غلام نبی آزاد انتخاب جیت گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زير انتظام جموں کشمیر کے وزير اعلیٰ غلام نبی آزاد اسمبلی کے ضمنی انتخابات جیت گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے سب سے قریبی حریف کو اٹھاون ہزار ووٹوں سے شکست دی ہے ۔ کانگریس پارٹی کے رہنما غلام نبی آزاد نے پہلی بار ریاستی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔ سنہ دو ہزار دو میں اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی) میں اقتدار میں حصےداری کاایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق پی ڈی پی کے مفتی سعید کو تین سال تک وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات دینی تھيں اور پھر کانگریس کے رہنما کو وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالنا تھا۔ غلام نبی آزاد ریاستی اسمبلی کے رکن نہیں تھے اور آئین کے تحت اس صورت میں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر قائم رہنے کے لئے انہیں چھ مہینے کے اندر ریاستی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنی ہے۔ ریاست کے چیف انتخابی افسر بی آر شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاست میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی امیدوار نے اٹھاون ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسٹر آزاد کے انتخابی حلقے میں ووٹنگ تیرانوے فی صد ہوئی تھی۔ دوسری جانب سرینگر کے جنوبی علاقے میں واقع ایک سیاحتی ریزورٹ میں دستی بموں کا حملہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق حملے میں کم از کم بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پہلگام کے ایک بس اسٹیشن کے نزدیک شدت پسندوں نے فوجی دستوں پر گرینیڈ سے حملہ کیا ۔انہوں نے بتایا کہ سڑک پر دھماکہ ہونے کی وجہ سے حملے میں کئی عام شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ خبروں کے مطابق کم از کم آٹھ سیاح اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے اور اسے سرینگر کے ہستپال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں مفتی سعید کی جگہ غلام نبی آزاد27 October, 2005 | انڈیا ’علیحدگی پسندوں کو بھی شامل کریں‘16 August, 2005 | انڈیا کشمیر، مشرف کی تجاویز کا خیر مقدم02 November, 2004 | انڈیا کشمیر بس: تیاریاں زوروں پر16 March, 2005 | انڈیا بھارتی کشمیر کے وزیرِ تعلیم قتل18 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||