نہ عمرعبداللہ خوش نہ مفتی سعید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی مجوزہ آمد پر سیاسی حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ مبصرین کو حیرانی ہے کہ بھارت کی وزراتِ خارجہ کے سابق جونئر وزیر عمر عبداللہ اور ملک کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی جماعتوں نے اس مجوزہ دورے پر زبردست ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا ایک خصوصی وفد چودہ جون کو انڈیا کے زیرِ انتظام جموں وکشمیر کے بعض حصوں کا دورہ کررہا ہے ۔ اسرائیلی فوج کے ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف موشے کیپلینسکی کی سربراہی میں یہ وفد آٹھ جون کو ہندوستان پہنچا تھا۔ نئی دلّی میں اس فوجی وفد نے ہندوستانی بری فوج کے سربراہ جنرل جےجے سنگھ، بحری فوج کے چیف ایڈمرل سُریش مہتا، فضائیہ کے ائر چیف مارشل ایف ایچ میجر اور حکومت ہند کی وزارت دفاع کے سیکریٹری شیکھر دت کے ساتھ ملاقات کی۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق چودہ جون کو یہ وفد جموں کشمیر کے بعض حصوں کا دورہ کرے گا۔ اس دوران یہ وفد جموں کے ادھمپور ضلع میں تعینات انڈین افواج کی شمالی کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹینٹ تیج سپرو کے ساتھ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرے گا۔
شمالی کمانڈ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سات سو چالیس کلومیٹر لمبی اور چونتیس میٹر چوڑی کنٹرول لائن کی نگرانی کی ذمہ دار ہے اور پاکستانی جانب سے مبینہ دراندازی کے انسداد کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ کانگریس کی قیادت والے حکمراں اتحاد کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری نظام الدین بٹ نے اسرائیلی وفد کی آمد پر اپنے ردعمل میں کہا ہے: ’ہندوستان، اسرائیلی فوج کے ساتھ الائنس کا مظاہرہ کرکے جموں کشمیر کے مسئلے کو مذہبی اور نظریاتی رنگ دے رہا ہے، جو امن عمل کے منافی ہے۔‘ قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی کو ہندوستان کے سابق ہوم منسٹر مفتی محمد سعید نے سات سال قبل تشکیل دیا تھا۔ اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے مسٹر بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فلسطین بھلے ہی کبھی سیاسی مسئلہ رہا ہو، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں یہ اسلام اور یہودیت کے درمیان نظریات کی جنگ کے طور اُبھرا ہے۔ اور پھر اسرائیل کو مسلم دنیا مین قبلۂ اوّل کا قابض سمجھا جاتا ہے۔ جب ہندوستان اسرائیل کے فوجی سربراہوں کی میزبانی کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ کشمیر کے تنازعہ کو اسلامی آئڈیالوجی کے ساتھ منسلک کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہم برداشت نہیں کریں گے کیونکہ یہ حقائق کے خلاف ہے۔‘
ہندوستان کے سابق نائب وزیر خارجہ عمر عبداللہ کی تنظیم نیشنل کانفرنس نے بھی اسرائیلی فوجی وفد کےریاست کے مجوزہ دورہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی صدر ڈاکٹر محبوب بیگ نے اس مجوزہ دورے کو امن عمل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔ مسٹر بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ، ’ایک طرف ہندوستان اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکانزم کی بات کرتے ہیں اور دوسری اسرائیلی فوج کے ساتھ انسدادی منصوبوں پر بات کی جاتی ہے۔ یہ تو امن عمل کے لئے خطرہ ہے۔‘ بیگ کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا میں جموں کشمیر واحد خطہ ہے جہاں لوگ ہندوستانی یا پاکستانی فوج کے مظالم کی فریاد مغربی ایوانوں میں کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایسے دوروں سے اصل نظام حکمرانی سے دوری میں اضافہ ہوگا۔ جنوبی کشمیر میں قائم اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اسرائیلی فوجی وفد مدعو کرنے کو نئی دلّی کا ایک ’غیر سنجیدہ‘ اقدام کہتے ہیں۔ ان کا کہنا کہ حکومت ہند کو دیکھنا چاہئے تھا کہ مسلم اکثریتی ریاست میں اس کا کیا ردعمل کیا ہوگا۔‘ کشمیر یونیورسٹی میں انٹرنیشنل لاء اور انسانی حقوق کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین نے اس سلسلے میں بتایا کہ اسرائیلی فوجی وفد کا یہاں آنا غلط اشارہ دیتا ہے۔مسلح مزاحمتوں کے خلاف ان کا طریقہ نہایت خطرناک ہے، اور لوگوں کو جب یہ احساس ہوجائے کہ ہندوستان اور اسرائیل انسداد دہشت گردی کا مشترکہ بندوبست کرینگے تو ظاہر ہے خدشات پیدا ہونگے اور اس سے لوگوں میں مزاحمت کا رجحان بھی بڑھے گا کیونکہ فلسطین پوری مسلم دنیا کا جذباتی اِیشو ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر میں ہزاروں کا احتجاج27 December, 2006 | انڈیا فائر بندی کیلیے میر واعظ کی اپیل 04 February, 2007 | انڈیا دھماکہ: کشمیری خاتون بھی ہلاک19 February, 2007 | انڈیا فرضی تصادم: ایس ایس پی پر فرد جرم 28 February, 2007 | انڈیا کشمیر: 18 سرکاری ملازم برطرف11 March, 2007 | انڈیا کشمیر میں برفباری، زندگی مفلوج13 March, 2007 | انڈیا ترال: فوج کے خلاف مقدمہ درج13 March, 2007 | انڈیا ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پرغور15 March, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||