کشمیر: ’پندرہ شدت پسند ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر میں ماہِ رمضان شروع ہوتے ہی فوج اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان تصادم آرائیوں کا سلسلہ شدید ہوگیا ہے اور اب تک کم از کم پندرہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر پیر کو انڈین آرمی کی شمالی کمان کے سربراہ نے رمضان کے دوران شدت پسندوں کے خلاف سیز فائر کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ شمالی کشمیر میں ہونے والی تازہ جھڑپوں میں نو شدت پسند ہلاک جبکہ دو فوجی اہلکار اور تین شہری زخمی ہوگئے۔ اس سے قبل یکم رمضان کو فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تین مختلف جھڑپوں کے دوران چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ انڈین آرمی کے مقامی ترجمان کرنل انِل کمار ماتُھر نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی ضلع بانڈی پورہ کے دو الگ الگ مقامات پر فوج اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم ہوئے جن میں پانچ شدت پسند مارے گئے۔ مسٹر ماتُھر کا کہنا تھا کہ ’ایک جھڑپ بانڈی پورہ کے خیار گاؤں میں تلاشی مہم کے دوران ہوئی جس میں ممنوعہ عسکری گروپ ’جیش محمدی` کے دو شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ دوسرا تصادم بانڈی پورہ کے کُڈارہ جنگل میں اُس وقت ہوا جب فوج نے ہتھیار بند شدت پسندوں کا تعاقت کیا اور انہیں ہلاک کردیا۔‘ ترجمان کے مطابق ابھی تک لاشوں کو جنگل سے بازیاب نہیں کیا جاسکا ہے کیونکہ فوج کو شبہہ ہے کہ وہاں مزید شدت پسند ہوسکتے ہیں جو دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق جموں کے ضلع ڈوڈہ میں بھی ممنوعہ ’لشکر طیبہ‘ کے دو مسلح شدت پسندوں کو ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔ اس دوران فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کپوارہ میں کنٹرول لائن کے مژھل سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنا دی جس میں تین شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ تینوں جھڑپوں میں مارے جانے والے شدت پسندوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے تاہم فوجی ترجمان انِل ماتُھرکا اصرار ہے کہ یہ سب پاکستانی باشندے تھے۔ ادھر پولیس کے مطابق سوپور میں گزشتہ شب فوج کے ایک چھاپہ مار دستے پر جگنجوؤں نے اُس وقت گولیاں چلائیں جب فوجی اہلکار ایک مکان کا محاصرہ کرنے لگے۔ سوپور پولیس کے اے ایس پی امتیاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ کراس فائرنگ میں دو شہری بھی مضروب ہوئے۔ جموں میں فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ راجوری ضلع میں بھی تلاشی کاروائی کے دوران ہوئے تصادم میں ایک پاکستانی شدت پسند مارا گیا۔ جموں کے نگروٹہ میں قائم انڈین آرمی کی شمالی کمان، جو کنٹرول لائن کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے گزشتہ روز رمضان کے دوران شدت پسندوں کے خلاف سیز فائر کے امکان کو مسترد کیا۔ جنرل پناگ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور اس کے زیرانتظام کشمیر میں باون تربیتی کیمپوں میں چار سے پانچ ہزار کے درمیان مسلح شدت پسند کشمیر میں وارد ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اعتدال پسند حریت قائدین کے علاوہ ہند نواز نیشنل کانفرنس اور حکمراں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی رمضان کے دوران سیز فائر کی زبردست وکالت کی تھی۔اس حوالے سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے ریاستی سربراہ محمدیوسف تاریگامی اور دیگر ٹریک ٹُو رابطہ کار نئی دلّی اور سرینگر میں یکساں طور سرگرم رہے۔ لیکن جنرل پناگ کا کہنا ہےکہ ’سیز فائر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ تو سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے، لیکن جس طرح کے حالات ہیں ہمیں لگتا ہے کہ سیز فائر کرنا خطرے سے خالی نہ ہوگا۔ایسے میں تو ہم چاہیں گے کہ فوج کو مزید مضبوط کیا جائے تا کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کی جا سکیں۔‘ | اسی بارے میں انڈیا: کشمیری علماء کا نیا کردار16 September, 2007 | انڈیا سرینگر: کار بم دھماکہ، بارہ زخمی01 September, 2007 | انڈیا بھارتی کرنل، 10 شدت پسند ہلاک01 August, 2007 | انڈیا انڈین کشمیر: چار شدت پسند ہلاک17 July, 2007 | انڈیا کشمیر:چار مبینہ شدت پسند ہلاک04 June, 2007 | انڈیا اسلحہ ڈپو آگ، ہلاکتیں 20ہو گئیں14 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||