ کمار اور جاوید اختر کے ساتھ مل کر اس وقت بھی عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت کی سرکاری ایجنسی کسی فلم کو منظور کر دیتی ہے تو پھر اس پر پابندی عائد کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ مہیش بھٹ نے کہا: ’میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سے چاہتا ہوں کہ وہ اب اچھی طرح واضح کرے کہ ہمارے اپنے حقوق کیا ہیں اور اگر اسے کوئی چھین لیتا ہے تو اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے۔‘ مہیش بھٹ کے ذریعہ داخل کی گئی عرضداشت سے بالی وڈ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہر کوئی اسی طرح کی کارروائی کے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن کسی نے ہمت نہیں کی تھی۔ فلمساز رومی جعفری کا کہنا تھا کہ دراصل لوگ ابھی تک چپ تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ معاملہ بات کے ذریعہ طے ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
جعفری نے کھل کر کہا کہ انہیں ’لگتا ہے کہ عامر ایک مسلمان ہے اس لیئے ان کے ساتھ بی جے پی جیسی سخت گیر ہندو نظریاتی پارٹی یہ سب کر رہی ہے‘۔انہوں نے اس کا جواز دیا کہ ’ارون دھتی رائے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں اور وہ نرمدا بچاؤ آندولن سے منسلک ہیں لیکن کسی نے ان کی کتابیں نہیں جلائیں تو پھر صرف عامر ہی کیوں؟ عامر خان نے بی بی سی کو حال میں دیے گئے ایک انٹرویو میں گجرات کے شہر ودودرہ میں ہونے والے فسادات کے بارے میں وہاں کی انتظامیہ کی پر تنقید کی تھی۔ بہت سے لوگ عامر سے بی جے پی کی ناراضگی کا سبب ان کے ودودرہ والے بیان سے منسوب کرتے ہیں۔ گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کھل کر سامنے نہیں آرہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے سرکاری طور پر فلم پر پابندی کے لیئے کہا ہے لیکن جو پارٹی اس کی مخالفت کر رہی ہے وہ اسی پارٹی کے لیڈر ہیں اورگجرات میں بی جے پی مودی کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔ |
اسی بارے میں ’پاکستان میں فلم بنانا چاہتا ہوں‘10 May, 2006 | فن فنکار شمالی علاقہ جات میں جھڑپیں25 April, 2006 | پاکستان عامر کی ’فنا‘ کی نمائش کھٹائی میں 23 May, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||