BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 October, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: دو میجرز سمیت 12 ہلاک

کشمیر
’اس آپریشن میں نو شدت پسندوں کو مار گرایا گیا‘
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بدھ کو ہونے والی ایک جھڑپ میں دو فوجی افسر ایک جوان اور نو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

شمالی کشمیر کے ٹنگ مرگ علاقے میں کنٹرول لائن کے ایک قریبی جنگل میں تیس گھنٹوں سے جاری اس جھڑپ میں ایک میجر سمیت پانچ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یکم رمضان سے شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ فوج اور شدت پسندوں کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچا۔ اس جھڑپ میں سات رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہوگئیں۔یاد رہے کہ دو روز قبل چرار شریف علاقے میں ایک مسجد کا محاصرہ کیا گیا تھا جس کے بعد جھڑپ میں دو مقامی شدت پسند مارے گئے تھے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے کنٹرول لائن عبور کرنے والے تیرہ مسلح دراندازوں کے ایک گروپ کو اتوار کی شب سے محصور کر لیا تھا اور پیر کی صبح ان کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

فوج کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل اے کے ماتُھر نے بی بی سی کو بتایا کہ’منگل کی صبح شروع ہونے والے اس آپریشن میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا اور بھارتی فوج کے میجر رمن اور میجر وِنے بھی جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے اور میجر آدِتیا سمیت پانچ فوجی زخمی ہوگئے‘۔ فوجی ترجمان نے باقی چار شدت پسندوں کے فرار ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انہوں نے زخمی حالت میں ملحقہ بستی میں پناہ لی ہوگی۔

’مارے گئے سبھی شدت پسند غیر مقامی ہیں‘(فائل فوٹو)

فوج کا کہنا ہے کہ مارے گئے سبھی شدت پسند غیر مقامی ہیں جن کا تعلق البدر مجاہدین کے ساتھ تھا تاہم ابھی تک کسی بھی مسلح شدت پسند گروپ نے اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

ٹنگ مرگ آپریشن سے متعلق فوج کا دعویٰ ہے کہ کنٹرول لائن کے گلمرگ سیکٹر سے مسلح شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد اتوار کی شب ہندوستانی زیرانتظام علاقہ میں دراندازی کی تاک میں تھی۔فوجی ذرائع کے مطابق جب یہ مسلح درانداز ٹنگ مرگ کے جنگلوں میں پہنچے تو فوج نے انہیں گھیرنے کی کوشش کی اور یہ تصادم ہوا۔

مقامی لوگوں کے مطابق کراس فائرنگ میں ایک شہری محمد رفیق کھٹانہ بھی زخمی ہوگئے۔ فوجی ترجمان نے مقامی لوگوں کے اس بیان کی تصدیق کی ہے کہ آپریشن میں رہائشی مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں۔ جائے واردات سے ملحقہ علاقہ کنزر کے رہنے والے عاشق حسین بٹ کا کہنا ہے کہ’رات کو لڑائی گاؤں میں پہنچ گئی اور سارا گاؤں خالی ہوگیا کیونکہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگ گئے‘۔

ادھر جنوبی ضلع پلوامہ کے لتر علاقہ میں فوج نے ایک مقامی شدت پسند فیاض احمد میر عرف جنید کو ایک آپریشن میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ پولیس کے مطابق جموں کے ڈوڈہ علاقے میں شدت پسندوں نے گھات لگا کر پولیس کے ایک گشتی دستے پر حملہ کیا جس میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد